رضاربانی کی جگہ مشاہد حسین آئندہ چیئرمین سینیٹ

15 فروری 2018

فیصل آباد ۔۔ احمد کمال نظامی
آٹھ بازاروں کے شہر فیصل آباد میں لودھراں کے ضمنی الیکشن میں حکمران مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سید اقبال شاہ کی علی ترین کے مقابلے میں کامیابی پر متوالوں میں میٹھائیاں بانٹنے اور گئی گئی ’’ پی ٹی آئی گئی ‘‘ کے نعروں کے ساتھ خوشی کا جشن منایا گیا۔ اس دوران آئے آئے ’’ نواز شریف آئے ‘‘ کے نعرے  گونجتے رہے۔ ڈپٹی کمشنر فیصل آباد سلمان غنی نے میگا پراجیکٹس اور ضلع میں جاری ترقیاتی سکیموں کی پیشرفت کے سلسلہ میں منعقدہ ایک اجلاس میں بتایا حکومت پنجاب کے ترقیاتی پروگرام کے تحت ایک ارب 35 کروڑ روپے کی لاگت سے کینال روڈ  کشمیر پل پر انڈر پاس کی تعمیر کے میگا پراجیکٹ کی منظوری دے دی ہے جس پر عملدرآمد کے لئے کنٹریکٹرز کی پری کوالیفکیشن کا عمل بھی مکمل ہو چکا ہے اور انتظامی منظوری کے بعد منصوبے پر عنقریب کام شروع ہو جائے گا ‘موجودہ حکومتی دور میں مسلم لیگ (ن) نے 5ہزار ارب روپے سے زیادہ لاگت کے ترقیاتی منصوبے مکمل کئے ہیں ‘ ملک میں سڑکوں کا جال بچھا دیا گیا ہے ‘ فیصل آباد میں 40ارب روپے کے میگا پراجیکٹ مکمل کرنے کے بعد کینال روڈ پر کشمیر انڈر پاس ناولٹی پل انڈر پاس ‘واٹر پراجیکٹ فیز iiاور شہری ترقی کے کئی منصوبے شروع کئے جا رہے ہیں ‘ وفاقی وزیر مملکت عابد شیر علی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے تمام حصوں میں ہونے والے ترقیاتی کام اس بات کی ضمانت ہیں کہ الیکشن 2018ء میں ایک مرتبہ پھر مسلم لیگ ن کا شیر ہی دھاڑے گا ‘ انہوں نے شیخ رشید ‘جہانگیر ترین کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ لودھراں کے الیکشن میں جہانگیر ترین کو حلقہ کے لوگوں نے مسترد کرکے یہ ثابت کر دیا ہے کہ عمران خان جو وزیرعظم بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں دراصل احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں ‘ شیخ رشید احمد جو کہ شدا ٹلی کے نام سے مشہور ہے انہیں بھی 2018ء کے الیکشن میں آٹے دال کا بھائو معلوم ہو جائے گا ‘ شیخ رشید ایم این اے بننا تو در کنار آئندہ الیکشن میں کونسلر بھی نہیں بن سکتا ‘ تحریک انصاف جو فیصل آباد میں پیپلز پارٹی کا مکمل صفایا کرکے 2018ء کے انتخابی معرکوں کیلئے ن لیگ کے امیدواروں کے لئے ایک زبردست حریف کے طور پر ابھر چکی ہے ‘ لودھراں میں جہانگیر خاں ترین کے بیٹے علی ترین کی ضمنی نشست پر مسلم لیگ (ن) کے سید اقبال شاہ کے ہاتھوں شکست پر صوبہ پنجاب میں الیکشن2013ء جیسے انتخابی نتائج سامنے لانے کیلئے تیار ہے ‘ اس ضمنی الیکشن نے دو باتیں واضح کر دی ہیں کہ الیکشن 2018ء کا میلہ مسلم لیگ (ن) ہی لوٹے گی اور لودھراں کے ضمنی انتخابات میں مد مقابل دس امیدواروں میں پیپلز پارٹی کے مرزا محمد علی 3229ووٹ لے کر ضمانت ضبط کروانے والوں میں سر فہرست رہے اور انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کے اس دعوے کو غلط ثابت کر دیا ہے کہ آئندہ انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب میں حکومت بنائے گی ‘ پنجاب اور وفاق دونوں میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت بنے گی ‘پنجاب کے ووٹرز میں یہ رجحان ہمیشہ بہت زیادہ غالب رہا ہے کہ الیکشن میں اپنا ووٹ اس سیاسی جماعت اور اس امیدوار کے حق میں استعمال کرو جو متوقع طور پر جیتنے والا ہو ‘ پاکستان تحریک انصاف کو 28جولائی 2017ء کو میاں محمد نواز شریف کی سپریم کورٹ سے نا اہلی کے بعد بہت زیادہ عروج ملا تھا اور لگ رہا تھا کہ ملک میں آئندہ حکومت تحریک انصاف کی ہو گی لیکن نا اہل ہونے پر وزیراعظم میاںمحمد نواز شریف کی جی ٹی روڈ ریلی اور مجھے کیوں نکالا ؟ کے احتجاجی الفاظ نے عوام کی ہمدردیاں میاں محمد نواز شریف کی طرف کر دیں اور اس طرح ملک کی سیاسی فضا کا رخ ان کے عوامی رابطہ جلسوں میں ن لیگ کی طرف ہو گیا ‘ تحریک انصاف کو سب سے زیادہ نقصان ان کی مال روڈ لاہور کے جلسہ میں 17جنوری کی تقریر سے پہنچا‘ ہر چند عوام کو اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ زرداری مافیا قومی خزانے کی لوٹ مار کر حقیقی کردار ہے اور آصف علی زرداری نے نہایت تیزی سے دولت میں اضافہ کرکے خود کو ملک کا تیسرا امیر ترین شخص بنایا ہے اور پنجاب کے بیشتر علاقوں میں آصف علی زرداری عوام کیلئے نفرت کا ایک نشان بن کر سامنے آیا ہے ‘ لیکن اس کے باوجود سابق صدر اس بات پر مُصر نظر آ تے ہیں کہ پیپلز پارٹی الیکشن2018ء کے بعد پنجاب میں حکومت بنائے گی ‘ این اے 154میں پیپلز پارٹی کے امیدوار نے جو ووٹ حاصل کئے یا اس سے پہلے این اے 120لاہور سے یا پنجاب کے دیگر ہونے والے علاقوں میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو جو ووٹ ملے ‘ ان کو دیکھتے ہوئے الیکشن2018ء میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کی کامیابیوں کے متعلق اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جس کسی امیدوار کو ضمانت ضبط کرانے کا اعزاز حاصل کرنا ہو ‘ وہ پیپلز پارٹی کا امیدوار بن جائے‘ این اے 154کے انتخابی نتیجے میں مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے امیدواروں میں کانٹے دار مقابلوں اور دیگر سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کے امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہونے کے باعث جو سیاسی منظر ابھر کر سامنے آیا ہے ‘ وہ اس کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے ‘ کہ عام انتخابات میں ن لیگ اور تحریک انصاف ہی آمنے سامنے ہونگی‘ پیپلز پارٹی شاید جنوبی پنجاب میں بھی انتخابی معرکوں میں دوسری بڑی قوت بن کر نہ ابھر سکے اور الیکشن2013ء کی طرح صوبہ سندھ تک محدود ہو کر رہ جائے تاہم پیپلز پارٹی پنجاب اور وفاق میں سے اپنے امیدواروں کا صفایا ہو جانے کے باوجود پارلیمنٹ میں ایک موثر طاقت بن کر موجود رہے گی کہ سینٹ کے انتخابات میں صوبہ بلوچستان میں ن لیگ کی حکومت ختم کرانے میں اپنے کردار کو ادا کرنے پر موچی گیٹ کے جلسہ میں بلوچستان حکومت کو تبدیل کرنے کا اعلانیہ طور پر کریڈٹ حاصل کرنے کے علاوہ سابق صدر مملکت نے صوبہ کے پی کے اور فاٹا میں بھی سینٹ کے امیدواروں کے لئے اپنی دعائوں کا ہاتھ بہت زیادہ کشادہ رکھا ہے اور شاید وہ کپتان کی اس امید پر بھی پانی پھیرنے کا باعث بن جائیں کہ وہ 3مارچ کے سینٹ الیکشن میں صوبہ کے پی کے سے اپنے ارکان صوبائی اسمبلی کی تعداد کے حوالے سے چھ نشستیں حاصل کرنے کے داعی ہیں لیکن انتخابی نتائج دیکھ کر انہیں یہ جھٹکا لگے کہ وہ جس آصف علی زرداری کے ساتھ اس لئے نہیں بیٹھنا چاہیے کہ انہوں نے اپنے گزشتہ دور اقتدار میں ملک سے اربوں روپے لوٹ کر بیرون ملک جائیدادیں بنائی ہیں ‘ اس آصف علی زرداری نے ان کی خیبرپی کے کی چھ میں سے کم از کم دو نشستیں نکال کر پیپلز پارٹی کی جیب میں ڈال دی ہیں ‘ یہ ہمارے ملک کا انتخابی کلچر ہے اور خود عمران خان نے تسلیم کر لیا ہے کہ انہیں سینٹ کی ایک نشست کے لئے 40کروڑ کی پیش کش کی گئی ہے ‘ انہوں نے اس آفر کو قبول نہیں کیا لیکن ایک قومی لیڈر ہوتے ہوئے انہیں 40کروڑ کی آفر کرنے والے کو قوم کے سامنے لانا چاہیئے تھا لیکن انہوں نے بھی  اس سلسلہ میں  وہی سیاسی مصلحت پسندی سے کام لیا  ۔