منصوبہ سازوں کی پارٹی قائد کو قید میں ڈالنے کی خواہش ؟

15 فروری 2018

فرخ سعید خواجہ

جولائی میں الیکشن 2018ء کا معرکہ برپا ہونے والا ہے، سیاسی جماعتیں لنگر لنگوٹ کس کر میدان میں اتر چکی ہیں۔ پانی پت کی لڑائی صوبہ پنجاب میں ہونا ہے جہاں قومی اسمبلی کی سب سے زیادہ نشستیں ہیں، پنجاب میں فاتح نہ صرف مرکزی حکومت بلکہ ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی حکومت بھی بنائے گا۔ مسلم لیگ (ن) کو پنجاب کی سب سے بڑی پارٹی ہونے کا اعزاز حاصل ہے جس طرح پیپلز پارٹی سندھ کی سب سے بڑی جماعت ہے تاہم پنجاب کے ایک بڑے حصے جنوبی پنجاب میں پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی زیادہ مقبولیت رکھنے کی دعویدار رہی ہیں۔ دو تین روز پہلے جنوبی پنجاب کے قومی اسمبلی کے حلقہ 154 لودھراں کے حلقے میں ضمنی انتخاب میں ووٹروں نے جو فیصلہ دیا ہے اس سے آنے والی ہوا کا رُخ متعین ہوگیا ہے۔ ووٹروں نے نواز شریف کے احتساب کے نام پر انتقام لئے جانے کے موقف اور ووٹ کے تقدس کی بحالی کے حق میں ووٹ دے کر ثابت کر دیا ہے کہ منصوبہ ساز نواز شریف کو احتساب عدالت سے سزا دلوا کر قید کروا دیں گے تو اس کا ردعمل اور سخت ہوگا۔ ہماری رائے میں اس صورت میں ووٹر اتنی بڑی تعداد میں مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کو ووٹ ڈالیں گے کہ لوگوں کو لگے گا کہ تاریخ اپنا آپ دہرا رہی ہے اور 1970ء کے عام انتخابات کے نتائج کی یاد تازہ ہو جائے گی۔
جہاں تک لودھراں کے حلقہ این اے 154 کا تعلق ہے یہ جنوبی پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے کمزور ترین حلقوں میں سے ایک تھا۔ پچھلے بیس برس میں وہاں جو تین عام انتخابات اور ایک ضمنی الیکشن ہوا، اُن چاروں میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کو شکست ہوئی تھی۔ 2002ء کے عام انتخابات میں یہاں سے مسلم لیگ (ق) کے نواب امان اللہ خان اور 2008ء میں مسلم لیگ (ق) کے صدیق خان بلوچ کامیاب ہوئے۔ الیکشن 2013ء میں مسلم لیگ (ن) نے پیر رفیع الدین کو میدان میں اتارا۔ پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین اور صدیق خان بلوچ مسلم لیگ (ق) کی ٹکٹ کی بجائے آزاد حیثیت میں احسن کے مد مقابل تھے۔ صدیق خان بلوچ نے الیکشن اس مرتبہ بھی جیت لیا۔ پی ٹی آئی نے جن چار حلقوں کو کھولنے کا مطالبہ کیا تھا این اے 154 بھی اس میں بھی شامل تھا۔ غالباً اس کی وجہ یہ تھی کہ صدیق خان بلوچ الیکشن جیتنے کے بعد مسلم لیگ (ن) میں شامل ہو گئے تھے۔ صدیق خان بلوچ کا شمار اس علاقے کے پرانے سیاستدانوں میں ہوتا ہے اور وہ 1988ء اور 1990ء میں یہاں سے آئی جے آئی کی ٹکٹ پر الیکشن لڑ چکے تھے۔ جعلی ڈگری کیس میں صدیق خان بلوچ کو 2015ء میں نا اہل قرار دے دیا گیا تاہم انہیں ضمنی الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی۔ اس ضمنی الیکشن میں جہانگیر ترین کامیاب ہوئے۔ انہوں نے صدیق خان بلوچ پر لگ بھگ 35 ہزار ووٹوں کی سبقت لی۔ جہانگیر ترین کو 1 لاکھ 29 ہزار 606 ووٹ اور صدیق خان بلوچ کو 93 ہزار 183 ووٹ ملے۔ 2018ء کے عام انتخابات سے چھ ماہ پہلے جہانگیر ترین سپریم کوٹ سے نا اہل قرار پائے اور اپنی خالی ہونے والی نشت پر اپنے نوجوان صاحبزادے علی خان ترین کو امیدوار کی حیثیت سے سامنے لائے۔ مسلم لیگ (ن) نے اپنے سفید پوش کارکن سید اقبال شاہ کو میدان میں اتارا گویا ’’کھمبے‘‘ کو ٹکٹ دے دی۔ اب ایک طرف جاگیرار اور سرمایہ دار خاندان کا چشم و چراغ تھا جو غیر ملکی یونیورسٹی کا تعلیم یافتہ اور مال و دولت سے مالا مال تھا جسے وہ نہایت خوبصورتی سے ووٹروں پر خرچ کر دیا تھا۔ دوسری طرف 2002ء کے اس حلقے سے رکنی قومی اسمبلی نواب امان اللہ بھی ان کے ساتھ تھے۔ کل 210 سے معروف کلو برادری اُن کے ساتھ تھی پی پی 211 سے کیپٹن عزت جاوید ان کے ساتھ تھے۔ ملحقہ حلقے پی پی 208 سے ڈاکٹر شیر محمد اعوان اُن کے ساتھ تھے۔ زوار بلوچ اور شفیق ارائیں ان کے ساتھ تھے۔ حتٰی کہ الیکشن سے ایک روز پہلے پیپلز پارٹی کے رہنما رانا ممتاز نون نے بھی ان کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ گویا تمام دنیاوی سازو سامان ملی خان ترین کے ساتھ تھا سو اُن کی جیت کی پیش گوئی چار سُو سے رہی تھی۔ اُُدھر درویش کارکن سید اقبال شاہ تھے جن کے ہمراہ مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف کے مفادار ساتھ پیر رفیع الدین دل و جان کے ساتھ انتخابی مہم چلا رہے تھے۔ صدیق خان بلوچ بھی ان کے ساتھ تھے لیکن عام تاثر تھا کہ وہ عام انتخابات میں اس نشست پر اپنے صاجزادے کو الیکشن لڑوانے کے خواہاں ہیں اس لئے ان کی حمایت یوں پیش سامنے آ رہی جیسے پیر رفیع الدین نے سید اقبال شاہ کا الیکشن لڑنے میں دن رات ایک کر کے دکھائی ہے۔ 12 فروری کو پولنگ تھی جیسا کہ اوپر حقائق بیان کئے ہیں ان کی روشنی میں بظاہر علی خان ترین کی جیت واضح تھی لیکن مسلم لیگ (ن) والے پُرامید تھے کہ سیاسی معجزہ اور نواز شریف کی لہر سید اقبال شاہ کو الیکشن جتوائے گی۔ پولنگ کے روز علی خان ترین کی گاڑیوں میں سوار ہو کر ووٹر جاتے رہے اور ’’شیر‘‘ پر ٹھپے لگاتے گئے اور جب نتائج آنے شروع ہوئے تو اندازہ ہونے لگا کہ نواز شریف کی ہوا چل گئی ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے سید اقبال شاہ میڈیا چینلوں پر پہلے خبر پر دکھائی دینے لگے اور ان کی برتری پر آنے والے نتیجے کے ساتھ بڑھتی چلی گئی۔ سید اقبال شاہ نے غیر حتمی نتائج کے مطابق 1 لاکھ 13 ہزار 452 ووٹ حاصل کیے جبکہ علی خان ترین 85 ہزار 933 ووٹ لے سکے۔ یوں انہیں 27 ہزار 519 ووٹوں سے شکست ہوئی۔ اس الیکشن کی دو قابل ذکر مزاحیہ باتیں ہیں ایک یہ کہ جنوبی پنجاب میں اکثریت رکھنے کی سب سے بڑی دعویدار پیپلز پارٹی جس کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حال ہی میں ملتان میں جلسہ عام کیا تھا اور خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ اب پی پی پی جنوبی پنجاب میں چھا جائے گی، اس کے امیدوار صرف 3 ہزار 189 ووٹ حاصل کر سکے جبکہ دوسری طرف پچھلے چند ماہ سے شہرت حاصل کرنے والی تحریک لبیک یا رسولؐ کے امیدوار نے 10 ہزار 275 ووٹ حاصل کر کے دینی سیاسی جماعتوں کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے کہ اب دینی حلقوں کے ووٹ کے ایک اور حقدار سامنے آ گئے ہیں۔