ایک تصویر ایک کہانی……

15 فروری 2018

لاہور شہر میں ٹریفک کا مسئلہ دن بدن بگڑتا جا رہا ہے۔ آپ جس روڈ پر بھی چلے جائیں راستہ نہیں ملتا۔ وارڈن ڈیوٹی پر ہوتے ہیں مگر زیادہ کی تعداد فون سننے میں مصروف ہوتی ہے جگہ جگہ تجاوزات کھڑی ہیں۔ لاہور جیسے شہر میں دکانوں کے باہر سامان پڑا ہوا ہے۔ جس کیلئے سخت آپریشن کرنے کی ضرورت ہے۔ شہری ڈپریشن کا شکار ہو رہے ہیں۔ ایکسیڈنٹ معمول بن چکے ہیں۔ ایمبولینس لائن میں لگی رہتی ہیں۔ جین مندر سے قذافی سٹیڈیم تک فیروز پور روڈ جام رہتا ہے۔ سی ٹی او بھی ٹریفک جام سے پریشان ہیں اور وارڈنز کو شو کار نوٹس کی بھرمار کر رہے ہیں۔ عدلیہ کے حکم پر بیرل اور بڑے بڑے پتھر اٹھانے سے شہریوں کو کچھ سکون کا سانس مل گیا ہے۔ (فوٹو: عابد حسین)