8 ماہ پہلے عازمین حج کے106 ارب بنکوں میں منافع کون اٹھا رہا ہے قومی اسمبلی میں سوالات

15 فروری 2018

اسلام آباد (نوائے وقت نیوز) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے ملک میں حج کے انتظامات پر سوالیہ نشان لگا دیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ جب وہ وزیر مذہبی امور تھے تو ایک ٹور آپریٹر نے انہیں ایک کروڑ روپے رشوت کی پیشکش کی تھی۔ خورشید شاہ نے یہ بات قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہی جس کے بعد ملک میں حج کے انتظامات کے حوالے سے کئی سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔ پچھلے دورِ حکومت میں تقریبا 2 ہزار 800 نئی کمپنیوں کو بطور حج ٹور آپریٹر رجسٹر کیا گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک ٹور آپریٹر حج کوٹہ حاصل کرنے کے لئے ایک کروڑ روپے کی رشوت کی پیشکش کر رہا ہے تو وہ اپنا یہ نقصان کیسے پورا کرے گا؟ یقینی بات ہے کہ یہ اخراجات عازمین حج کے کھاتے میں ہی ڈالے جائیں گے۔ واضح رہے کہ حج پالیسی 2018 اور کوٹہ تناسب کے خلاف ٹور آپریٹرز کی قانونی چارہ جوئی کے باعث سرکاری حج سکیم کی قرعہ اندازی تاخیر کا شکار ہے اور پرائیویٹ حج سکیم کے تحت درخواستوں کی وصولی کا عمل بھی شروع نہیں ہو سکا ہے۔ ذرائع کے مطابق رواں سال سرکاری حج سکیم کے تحت تقریباً پونے چار لاکھ عازمین کی درخواستیں وصول ہوئی ہیں اور ان عازمین کے 106 ارب روپے مختلف بینکوں میں پڑے ہیں۔ ایک سوال یہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ آٹھ ماہ پہلے 106 ارب روپے بینکوں میں رکھ کر ان پر منافع کون اٹھا رہا ہے؟ ارکان پارلیمنٹ کا الزامات پر تحفظات کا اظہار وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے بھی اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں رشوت دینے کی کسی کو ہمت نہیں ہوگی۔ خورشید شاہ نے اس وقت کی بات کی ہوگی جب ان کی حکومت تھی۔ انہوں نے کہا کہ کوشش کر رہے ہیں کہ عازمینِ حج کو بھرپور سہولتیں فراہم کریں۔ اگر کسی کو شکایت ہے تو وہ وزارت سے رابطہ کرے۔ سردار یوسف نے وضاحت کی کہ جب تک قرعہ اندازی نہیں ہوتی پیسہ وزارت کے پاس نہیں آئے گا اور عازمینِ حج کی قرعہ اندازی ہونے تک پیسہ بینکوں میں ہی پڑا رہے گا۔