این اے 154

15 فروری 2018

راؤ شمیم اصغر


این اے 154 لودھراں کا ضمنی الیکشن متعدد وجوہات کی بنا پر بڑا منفرد رہا ہے۔ اس لحاظ سے تاریخی بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ عام انتخابات 2018 سے قبل آخری ضمنی الیکشن ہے۔ جس کے نتائج بہرحال عام انتخابات پر مرتب ہونگے۔ این اے 154لودھراں کے الیکشن کی ایک انفرادیت یہ تھی کہ یہ الیکشن دو نااہل افراد کے نمائندوں کے مابین تھا۔ اگرچہ امیدوار اور بھی تھے لیکن پہلے دن سے نظر آرہا تھا کہ ضمنی الیکشن بہر حال نااہل قرار دئیے گئے میاں نواز شریف کی پارٹی مسلم لیگ ن کے امیدوار اور تحریک انصاف کے نااہل قرار دئیے جانے والے سابق سیکرٹری جنرل جہانگیر خان ترین کے نمائندے انکے صاحبزادے علی خان ترین کے مابین تھا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کو امیدوار اس وقت ملا جب سابق وفاقی وزیر مرزا ناصر بیگ جو پیپلز پارٹی کی ناکامیوں کا سلسلہ دراز ہونے کے بعد کچھ عرصہ قبل ہی مسلم لیگ ن میں شامل ہوئے تھے۔ ضمنی الیکشن کا اعلان ہونے کے بعد دوبارہ پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے اور اس علاقے میں اپنا نام زندہ رکھنے کیلئے انہوں نے اپنے صاحبزادے محمد علی بیگ کیلئے ٹکٹ حاصل کر لیا۔ مرزا ناصر بیگ اس خطے کا بڑا معتبر نام ہے اور امکان تھا کہ وہ معقول تعداد میں ووٹ لیکر یہ ثابت کریں گے کہ پیپلز پارٹی ابھی زندہ ہے لیکن انہیں صرف 3189 ووٹ ملے اور یوں پیپلز پارٹی کی جانب سے یہ دعوے کہ الیکشن 2018 میں مرکز اور سندھ کے علاوہ پنجاب میں انکی حکومت بنے گی۔ یہ ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گیا ہے اور اس تاثر پر مہر ثبت ہوگئی ہے کہ پیپلز پارٹی کے پاس بڑھکوں دعوؤں کے سوا ابھی کچھ نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کے امیدوار کو ملنے والے ووٹوں کو دیکھ کر تو ایسا لگتا ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں کم از کم پنجاب میں انہیں پورے امیدوار بھی نہیں مل سکیں گے۔ اگر ملے تو وہ امیدوار نہیں مہم جو ہونگے۔ این اے 154لودھراں کا ضمنی الیکشن اس لحاظ سے بھی منفرد تھا کہ اس الیکشن کے دوران کوئی مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کو تیار نہ تھا۔ جو تیار تھے انکی یا تو یہ شر ط تھی کہ اے ٹی ایم کا مقابلہ کرنے کیلئے انہیں معقول فنڈز دئیے جائیں۔ یا پھر یہ شرط تھی کہ آئندہ عام انتخابات میں بھی ٹکٹ دینے کی یقین دہانی کروائی جائے۔ اس ضمنی الیکشن میں نہ تو حمزہ شہباز شریف نظر آئے نہ کوئی پلاننگ کی گئی نہ اس حلقے کی برادریوں کے ووٹ حاصل کرنے کیلئے پنجاب بھر سے ان برادریوں کے سرکردہ افراد کو لودھراں بھجوایا گیا۔ نہ ہی پارٹی کا کوئی بڑا نام اس حلقے میں انتخابی مہم چلانے کیلئے آیا۔ گویا یہ پہلے دن ہی سے فرض کرلیا گیا تھا کہ تحریک انصاف کی’’ اے ٹی ایم‘‘ کا مقابلہ ممکن نہیں خصوصاً ان حالات میں جبکہ جہانگیر خان ترین 2015کے ضمنی الیکشن میں لگ بھگ 40ہزار ووٹوں کی اکثریت سے جیتے تھے۔ پھر تحریک انصاف نے اپنے روایتی انداز میں بڑا شور مچایا تھا کہ 2015کے ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ ن کی جانب سے ترقیاتی کاموں کے سلسلے میں جو وعدے کئے گئے تھے وہ پورے نہیں ہوئے اور جہانگیر خان ترین مسلسل یہ مطالبہ کررہے تھے کہ اربوں روپے مالیت کے جن منصوبوں کااعلان کیا گیا وہ فنڈز ضلع لودھراں کو دئیے جائیں۔ جواب میں مسلم لیگ ن بھی روایتی انداز میں اس پروپیگنڈے کا دفاع کرنے میں ناکام ہی رہی۔ حالانکہ اربوں روپے مالیت کی لودھراں خانیوال دو رویہ سڑک تکمیل کے مراحل میں ہے اور آئندہ ماہ مارچ تک 24ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہوجائے گی۔ لودھراں بہاولپور کے مابین میٹرو بس سروس جتنی کامیاب ہوئی ہے شاید ہی دوسرے علاقوں میں اتنی کامیاب ہوئی ہو۔لودھراں، کہروڑپکا روڈ کو دو ریہ کرنے کے منصوبے پر بھی کام شروع ہوچکا ہے۔ بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کا لودھراں میں کیمپس خطے کی اعلیٰ تعلیمی ضروریات پوری کرنے کا ایک قابل قدر منصوبہ ہے اب اہل لودھراں کو اعلیٰ تعلیم کیلئے بہاولپور یا ملتان جانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ مسلم لیگ ن کے امیدوار پیر اقبال شاہ کو وفاقی وزیر عبدالرحمن کانجو کے علاوہ صدیق بلوچ ، پیر رفیع الدین شاہ اور ایم پی اے احمد خاں بلوچ کی حمایت حاصل تھی۔ اس کے علاوہ پی پی 207سے پیر اقبال شاہ کے صاحبزادے رکن پنجاب اسمبلی عامر اقبال شاہ جن کی اگرچہ صرف آٹھ یونین کونسلیں این اے 154میں شامل ہیں۔ نے بڑی جانفشانی سے کام کیا۔ پیر اقبال شاہ کی جیت کا اصل سہرا عبدالرحمن کانجو کے سر ہے۔ وہ دس بار ہ روز قبل حلقے میں آئے اور نہایت خاموشی کے ساتھ انتخابی مہم چلائی۔ این اے 154لودھراںکا تین چوتھائی ووٹ دیہات میں ہے اور عبدالرحمن کانجو کی ٹیم نے خاص طور پر اسی کو فوکس کئے رکھا۔ وہ سابق چیئرمین ضلع کونسل بھی ہیں ان کے رابطے بڑے مضبوط رہے ہیں ۔ ایک طرف میڈیا کے زور پر انتخابی مہم کثیر سرمائے سے چلائی جارہی تھی اور جہانگیر خان ترین کے تنخواہ دار ملازمین انتخابی مہم میں شریک تھے۔ دوسری جانب خاموش او ر مؤثر رابطے تھے۔ جو کامیاب رہے۔ این اے 154لودھراں میں تحریک انصاف کے امیدوار علی خان ترین کی انتخابی مہم بہت پہلے شروع ہوگئی تھی ۔ اسلام آباد سے’’ اے ٹی ایم مشین‘‘ فارغ ہوکر لودھراں میں آچکی تھی اور حسب معمول بے دریغ اخراجات جاری تھے۔ پھر انہیں اس حلقے کے سابق ایم این اے نواب امان اللہ کے علاوہ کیپٹن عزت جاوید، ڈاکٹر شیر محمد اعوان سابق اراکین صوبائی اسمبلی میاں شفیق ارائیں اور ان کے بھائی میاں رفیق ارائیں سابق ٹکٹ ہولڈر زوار وڑائچ جو پی پی 207 میں چند سوووٹوں سے ہارے تھے انکی حمایت بھی حاصل تھی۔ الیکشن سے دو تین روز قبل پیپلز پارٹی کے سابق ایم این اے رانا ممتاز نون بھی تحریک انصاف میں شامل ہوگئے ۔ رانا اعجاز نون پہلے ہی تحریک انصاف میں تھے ۔ اس طرح اس خطے میں دھڑوں کی سیاست کے اعتبار سے تحریک انصاف بہت آگے نظر آتی تھی۔ ملحقہ حلقہ این اے 155کے اختر کانجو، نواب حیات اللہ ترین، نواب غلام قاسم ملیزئی، طاہر حسین ملیزئی بھی اپنا اپنا اثر ورسوخ تحریک انصاف کے پلڑے میں ڈال رہے تھے۔ تحریک انصاف کو اپنی کامیابی کا اس حد تک یقین تھا کہ ان کے ایک لیڈر سارا دن گھر پر دوستوں کے ساتھ تاش کھیلتے رہے۔ انکا کہنا تھا کہ یکطرفہ الیکشن ہے۔ وہاں جاکر کیا کرنا ہے۔ یہ الیکشن اس لحاظ سے بھی انتہائی منفرد تھا کہ ضمنی الیکشن ہونے کے باوجود تقریباً سوا دو لاکھ ووٹ ڈالے گئے۔ جہانگیر ترین 2015 میں تقریباً40ہزار ووٹوں کی اکثریت سے جیتے تھے لیکن صرف اڑھائی سال کے بعد مسلم لیگ ن 27519ووٹوں کی واضح برتری سے جیت گئی۔ جہانگیر خان ترین نے تقریباً ایک لاکھ 40ہزار ووٹ حاصل کئے تھے۔ انکے صاحبزادے تقریباً86 ہزار ووٹ حاصل کرپائے گویا تحریک انصاف کا ووٹ تقریباً 54ہزار کم ہوگیا۔این اے 154لودھراں کے الیکشن سے قبل تحریک انصاف پور ے ضلع میں چھائی ہوئی تھی۔ اب چند گھنٹے کے بعد ہی تحریک انصاف کی صفوں میں ایسا سناٹا ہے کہ پارٹی کارکن اور لیڈر پورے ضلع میں منہ چھپاتے پھرتے نظر آتے ہیں ۔ اکثر کے موبائل فون بھی خاموش ہوچکے ہیں۔ عام انتخابات سے قبل آخری ضمنی الیکشن ہونے کی وجہ سے بیشتر سیاسی تجزیہ نگار واضح طور پر کہتے نظر آرہے ہیں کہ یہ الیکشن ایسا اپ سیٹ ہے جس کے اثرات عام انتخابات پر بھی مرتب ہونگے جو تحریک انصاف کے لئے خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں۔ تحریک انصاف کے ہی ایک رہنما کا کہنا تھا کہ ہماری اے ٹی ایم مشین نے اسلام آباد میں بڑی دھوم مچائی ہوئی تھی۔ لودھراں میں بھی اس کے بڑے پرچے رہے ہیں۔ لگتا ہے کہ اب اس اے ٹی ایم مشین پر’’ مشین خراب ہے‘‘ کی تحریر مستقل طور پر لگ گئی ہے۔