قومی اسمبلی: تحفظ اطفال، فوجداری نظام انصاف اور ٹیکنالوجی یونیورسٹی قیام کے بل منظور

15 فروری 2018

اسلام آباد ( نوائے وقت نیوز)قومی اسمبلی مےں بچوں کے تحفظ اور فوجداری نظام انصاف ، قومی ےونےورسٹی برائے ٹےکنالوجی کے قیام کے بارے مےں تےنوں بلز کی اتفاق رائے سے منظوری دے دی گئی۔بدھ کو سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس مےں وزےر برائے انسانی حقوق ممتاز تارڑ نے علاقہ دارالحکومت اسلام آباد مےں اطفال کے تحفظ و نگہداشت کا انتظام کرنے کا بل پےش کےا ۔ ” دارالحکومت اسلام آباد تحفظ اطفال بل 2017 ء“ سے موسوم کےا گےا ہے ۔ بل کو متفقہ طور پر منظور کر لےا گےا ۔ وزےر انسانی حقوق نے نظام برائے کم سن افراد بل 2017 ءبھی منظوری کے لےے پےش کےا اس بل کو بھی اتفاق رائے سے منظور کر لےا گےا ۔ وزےر برائے سائنس و ٹےکنالوجی دفاعی پےداوار رانا تنوےر حسےن نے اسلام آباد مےں قومی ےونےورسٹی برائے ٹےکنالوجی کے قےام کا بل پےش کےا بل کو متفقہ طور پر منظور کر لےا گےا ۔ اجلاس میں وزارت پیٹرولیم کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز کی تفصیلات بھی پیش کی گئیں۔جس میں وزارت پیٹرولیم نے پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز کی شرح کے حوالے سے رپورٹ پیش کی۔وزارت پیٹرولیم کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈیزل کی ایکس ریفائنری قیمت 55 روپے 9 پیسے ہے جبکہ اِس وقت صارفین کے لیے ڈیزل کی قیمت 95 روپے 83 پیسے مقرر ہے۔ اس طرح فی لیٹر ڈیزل پر حکومت صارفین سے 40 روپے 74 پیسے ٹیکسز وصول کررہی ہے یعنی ڈیزل کے ہر لیٹر پر عوام سے 74 فیصد ٹیکس وصول کیا جارہا ہے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت 50 روپے 27 پیسے فی لیٹر ہے جبکہ صارفین کے لیے پیٹرول کی موجودہ قیمت 84 روپے 51 پیسے ہے۔ اس طرح ایک لیٹر پیٹرول پر حکومتی ٹیکسزکی شرح 34 روپے 24 پیسے ہے۔ یعنی پیٹرول کی مد میں بھی حکومت اس کی اصل قیمت پر 68 فیصد ٹیکس وصول کررہی ہے۔ تحریک انصاف کے ممبر قومی اسمبلی شہریارخان آفریدی نے قومی اسمبلی میں نقطہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مختلف اکائیوں سے مل کر بنتا ہے اور یہ تمام اکائیاں ملکر ان کو مضبوط بناتی ہیں 57 مسلم ممالک کی امیدوں کا مرکز پاکستان ہے مگر بد قسمتی سے 19 جنوری کو ملتان میں انسداد دہشت گردی مشق کے دوران پولیس نے پختون کلچر کو دہشت گردوں کی شناخت کے طور پر پیش کیا اور ایک پٹھان کو دہشتگرد دکھایا جس میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ دہشتگرد ایک خاص قوم اور قبیلے کے لوگ ہیں۔ قبائلی علاقہ امن کا گہوارہ تھا۔پختون پاکستان سے اتنی ہی محبت کرتے ہیں جتنا کوئی اور کرتا ہے مگر اس طرح کے واقعات سے ملک دشمن عناصر کو تقویت ملتی ہے۔ ایوان میں اس حوالے سے قرارداد پاس کی جائے کہ تخریب کار کا کوئی مذہب اور قوم نہیں ہے وہ دہشت گردد ہے تاکہ آئندہ سے کسی کو جرات نہ ہو کہ وہ کسی خاص قوم کو دہشتگرد کے طور پر دکھائے۔۔ نکتہ اعتراض پر ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی عبدالرشید گوڈیل نے مطالبہ کیا ہے کہ نچلی سطح پر عوام کی مشکلات کے ازالے کے لئے نیشنل فنانس ایوارڈ کی طرح صوبائی فنانس کمیشن ایوارڈ جاری کیا جائے انہوں نے کہا کہ کراچی میں 2013ءسے اب تک میرے حلقے میں ترقیاتی کام نہیں کرایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں گندگی کے انبار لگے ہوئے ہیں، نیشنل فنانس ایوارڈ کی طرح صوبائی فنانس کمیشن ایوارڈ ہونے چاہیے تاکہ نچلی سطح پر پینے کے صاف پانی کی فراہمی سمیت مسائل حل کئے جائیں۔ ایک اور نکتہ اعتراض پر رکن قومی اسمبلی انجینئر عثمان بادینی نے این اے 260 میرے حلقے کے ساتھ ایران کا بارڈر ملتا ہے، گزشتہ ایک ماہ سے کلکٹر کسٹم نے پابندی عائد کر رکھی ہے، جس سے ساڑھے پانچ ہزار افراد بے روزگار ہیں۔ نکتہ اعتراض پر سید عیسیٰ نوری نے کہا کہ ہم اپنے اپنے صوبوں کے وفادار ہیں، جس مطلب پاکستان کی وفاداری ہے، سی پیک منصوبہ کا اصل منبع بلوچستان ہے، اس کی آمدنی سے بلوچستان کا حصہ بہت کم رکھنے کی اطلاعات ہیں۔ اس صورتحال کا نوٹس لیا جائے۔ نکتہ اعتراض پر جمشید احمد دستی نے کہا کہ دو ماہ قبل میں نے سرائیکی صوبہ کے حوالے سے بل جمع کرایا تھا، قومی اسمبلی سیکرٹری نے طرح طرح کے اعتراضات لگائے۔ بل اسمبلی میں پیش ہونا چاہیے۔ بعد ازاں نکتہ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے ڈپٹی سپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا کہ ایوان کے تمام ارکان ہمارے لئے یکساں حیثیت رکھتے ہیں، پسند اور ناپسند کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ نکتہ اعتراض پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رکن قومی اسمبلی مولانا قمر الدین نے کہا کہ قومی خزانے پر عوام کا حق ہے۔ ارکان اسمبلی کو اس سال ترقیاتی فنڈز نہیں دیئے جا رہے، ترقیاتی کام مکمل کرائے جائیں۔ اجلاس کے دوران جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر صاحبزادہ طارق اللہ نے مطالبہ کیا کہ سینٹ الیکشن کے موقع پر ووٹوں کی مبینہ خرید و فروخت کے سدباب کے لئے قانون سازی کی جائے۔ ذرائع ابلاغ میں اس حوالے سے بحث جاری ہے، سینیٹ کی نشستیں حاصل کرنے کے لئے کروڑوں کی پیشکش ہو رہی ہیں جس کا تذکرہ عمران خان نے بھی کیا ہے ، اس صورتحال کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔بدھ کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران ثریا جتوئی کے سوال کے جواب میں وزیر مملکت برائے مواصلات جنید انور چوہدری نے بتایا کہ جو موٹرویز بن رہی ہیں وہ اپنے وقت پر مکمل ہوں گی۔ اس کے لئے فندز چینی ایگزم بینک اور حکومت دے رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حویلیاں تھاکوٹ 119 کلومیٹر موٹروے مارچ 2020ئ، حسن ابدال حویلیاں، شاہ مقصود حویلیاں 12 کلومیٹر جون 2018ئ، ڈی آئی خان ہکلا 290 کلومیٹر مئی 2019، لاہور عبدالحکیم 230 کلومیٹر جون 2018ئ، گوجر شورکوٹ 62 کلومیٹر جون 2018ئ، شورکوٹ خانیوال 64 کلومیٹر اگست 2018ئ، لاہور سیالکوٹ 91 کلومیٹر دسمبر 2018ئ، سکھر ملتان 392 کلومیٹر اگست 2019ءاور کراچی حیدر آباد 136 کلومیٹر موٹروے مارچ 2018ءمیں مکمل ہو گی۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ موٹرویز پر 50 کلومیٹر بعد ایک ایمرجنسی رسپانس سنٹر قائم کیا جائے گا اور اس پر کام مارچ کے وسط سے شروع ہو جائے گا۔ شاہدہ رحمانی کے سوال کے جواب میں وزیر انسانی حقوق ممتاز تارڑ نے بتایا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد نابالغان اور بچوں کا موضوع صوبوں کو منتقل کر دیا گیا۔ وزارت انسانی حقوق نے اس ضمن میں قانون سازی کی ہے جو بچوں سے ظالمانہ سلوک کا تدارک کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ پانچ سالوں کے دودران ملک بھر میں لڑکیوں سے زیادتی کے 10 ہزار 620 اور لڑکوں کے ساتھ زیادتی کے 7 ہزار 242 واقعات ہوئے۔ اس دوران پولیس کے پاس 13 ہزار 267 کیس رجسٹرڈ ہوئے۔، 25 مقدمات میں سزائے موت دی گئی، 11 کو عمر قید، دو کو 50 سال قید، ایک کو 39 سال قید، ایک کو 35 سال قید، ایک کو 33 سال سزا ہوئی، کل 112 مجرموں کو سزا ہوئی۔رکن قومی اسمبلی شمس النساءکے سوال کے جواب میں وزیر قانون محمود بشیر ورک نے بتایا کہ نیب نے آگاہ کیا ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران نیب میں متروکہ وقف املاک بورڈ کے افسران، اہلکاروں کے خلاف چھ کیسز رجسٹرڈ کئے ہیں۔ آسیہ ناز تنولی کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری پٹرولیم شہزادی عمرزادی ٹوانہ نے کہا کہ گیس انفراسٹرکچر ترقی محصول (جی آئی ڈی سی) ایکٹ 2015ءکے تحت منظور کردہ نرخ مئی 2015ءسے اب تک تبدیل نہیں ہوئے۔ نعیمہ کشور کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری شہزادی عمرزادی ٹوانہ نے بتایا کہ ان کے حلقے میں اربوں روپے کی گیس پائپ لائن اس ماہ کے آخر تک مکمل ہو جائے گی۔ طاہرہ اورنگزیب کے سوال کے جواب میں وزیر مملکت برائے توانائی چوہدری عابد شیر علی نے بتایا کہ ملک میں اس وقت کوئی لوڈ شیڈنگ نہیں ہے، مختلف علاقوں میں بجلی چوری کی شرح بہت زیادہ ہے، ہم اس میں 1.8 فیصد کمی لائے ہیں، تاہم صوبائی حکومتوں کی جانب سے اس ضمن میں تعاون نہیں کیا جا رہا، ہم بجلی چوروں کے خلاف ایف آئی آر کٹواتے ہیں تو اس پر عمل نہیں ہوتا، مجبوراً ہمیں مین فیڈر بند کرنے پڑتے ہیں۔اپنی صوبائی حکومتوں سے کہیں کہ وہ ہمارے ساتھ تعاون کریں، 40 فیصد سے زائد لاسز ہیں، کنڈے استعمال کرنے سے ٹرانسفارمر اٹھانے پڑتے ہیں۔ وزیر دفاعی پیداوار رانا تنویر حسین نے بتایا کہ کامرہ میں کام کرنے والے ملازمین کہیں باہر یا پرائیویٹ رہائش نہیں رکھتے۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ سیکورٹی کے ماحول میں سرکاری اداروں کی تنصیبات اور افراد کو خطرہ موجود ہے۔