سپریم کورٹ نے دوہری شہریت رکھنے والے افسروں سے متعلق رپورٹ طلب کر لی

15 فروری 2018

اسلام آباد(نمائندہ نوائے وقت)سپریم کورٹ نے وفاقی و صوبائی سیکرٹریز اسٹیبلشمنٹ اور سروس ایڈمنسٹریٹرز سے دوہری شہریت رکھنے والے سرکاری افسران و ملازمین سے متعلق رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت یکم مارچ تک ملتوی کردی ہے۔ چیف جسٹس نے وفاقی سیکرٹری کو خبردار کیاہے کہ اگرعدالتی حکم کی تعمیل نہ ہوئی تو ذمہ داران کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی عدالت نے تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز،تمام وفاقی وزارتوں کے سیکرٹریز اور متعلقہ اداروں کے سروس ایڈمنسٹریٹرز کونوٹس جاری کرکے ان سے بھی دہری شہریت رکھنے والے افسران و ملازمین کی رپورٹ طلب کرلی ہے کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی تو چیف جسٹس نے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ سے استفسار کیا کہ ہمارے حکم کی تعمیل کیوں نہ ہوئی؟ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نے جواب دیا کہ تمام اداروں سے عدالتی احکامات پرتفصیلات منگوائی گئیں جن میں سے دوصوبوں کی رپورٹ آچکی ہے لیکن ابھی اداروں سے مزید رپورٹس آنی ہیں اس لئے حتمی رپورٹ کے لیے وقت دیاجائے چیف جسٹس نے کہاکہ وفاقی سروس کے چار گروپس ہیں جوتفصیلات نہ دیں ان کے خلاف ایکشن کیاہوگا ؟ اگر ایک ہفتے کے اندر رپورٹ نہ آئی توذمہ داران کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کریں گے ، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ 43وزارتوں میں سے 20کی رپورٹ آچکی ہے سرکاری لوگ اپنے بچوں کوباہرسیٹل کرلیتے ہیں یہاں گڑبڑ کرنے پرپکڑے جائیں توباہرچلے جاتے ہیں فاضل چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جس شخص نے دووفاداری کے حلف اٹھائیں ہوں گے ان کی وفاداری کس کے ساتھ ہوگی۔ اراکین پارلیمان کو دوہری شہریت پر نااہل کیاگیاچیف جسٹس نے کہاکہ یہاں کے مفادات اوروہاں کے مختلف ہوسکتے ہیںہمارے پاس معلومات مکمل ہونی چاہیے اگرکسی نے دوہری شہریت چھپائی مخبری دینے والے کوایوارڈ دیں گے اور دوہری شہریت چھپانے والوں ایکشن ہوگا یہ طے کریں گے ابھی ہم صرف دوہری شہریت کے حوالے سے معلومات لے رہے ہیں ۔ گریڈ 22میں جانے والے افسر بھی دوہری شہریت کے حامل ہوسکتے ہیں عدالت نے کیس کی مزید سماعت یکم مارچ تک ملتوی کردی ہے۔