سینیٹ ڈاکٹر طارق فضل کی عثمان کاکڑ سے تلخ کلامی ،متعدد کمیٹیوں کی رپورٹس پیش کردی گئیں

15 فروری 2018

اسلام آباد (نا مہ نگار) چیئرمین سینیٹ نے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ترمیمی) آرڈیننس 2018ءایوان میں پیش کرنے سے روک دیا۔بدھ کو ایوان بالا کے اجلاس میں چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا کہ قواعد کے مطابق 22 جنوری سے شروع ہونے والے سیشن کے پہلے روز یہ آرڈیننس پیش ہونا چاہئے تھا۔ اس حوالے سے ان کی رولنگ پہلے ہی موجود ہے۔ یہ آرڈیننس آج پیش کیا جا رہا ہے لہذا وہ اس کی اجازت نہیں دے سکتے۔سینیٹ اجلاس میں وزیر مملکت برائے کیڈ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور سینیٹر عثمان کاکڑ کے درمیان تلخ کلامی ہو گئی ۔سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ آپ سے سوال کچھ اور کیا گیا ہے اور آپ جواب کچھ اور دے رہے ہیں،جس پر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری بھی طیش میں آگئے اور کہا کہ آپ سینیٹرز سے بھی کہیں کہ غیر متعلقہ ضمنی سوالات نہ کریں،جس پر عثمان کاکڑ نے کہا کہ آپ بھی وہی جواب دیں جو پوچھا جارہا ہے ،وزیر کیڈ نے کہا کہ لگتا ہے یہ تقریر کے موڈ میں ہیں انہیں تقریر کر لینے دیں،یہ سوال پو چھنا نہیں چاہتے،صدر نشین سینیٹر طاہر حسین مشہدی نے کہا کہ آپ آپس میں نہ الجھیں،مجھے مخاطب کر کے بات کریں،وزیر کیڈ نے کہا کہ مجھ سے جو پوچھا جارہا ہے میں جواب دے رہا ہوں آپ مجھ پر زبردستی نہیں کر سکتے ،میں آپ کا پابند نہیں ہوںمیں چیئر کا پابند ہوں۔ وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب نے بتایا کہ اشتہارات قومی اخبارات کو دیئے جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا اور ویب سائیٹس کا بھی دور ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کوشش کریں گے کہ علاقائی اخبارات میں بھی ان اشتہارات کو شائع کیا جائے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ صوبوں سے متعلق اسامیوں کے بارے میں وہاں کے عوام آگاہ ہی نہیں ہوتے جس کی وجہ سے بروقت وہ درخواست ہی نہیں دے پاتے۔ پریذائیڈنگ افسر طاہر حسین مشہدی نے رولنگ جاری کی کہ وفاقی محکموں اور اداروں میں صوبوں کی اسامیوں پر بھرتیوں کے اشتہارات علاقائی اخبارات میں بھی دیئے جائیں۔وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مشاہد اﷲ خان نے ایوان بالا میں سینیٹر شیری رحمان کے نکتہ ءاعتراض کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 2013ءمیں پی آئی اے کے پاس 18 جہاز تھے، ان میں سے 16 آپریشنل تھے، اب پچھلے چار سالوں میں یہ تعداد بڑھ کر 36 ہو گئی ہے اور بھرتیاں بھی ماضی کی طرح نہیں کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر حکومت کے دور میں پی آئی اے کی نجکاری کی بات کی گئی لیکن کسی نے اس کی نجکاری نہیں کی۔ وزیر مملکت برائے کیڈ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے سینیٹر طاہر حسین مشہدی کے توجہ دلاﺅ نوٹس کے جواب میں کہا کہ اسلام آباد میں نرم ہسپتال کے سوا تمام ہسپتالوں میں نفسیات کا باقاعدہ شعبہ اور ماہر نفسیات تعینات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی ڈی ڈبلیو پی نے پمز ہسپتال میں نیورو سائنسز کا ایک مکمل ڈیپارٹمنٹ قائم کرنے کے لئے 7 ارب روپے کے فنڈز کی منظوری دے دی ہے اور اس ڈیپارٹمنٹ میں نفسیاتی مریضوں کے علاج کا شعبہ بھی موجود ہوگا۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے خصوصی کمیٹی کی رپورٹ میں شامل سفارشات پر عمل درآمد کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت سے 24 مطالبات کے حوالے سے خصوصی کمیٹی نے جو سفارشات دی ہیں ان میں یہ معاملہ بھی تھا کہ صوبائی چیف سیکریٹری کو کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا رکن بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹیاں اور ان کے ممبر بنانا وزیراعظم اور کابینہ کے اختیار میں ہے۔ سینیٹ کی خصوصی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں یہ معاملہ وزیراعظم کو بھجوایا گیا جہاں سے یہ فیصلہ ہوا کہ رولز کے مطابق چیف سیکریٹری کو اقتصادی رابطہ کمیٹی کا رکن نہیں بنایا جا سکتا تاہم وہ خصوصی دعوت پر ای سی سی کے اجلاسوں میں شرکت کر سکتے ہیں۔ سینیٹ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی سالانہ پیشرفت رپورٹ برائے 2016-17ءپیش کر دی گئی۔ وزیر مملکت برائے خزانہ رانا محمد افضل خان نے رپورٹ ایوان میں پیش کی۔چیئرمین سینیٹ نے مردم شماری کے سروے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے حوالے سے تحریک التواءکی منظوری کا معاملہ نمٹا دیا۔انہوں نے سینیٹر تاج حیدر سے کہا کہ وہ اس حوالے سے پہلے قائد ایوان راجہ ظفرالحق کے ساتھ مل کر معاملہ حل کریں۔ پی آئی اے کے سیفٹی اسیسمنٹ آف فارن ایئر کرافٹ کی مبینہ طور پر ابتر حالت کے حوالے سے سینیٹر شیری رحمان کی تحریک التواءکی منظوری کا معاملہ نمٹا دیا۔ وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مشاہد اﷲ نے وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر نزہت صادق اور دیگر ارکان کے سوالات کے جواب میں کہا کہ کابینہ نے 2012ءمیں نیشنل کلائمیٹ پالیسی کی منظوری دی۔ یہ ایک جامع پالیسی ہے، اس کے نتیجے میں بہت سے کام شروع ہو چکے ہیں۔ گرین پاکستان پروگرام میں صوبوں کو حصہ دیا گیا ہے، کچھ صوبے بہت اچھا کام کر رہے ہیں اور ہم مانیٹرنگ بھی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگلات کی کٹائی سے پاکستان اور زراعت پر منفی اثرات پڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فاسل فیول کا استعمال ہم نے نہیں کیا، اس کے استعمال کرنے والے ممالک میں ہمارا نام شامل نہیں ہے۔ دنیا سے مطالبہ کرنا چاہئے کہ ہمیں کس بات کی سزا مل رہی ہے۔ گلوبل وارمنگ عالمی مسئلہ ہے، اس کے حل کے لئے کوششیں کی جانی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ سپر کریٹیکل ٹیکنالوجی ایک فلٹر ہے جو چمنیوں میں لگایا جاتا ہے۔ ان دو پاور پلانٹس سے ماحول پر کسی قسم کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے ایوان بالا کو بتایا کہ اسلام آباد کے نجی سکولوں کے اندرونی امتحانات میں ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلباءکا بورڈ کے امتحانات میں داخلہ نہ بھیجنے کا معاملہ پیرا کے نوٹس میں آیا ہے اور اس پر ایک جامع پالیسی ترتیب دی جا رہی ہے جس کے لئے تمام متعلقہ فریقین کو اعتماد میں لیا گیا ہے اور تعلیمی اداروں سے اس پر عمل درآمد کی درخواست کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نجی تعلیمی اداروں کے قواعد پر بھی نظر ثانی کی جا رہی ہے۔ پیرا رولز کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے،عدالت نے فیصلہ محفوظ کر رکھا ہے جیسے ہی فیصلہ آئے گا اس کی روشنی میں عملدرآمد کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ سکولوں میں بہت سے مسائل ہیں۔ سرکاری سکولوں میں پانچویں جماعت کی فیس 500 روپے ہے جبکہ پرائیویٹ سکولوں میں یہ 30 سے 35 ہزار لی جاتی ہے۔ سرکاری سکولوں کی حالت بہتر بنانے کے لئے حکومت نے مختلف اقدامات کئے ہیں اور تین ارب روپے سکولوں کی اپ گریڈیشن پر لگائے جا چکے ہیں۔ 200 نئی بسیں خریدی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیلی ویجز اساتذہ کو ریگولر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہماری پوری قیادت یکسو ہے اور اس حوالے سے ہم اقدامات کریں گے۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے سینیٹر کلثوم پروین اور دیگر ارکان کے سوالات کے جواب میں کہا کہ پی ٹی اے میں بھرتی کے لئے شارٹ لسٹنگ رولز کے تحت محکمانہ شارٹ لسٹنگ کمیٹی نے کی۔ انہوں نے کہا کہ چار لوگوں کو بلوچستان سے بھرتی کیا گیا ہے اور تمام صوبوں کا کوٹہ مقرر ہے۔ سینیٹر محسن عزیز کے سوال کے جواب میں وزارت ہوا بازی ڈویژن کی طرف سے ایوان کو بتایا گیا کہ منصوبہ بندی اور ڈیزائن کے لئے مقرر کردہ کنسلٹنٹس کے جائزہ کے مطابق ضلع مانسہرہ کا ہوائی اڈہ علاقے کے لوگوں کو سفری سہولیات فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ سینیٹ میں بلوچستان میں عرب شہزادوں اور مقامی ایم پی ایز کی طرف سے پرندوں کے غیر قانونی شکار سے متعلق معاملہ کے حوالے سے قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور سرکاری پاسپورٹ کی غیر معیاری چھپائی کے حوالے سے قائمہ کمیٹی برائے داخلہ قانونی ویزے کی بنیاد پر رہائش پذیر ترک شہریوں کے خلاف کارروائی سے متعلق رپورٹ ایوان میں پیش کر دی گئی۔ سینیٹ میں انسداد بے رحمی جانوران (ترمیمی) بل 2018ءسے متعلق قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی رپورٹ ایوان میں پیش کر دی گئی۔ سینیٹ نے فوجداری قوانین (ترمیمی) بل 2017ءسے متعلق قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی رپورٹ دی۔ پولیس (ترمیمی) بل 2017ءسے متعلق قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی رپورٹ۔ کراچی سے اسلام آباد کی روزمرہ پرواز، پارکنگ مشکلات اور سعودی عرب میں تعینات پی آئی اے کے ملازمین کو درپیش مشکلات کے حوالے سے خصوصی کمیٹی برائے پی آئی اے کی رپورٹ پیش کرنے کی مدت میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔