نظام صلوۃ کا نفاذ جبر سے نہیں ترغیب سے کرنا چاہتے ہیں‘ سردار یوسف

15 فروری 2018

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی) وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ اسلام آباد کی 615مساجد میں سے 606مساجد نے یکساں اوقات میں اذان اور نماز پر اتفاق رائے کر لیا ہے جو بہت بڑی کا میابی ہے، معاشرے میں اسلامی شعار کی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ،نظامِ صلوٰۃ کا نفاذ جبر سے نہیں بلکہ ترغیب سے کرنا چاہتے ہیں،نظامِ صلوٰۃ کمیٹی کو اسلام آباد کی 50 یونین کونسلز کی سطح تک لے جائیں گے۔ وہ گذشتہ روز وزارت مذہبی امور میں نظام صلوۃ کمیٹی کی صدارت کر رہے تھے ۔ اجلاس میں نظامِ صلو ۃ کمیٹی کے اراکین، علما کرام، انجمن تاجران، وزارتِ داخلہ، ضلعی انتظامیہ، محکمہ اوقاف، سول سوسائٹی، چیئرمین یونین کونسلوں نے شرکت کی ،اجلاس میں نظامِ صلو پر تازہ ترین پیش رفت، مسائل اور تجاویز پر تبادلہ خیال کیا ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر مذہبی امور کا کہناتھا کہ حکومتیں بدلتی ہیں اللہ کا حکم نہیں ، معاشرے میں نماز کی ترویج اولین ترجیح ہے خواہش ہے کہ ہمارے معاشرے میں نظامِ صلوۃ جاری و ساری رہے، انہوں نے کہا کہ تمام مسالک کے علما کا اذان اور نماز کے یکساں اوقات پر متفق ہونا بڑی کامیابی تھی۔ سردار یوسف نے کہا کہ مسالک کے اختلاف کے باوجود اذان و نماز کا یکساں کیلنڈر ترتیب دینا بڑی کامیابی ہے جی ایٹ ، آئی نائن مراکز میں نظامِ صلوۃ پر اسی ہفتے عمل درآمد شروع ہوجائے گا ، اس موقع پر شرکاء نے تجاویز دیں کہ تاجر برادری سمیت سکولوں ، کالجوں، بینکوں اور سرکاری اداروں میں وقفہ برائے نماز ہونا چاہیئے ،نمازِ جمعہ کے وقت تفریح گاہیں ، ہوٹل بند ہونے چاہئیںجب کہ اس کے علاوہ تمام نیوز چینل کمیٹی کے مقررہ اوقات میں اذان نشر کرنے کا اہتمام کریںنظامِ صلو ۃکو دوسرے شہروں میں بھی جاری کیا جائے اور میڈیا کے ذریعے عوام کو آگاہی دی جائے ، اس کے علاوہ نمازِ جمعہ کی بہتر ادائیگی کیلئے جمعہ کی چھٹی کو بحال کیا جائے۔