مسلم لیگ ن نے راولپنڈی شہر کو مسائلستان بنا دیا‘ محمد عارف عباسی

15 فروری 2018

راولپنڈی (رپورٹ: عزیز علوی + سلطان سکندر/ تصویر: ایم جاوید) تحریک انصاف کے رہنما اور پنجاب اسمبلی کے رکن محمد عارف عباسی نے کہا ہے کہ لودھراں ضمنی الیکشن کے نتائج کو مسلم لیگ نہ ضرور ایکسپلائٹ کرے گی۔ پی ٹی آئی کے امیدوار کی ناکامی 2016 ء کے ضمنی الیکشن میں جہانگیر ترین کی 45 ہزار ووٹوں سے کامیابی کے باعث غیرمعمولی خود اعتمادی اور شریف فیملی کی دو شوگر ملوں کے خلاف قانونی کارروائی پر گنے کے کاشتکاروںکو ن لیگ کی طرف سے اشتعال دلانے کا نتیجہ ہے جس کے منفی اثرات عمران خان کی طلسمی شخصیت اور تبدیلی کے نعرے کی وجہ سے 2018 ء کے عام انتخابات میں نہیں پڑیں گے۔ احتساب کے باعث ن لیگ کی پوزیشن مزید خراب ہو جائے گی۔ شیخ رشید احمد کے قومی اسمبلی کے دونوں حلقوں سے الیکشن لڑنے کے بارے میں حتمی فیصلہ پی ٹی آئی کی قیادت کرے گی تاہم کارکنوں کی خواہش ہے کہ انتخابی مہم کو ابھارنے کے لئے این اے 56 سے پارٹی امیدوار الیکشن میں حصہ لے۔ مسلم لیگ ن نے گزشتہ ساڑھے چار سال کے دوران راولپنڈی شہر کو مسائلستان بنا دیا ہے۔ صاف پانی‘ سیوریج‘ سکولوں اور ہسپتالوں کے مسائل میں اضافے کے باعث تعمیرو ترقی کے دعوے مضحکہ خیز ہیں۔ زیرزمین پانی 400 فٹ نیچے چلے جانے کی وجہ سے اگلے دس سال میں پانی کا بحران شدت اختیار کر جائے گا۔ پانی اور سیوریج کی پرانی لائنوں کی تبدیلی سے ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد آدھی رہ جائے گی۔ زچہ بچہ ہسپتال اور لئی ایکسپریس کے منصوبوں کو شیخ رشید کی مخالفت میں معرض التواء میں ڈال دیا گیا ہے۔ رنگ روڈ کے منصوبے کو نظرانداز کر کے غفلت کا مظاہرہ کیا گیا۔ ن لیگ کی تعمیرو ترقی‘ سٹریٹ لائٹس اور ٹھیکوں پر محیط ہے۔ میٹرو بس پر 48 ارب روپے کے اخراجات اور 61 لاکھ روپے ماہانہ سب سڈی کے باوجود مری روڈ پر ٹریفک کی صورتحال قابو سے باہر ہے۔ میٹرو بس پر ایک فیصد عوام سفر کرتے ہیں ان خطیر فنڈز کے ذریعے شہر میں تعلیم‘ پانی‘ سیوریج‘ صحت اور تعلیم کے نظام کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ گزشتہ ساڑھے چار سال میں پی پی 13 کے اجتماعی مسائل‘ پانی اور سیوریج کی لائنوں کو تبدیل کرنے کے بارے میں میرے پنجاب اسمبلی میں مطالبات منظور کئے گئے اور نہ ہی پانچوں بجٹ میں مجھے ایک ارب کا ترقیاتی فنڈ دیا گیا جبکہ سکیمیں اور فنڈز ن لیگ کے ہارے ہوئے امیدواروں کو دی گئیں۔ بدھ کے روز ایوان وقت میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ راولپنڈی شہر اور کینٹ کا سب سے بڑا مسئلہ پانی کی قلت اور آلودگی کا ہے جو اگلے دس سال میں گھمبر شکل اختیار کر جائے گا۔ راولپنڈی کو کوہالہ مری یا غازی بروٹھہ سے پانی فراہم کیا جائے۔ شہر میں زیرزمین پانی نیچے چلے جانے کی وجہ سے جتنے ٹیوب ویل لگائے جا رہے ہیں اس سے زیادہ ٹیوب ویل بیٹھ رہے ہیں۔ پانی اور سیوریج کی پرانی اور بوسیدہ لائنیں آپس میں مکس ہو رہی ہیں۔ تینوں سرکاری ہسپتالوں کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔ غریب لوگوں کو ہسپتالوں کی بجائے نجی لیبارٹریوں کا رخ کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ہسپتالوں میں پرچی اور پارکنگ کے اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں۔ رنگ روڈ کا پرانا منصوبہ راولپنڈی کی معیشت کے لئے نئی زندگی ثابت ہوتا جس پر حکومت نے سنجیدگی سے توجہ نہیں دی۔ شہر میں آدھے ٹیوب ویل کام نہیں کر رہے۔ شیخ رشید کی مخالفت میں لئی ایکسپریس اور زچہ بچہ ہسپتال کے منصوبے کو کھٹائی میں ڈال دیا گیا۔ پی پی 13 میں پینے کے پانی کی زنگ آلودہ لائنوں اور پرانے سیوریج سسٹم کو تبدیل کرنے کے مطالبات پر حکومت نے کوئی توجہ نہیں دی۔ میرے حلقے میں ایک سکیم بھی منظور نہیں کی گئی۔ این اے 56 میں لوگ آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔ فلٹر پلانٹ تبدیل کئے جاتے ہیں نہ ٹیوب ویلوں کا پانی چیک کیا جاتا ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی عام انتخابات کے لئے تیار ہے۔ کارکنوں کو عمران خان کی قیادت کے ساتھ جنون کی حد تک لگاؤ ہے تنظیم سازی کا کام تکمیل کے مرحلے میں ہے۔