پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنے والوں کو شکست آمیز جواب

15 فروری 2018

نواز رضا

15جولائی 2018ء کو ہونے والے عام انتخابات سے قبل این اے ۔154 میں آخری ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ (ن) نے تحریک انصاف نشست چھین لی ہے یہ نشست تحریک انصاف کے ’’سیکریٹری جنرل ‘‘ جہانگیر ترین کی نا اہلی سے خالی ہوئی تھی تحریک انصاف نے اس نشست پر جہانگیر ترین کے صاحبزادے علی ترین کو پارٹی ٹکٹ دیا جس کے پاس وسائل کی فراوانی تھی جب کہ ان کے مد مقابل کے پاس انتخاب لڑنے کے لئے پیسے نہیں تھے شنید ہے انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے انتخاب لڑنے سے معذرت کر لی تھی لیکن پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے اصرار پر انتخاب لڑنے پر آمادگی کا اظہار کر دیا ۔ مسلم لیگ(ن) کے’’درویش صفت‘‘ امیدوار اقبال قریشی نے ہیلی کاپٹر کے مقابلے میں 2009ء ماڈل کی کار پر انتخاب لڑ کر شاندار کامیابی حاصل کر لی جہانگیر ترین نے جو نشست 40ہزار ووٹوںکی اکثریت سے جیتی تھی وہی نشست ان کے صاحبزادے علی ترین 28ہزار ووٹوں سے ہار گئے گویا مسلم لیگ(ن) نے یہ نشست 68ہزار ووٹوں کی اکثریت سے جیتی ۔ لودھراں کے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ(ن) کی شاندار کامیابی کے ملکی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگ زیب نے اس کا میابی کو 2018ء میں ہونے والے عام ا نتخابات میں کامیابی کی نوید سنانے کے’’چاند‘‘ سے تعبیر کیا ہے ۔ تحریک انصاف کو مسلم لیگ (ن) کے ہاتھوں شکست سے بڑا ’’سیاسی دھچکا لگا ہے جس کی شدت کے اثرات بنی گالہ کے ’’مکین ‘‘ نے بھی محسوس کئے ہیں اگلے روز بنی گالہ میں تحریک انصاف کی کور کمیٹی کا اجلاس عمران خان کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں پوری قیادت سر جوڑ کر بیٹھ گئی اور اپنی شکست کاجائزہ لیا تاہم تحریک انصاف نے شکست کے عوامل کا تفصیلی جائزہ لینے کے لئے جہانگیر ترین کی سربراہی میں کمیٹی قائم کر دی ہے ۔ ضمنی انتخاب سے اگلے روز سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی احتساب عدالت اسلام آباد میں پیشی تھی اس موقع پر میاں نواز شریف نے اخبار نویسوں سے مختصر بات چیت کرتے ہوئے لودھراں میں کامیابی کے بارے میں کہا کہ ’’ عوام میری نا اہلی کے خلاف مقدمہ لڑ رہے ہیں لودھراں الیکشن جھوٹے مقدمات کا جواب ہے ‘‘ ۔عدالت میں پیشی کے بعد پنجاب ہائوس میں میاں نواز شریف کی زیر صدارت مسلم لیگی زعماء کا اجلاس منعقد ہوا ۔جس میں لودھراں میں مسلم لیگی امیدوار کی کامیابی پر تبادلہ خیال کیا گیا اس اجلاس میں مسلم لیگ(ن) میں ’’نو واردوں ‘‘ کی بہت بڑی تعداد موجود تھی لیکن اس اجلاس میں بھی پاکستان مسلم لیگ(ن) کے’’ سیاسی دماغ ‘‘ چوہدری نثار علی خان کی’’ عدم موجودگی ‘‘ شدت سے محسوس کی گئی پچھلے دو ماہ سے جاتی امرا لاہور اور پنجاب ہائوس اسلام آباد میں میاں نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے مسلم لیگی زعما کے اجلاسوں میں ایک طے شدہ پالیسی کے تحت چوہدری نثار علی خان کو مدعو نہیں کیا جا رہا ان کو سائیڈ لائن کر دیا گیا ہے چوہدری نثار علی خان بھی ’’راجپوت‘‘ ہیں بن بلائے ایسی محفل کا حصہ بننے کے لئے تیار نہیں جو مستقبل کی سیاست کے حوالے سے سنجیدہ ہونے کی بجائے ’’خوش آمدانہ‘‘ گفتگو پر مبنی ہو ۔ بظاہر میاں نواز شریف اور چوہدری نثار علی خان کے درمیان کوئی اختلاف نظر نہیں ہوتا دونوں ایک دوسرے کے بارے میں محتاط گفتگو بھی کر رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے میاں نواز شریف اور چوہدری نثار علی خان کے درمیان اس حد تک فاصلے پید کر دئیے گئے ہیں کہ چوہدری نثار علی خان کو ’’مشاورتی عمل ‘‘ سے نکا ل دیا گیا ہے جو لوگ اس ’’سازش‘‘ کا حصہ ہیں وہ دونوں کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کے ایجنڈے میں بڑی حد تک کامیاب ہو گئے ہیں کیونکہ چوہدری نثار علی خان کی سطح کے رہنمائوں کی موجودگی میں ان کا کوئی مقام نہیں اس لئے انہوں نے چوہدری نثار علی خان کے خلاف ’’غیر اعلانیہ‘‘ محاذ قائم کررکھا ہے ۔ پنجاب ہائوس اسلام آباد کے اجلاس میں موجود مسلم لیگی رہنمائوں نے لودھراں کی کامیابی کو نواز شریف کے ’’سیاسی بیانیہ‘‘ کی پذیرائی قرار دیا گیا جس میں شاہ پسندوں نے’’ شاہ ‘‘ کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملاتے رہے ، کسی نے وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف کی ’’گڈگورنس‘‘کا ذکر نہیں کیا جنہوں لودھراں کامیابی میں اپنا حصہ ڈالا ہے ۔ ’’ رومن ایمپائرز‘‘ کے دائیں بائیں بیٹھے لوگ انہیں انسان ہونے کا احساس دلاتے رہتے تھے ۔چوہدری نثار علی خان ، میاں نواز شریف کو ’’خوشامدیوں ‘‘ کے جھرمٹ میں بھی ایک انسان ہونے کا احساس دلاتے رہے ہیں جو چوہدری نثار علی خان کو دور کرنے سے کردار ختم کر دیا گیا ہے لیکن اب کسی میں جرات ہے اور نہ ہی صلاحیت کہ وہ اپنے لیڈر کے سامنے حقائق پر مبنی تصویر پیش کرے ۔ جب سے میاں نواز شریف کو اقتدار سے نکالا گیا اور انہوں نے ’’مجھے کیوں نکالا گیا‘‘ کا بیانیہ اختیار کیا تو اسے عوام میں مقبولیت حاصل ہوئی ہے دن بدن میاں نواز شریف کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے لودھراں کی شکست کے دیگر عوامل بھی ہیں یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ عمران خان کی جانب سے پارلیمنٹ جس کے وہ خود بھی رکن ہیں لعنت بھیجنے پر عوام کی طرف سے شدید رد عمل کا اظہار کیا گیا ہے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے ایک’’بھلے مانس‘‘ کو پارٹی کا امیدوار دیا جس نے ’’شہزادے‘‘ کو شکست دے دی ۔ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل بھی ان کی کامیابی میں معاون ثابت ہوئی۔ پنجاب ہائوس میں منعقدہ اجلاس میں میاں نواز شریف نے شرکاء سے طنزیہ انداز میں کسی لیڈر کا نام لئے بغیر استفسار کیا کہ ’’مجھے جی ٹی روڈ کے بجائے موٹر وے سے لاہور جانے کا مشورہ دینے والے کہاں ہیں؟ اس موقع پر انہوں نے معنی خیز انداز میں سوال کیا ’’کیا آپ میں وہ شخص موجود ہے جس نے مجھے یہ مشورہ دیا تھا‘‘ ان کا اشارہ جس مسلم لیگی رہنما کی طرف تھا اگلے روز انہوں نے ایک بیان میں اس حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ فیصلہ موجودہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سمیت مسلم لیگ کی سینئر قیادت کی میٹنگ میں ہوا تھا۔ چوہدری نثار نے واضح کیاسب کو اس کا علم ہے یہ مشورہ میاں نواز شریف کو لاحق سکیورٹی خطرات کے پیش نظر دیا گیا تھا۔ بعد میں معروف صحافی مجیب شامی کی قیادت میں میڈیا کے وفد کے مشورے پر فیصلے میں تبدیلی لائی گئی۔
اجلاس میں مسلم لیگی رہنمائوں نے لودھراں الیکشن میں کامیابی کو نواز شریف کے اس ’’سیاسی بیانیہ ‘‘ کی پذیرائی قرار دیا اجلاس میں میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بڑی اہم بات کہی ہے کہ ’’ہمیں غلامی کی آفرز آئی ہیں لیکن ہم نواز شریف کی واپسی سے کم قبو ل نہیں کریں گے ۔ نواز شریف کی واپسی ہی دراصل ہماری کامیابی ہے انتخابات ہوتے رہیں گے اور حکومتیں بنتی رہیں گی لیکن اصل کامیابی نواز شریف کی واپسی ہے لہذا ایسا دکھائی دیتا ہے عام انتخابات میں ’’نواز شریف کی واپسی‘‘ مسلم لیگ (ن) کا ’’نیا بیانیہ ‘‘ہو گا ۔ ماہ رواں کے آخر یا مارچ کے اوائل میں میاں نواز شریف کے خلاف مقدمات کے فیصلے آسکتے ہیں ان عدالتوں سے آنے والے ممکنہ فیصلوں کے پیش نظر میاں نواز شریف نے اپنی صاحبزادی مریم نواز کوسیاسی ؎ میدان میں اتار دیا ہے انہیں جلسوں میں زبردست پذیرائی بھی حاصل ہوئی ہے مریم نواز کے جلسوں میں خطاب سے اس تاثر کو تقویت ملی ہے کہ میاں نواز شریف ، میاں شہباز شریف کو نظر انداز کر کے مریم نواز کو کو اپنا ’’سیاسی جانشین ‘‘بنانا چاہتے ہیں جس کے بعد چوہدری نثار علی خان پہلے مسلم لیگی لیڈر ہیں جنہوں نے اس معاملہ پر زبان کھولی ہے انہوں نے نواز شریف اور میاں شہباز شریف کی قیادت میں کام کرنے کا عندیہ دیا تاہم انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ’’ان کے لئے مریم نواز کی قیادت میں کام کرنا ممکن نہیں‘‘۔ چوہدری نثار علی خان نے در اصل ان سینئر مسلم لیگی رہنمائوں کے جذبات کی ترجمانی کی ہے جو میاں نواز شریف کی موجودگی میں کوئی بات کہنے کی جرات نہیں رکھتے جو چوہدری نثار علی خان نے کہی ہے یہی وہ وجہ ہے چوہدری نثار علی خان کو سائیڈ لائن کر دیا گیا ہے میاں نواز شریف اس وقت ’’ہارڈ لائنرز‘‘ کے نرغے میں ہیں جب ان سے احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر ایک صحافی نے چوہدری نثار علی خان کی جانب سے مریم نواز کی قیادت قبول نہ کئے جانے کے بارے میں سوال کیا تو میاں نواز شریف بھی کوئی جواب دئیے بغیر مسکرا کر چل دئیے۔ دلچسپ امر یہ ہے پارٹی کوئی لیڈر چوہدری نثار علی خان کے ایشو پر بات کرنے کے لئے تیار نہیں ، سینیٹر پرویز رشید جنہوں نے چوہدری نثار علی خان کی طرف اپنی’’توپوں‘‘ کا رخ کیا تھا اب وہ بھی ان کے بارے میں کوئی بات کرنے کے لئے تیار نہیں نازک معاملہ ہے جب ان سے سپریم کورٹ میں پیشی کے موقع پر ایک صحافی نے چوہدری نثار علی خان کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے بے رخی سے جواب دیا کہ ’’میرا نثار سے کیا لینا دینا آپ یہ سوال ان ہی سے کریں‘‘۔ میاں نواز شریف سے چوہدری نثار علی خان کے اس خط کے بارے میں استفسار کیا جس میں انہوں نے ڈان لیکس انکوائری رپورٹ کو پارٹی فورم پر زیر بحث لانے کا مطالبہ کیا تھا لیکن انہوں نے اس بارے میںکوئی جواب دینے سے گریز کیا آنے والے دن مسلم لیگ(ن)، شریف خاندان اور چوہدری نثار علی خان کی سیاست کے لئے ’’ٹرننگ پوائنٹ‘‘ ہوں گے کچھ بھی نہ بگڑنے سے قبل سب کچھ ٹھیک کرنے کی گنجائش موجود ہے صرف رویوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔