پی آئی اے طیارہ حادثہ‘ شہداء کے لواحقین کی ہائیکورٹ میں درخواست

15 فروری 2018

اسلام آباد ( وقائع نگار) پی آئی اے کے حویلیاں میں تباہ ہونے والے طیارے کے شہدا کے لواحقین نے حادثے کی تحقیقات کے لیے خود مختار کمیشن کی تشکیل اور انشورنس کی ادائیگی کے حصول کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا ہے درخواست شاہدہ منصور اور عطیہ ناز کی جانب سے دائر کی گئی ہے درخواست میں سیکرٹری دفاع، ڈی جی سول ایوی ایشن اتھارٹی اور سیکرٹری صحت کو فریق بنایا گیا ہے درخواست میں چیئرمین پی آئی اے، چیئرمین این ڈی ایم اے، اور ایڈمنسٹریٹر سی ڈی اے کو فریق بنایا گیا ہے گزشتہ سال چترال سے اسلام آباد آنے والا طیارہ حویلیاں کے مقام پر حادثے کا شکار ہوا تباہ ہونے والے طیارے میں 47 مسافر اور جہاز کا عملہ موجود تھا درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ تباہ ہونے والے اے ٹی آر طیارہ فرنچ کمپنی نے 2007 میں تیار کر کے پی آئی اے کو فروخت کیا خبروں سے پتہ چلا کہ جہاز کا بلیک باکس مل گیا اور ڈی کوڈنگ کے لیے فرانس بھیج دیا گیا، جہاز کا انجن کینیڈا میں تحقیقات کے لیے بھیجا گیا درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ پی آئی اے، بوجھا اور ایئر بلیو کے طیاروں کی تباہی سے این ڈی ایم اے کی نااہلی سامنے آئی تینوں حادثوں نے پمز ہسپتال کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان اٹھا دیے پی آئی اے کی جانب سے شہداء کے لواحقین کو 5 لاکھ کی معاوضے کی رقم دینے میں ناکام رہی یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ پی آئی اے کے طیارے ایک سے زیادہ بار تباہ ہو چکے ہیں حالانکہ ان حادثات سے پالیسیوں اور قوانین پر عمل درآمد کر کے بچا جا سکتا ہے درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت اور سول ایوی ایشن اتھارٹی خود مختار تحقیقاتی بورڈ بنانے میں ناکام رہی عدالت جہاز کے تباہ ہونے کی وجوہات کی تحقیقات کے لیے ایک خود مختار کمیشن تشکیل دے، عدالت پمز ہسپتال سے میتیں روات میں منتقل کرنے کے حوالے سے وضاحت طلب کرے پمز ہسپتال کو ڈی این اے ٹیسٹوں کے نتائج فراہم کرنے کے احکامات جاری اور پسماندگان کو پانچ پانچ لاکھ روپے عبوری معاوضہ ادا کرنے کے احکامات دیے جائیں درخواست میں مزید استد عا کی گئی ہے کہ پی آئی اے کو تباہ شدہ جہاز کی انشورنس پالیسی جمع کرانے کے حکم دیا جائے۔