12فروری کا دن پاکستانی خواتین کیلئے اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے

15 فروری 2018

اسلام آباد(خبر نگار)پوٹھوہار آرگنائزیشن فار ڈویلپمنٹ ایڈووکیسی (پودأ) انسانی حقو ق کا ادارہ ہے جو پاکستان کے دیہی علاقوں میںعورتوں کی معاشی و سیاسی ترقی کے لئے سرگرم َعمل ہے۔ یو ایس ایمبیسی کے پبلک افئیر سیکشن کے تعاون سے پوٹھوہار آرگنائزیشن فار ڈویلپمنٹ ایڈووکیسی (پودأ) لڑکیوں اور خواتین کو با اختیار بنانے اور صنف کی بنیاد پر تشدد کی روک تھام کے لئے کام کررہا ہے اس سلسلے میں12فروری کوـ"خواتین کا قومی دن " منانے کا انعقاد کیا گیا ہے ۔ جس میں وکلاء ، سول سوسائٹی ، اساتذہ ، میڈیا اور خواتین کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔محترمہ کوکب جہاں ایگزیکٹو ڈائریکٹر پودا نے بیان کرتے ہوئے کہا 12فروری کا دن پاکستانی خواتین کے حقوق کی جدو جہد کے حوالے سے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اس دن کی کڑی آج سے 34سال پہلے کے ایک واقعے سے منسلک ہے جب 12فروری 1983کو لاہور ہائی کورٹ کے سامنے خواتین ، وکلاء ، اساتذہ ،ادیب، شعراء ا ور پاکستانی حقوق کے کارکنوں اور پنجاب وکلاء خواتین کے حقوق کی تنظیموں نے ضیا ء الحق کے نافذ کر دہ مار شل لاء کے خلاف جلو س نکالا۔ یہ احتجاجی جلوس اس وقت پاکستان میں لگی ہوئی جبری پابندیوں حدود آرڈیننس اور عورتوں کے خلاف امتیازی قوانین مثلاًقانون شہادت کے خلاف کیا گیا۔اس پُر امن مظاہرے پر پنجاب پولیس اور خفیہ ایمرجنسی کے اہلکاروں نے بھرپور تشدد کیا اور نہتے عوام پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا ۔ خواتین کو متحد ہونے کے لیے پلیٹ فارم مہیا کیا تاکہ وہ اپنے حقوق کی بازیابی کے لیے جدو جہد کر سکیں۔ کوکب جہاں نے مزید کہا کہ ہمیں صنفی امتیاز ختم کر نا ہو گا انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ صنفی تشدد بھی معاشرے میں تشدد کو بڑھاتا ہے انہوں نے دیہی علاقوں میں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لئے زیادہ تر وسائل کو مختص کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ ملک کی نامور وکیل سرکار عباس ، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان نے کہا کہ 12فروری کا دن پاکستان میں جبری قوانین اور مارشل لاء کے خلاف مزاحمت کی ایک علامت ہے ۔ خالدہ سلیمی ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر سچ نے کہا کہ خواتین کے حقوق کی ترقی کے سفر میں گذشتہ 34سال میں کئی نشیب و فراز آئے ہیں۔آج بھی وہ غیرت کے نام پر قربان کی جاتی ہیں ، ملک کی مایہ ناز شاعرہ و ادیب کشور ناہید کی نظم "ہم گناہ گار عورتیں "جو کہ 12 فروری1983پر ہی لکھی گئی تھی مس کنول افتخار نے اپنی پر کشش آواز میں گائی اور اندو جی کی طالبعلم ڈاکٹر فریال عمل اسلم نے کتھک ڈانس میں پر فارمنس دی۔ تمام لوگ معاشرے کی بہتری کے لئے اپنا اپنا کردار اداکریں ۔ تمام شرکاء نے عاصمہ جہانگیر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ایک منٹ خاموشی اختیار کی اور ان کی انسانی حقوق ، جمہوریت اور سماجی انصاف کی طویل جدوجہد کو سراہا ۔

سی پیک… اہم سنگ میل

1960ء کی دہائی کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو پاکستان زرعی معاشی، اقتصادی ، ...