حالیہ سندھ خلفشار لندن کے مفاد میں ۔۔۔۔

15 فروری 2018

شہزاد چغتائی
متحدہ قومی موومنٹ کی تقسیم کے بعد ایم کیو ایم کا مستقبل سوالیہ نشان بن گیا اور ووٹ بنک بکھر گیا ہے۔ حالیہ اختلافات کے بعد سندھ کے شہروں کی نمائندگی ہاتھ سے نکلنے کا خدشہ ہے جس کے بعد پورے سندھ کے مینڈیٹ کی پیپلز پارٹی بلاشرکت غیرے مالک بن جائے گی اور طاقت کا توازن بگڑ جائے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ فاروق ستار اور رابطہ کمیٹی نے ایک دوسرے کو مائنس کر دیا۔ رابطہ کمیٹی نے فاروق ستار کو نکالا تو فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی کو تحلیل کر دیا۔ دوسری سیاسی جماعتوں کی طرح ایم کیو ایم بھی کئی دھڑوں میں بٹ گئی ہے جس پر کراچی میں اُردو بولنے والوں کی کمیونٹی مایوسی کا شکار ہو گئی۔ ان کا مستقبل غیر محفوظ اور سوالیہ نشان بن گیا۔ نمائندگی ہوتے ہوئے نمائندگی سے محروم ہو گئے۔ ایم کیو ایم پاکستان کی لڑائی جگ ہنسائی کا باعث بن گئی تو ایم کیو ایم لندن کے رہنماء خوش ہو گئے۔ متحدہ کے برسرپیکار دھڑے من مانی پر آمادہ ہیں۔ سیاسی حلقوں میں ان امکانات پر غور ہو رہا ہے کہ ایم کیو ایم فاروق ستار گروپ کا آئندہ لائحہ عمل کیا ہو گا۔ کیا پاک سرزمین پارٹی اور ڈاکٹر فاروق ستار ایک ہو جائیں گے۔ کچھ باخبر حلقے اس کا جواب اثبات میں دیتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل جب فاروق ستار اور پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ کے تحریک انصاف کے رہنماء فیصل واوڈا کے گھر پر مذاکرات ہوئے تھے تو خالد مقبول گروپ رکاوٹ بن گیا تھا اور ڈاکٹر فاروق ستار کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا تھا۔ لیکن اب فاروق ستار کوئی فیصلہ کرنے میں آزاد ہیں۔ کراچی میں یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ کیا تحریک انصاف ڈاکٹر فاروق ستار اور مصطفی کمال کو ایک کرنا چاہتی ہے۔ اگر یہ غلط ہے تو فیصل واوڈا کے گھر مذاکرات کیوں ہوئے تھے؟ ایم کیو ایم کے اندر پھوٹ پڑنے کے بعد تمام سیاسی جماعتیں کراچی کا سیاسی خلا پُر کرنے کیلئے سرگرم ہو گئیں‘ فوری طور پر سب سے زیادہ فائدہ پیپلز پارٹی کو ہو گا۔ حالانکہ کسی سیاسی جماعت کی ٹوٹ پھوٹ اور اس کا زوال کوئی نئی دلچسپ کہانی نہیں جس کی تازہ مثال مسلم لیگ (ق) ہے جس کے اقتدار کا سورج راتوں رات غروب ہو گیا۔ مسلم لیگ (ق) 11 سال تک اقتدار کا حصہ رہی‘ 5 سال تک ظفر اللہ جمالی‘ چودھری شجاعت حسین اور شوکت عزیز وزیراعظم رہے۔ سیاسی حلقے یہ وارننگ بھی دے رہے ہیں کہ کراچی میں حالیہ تنظیمی کشمکش ایم کیو ایم لندن پالیٹکس کے مفاد میں ہے ۔ ایم کیو ایم پاکستان کے خاتمے کی کوکھ سے ایم کیو ایم لندن طلوع ہو گی اور حالیہ بحران کے نتیجے میں سندھ کے شہروں میں جو احساس محرومی پیدا ہو گا وہ خوفناک ہو گا اس سے ’’را‘‘ بھی فائدہ اُٹھا سکتی ہے۔ سیاسی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ موجودہ صورتحال کی ذمہ داری کسی حد تک دونوں فریقوں پر عائد ہوتی ہے۔ کامران ٹیسوری ایم کیو ایم میں نووارد ہیں وہ اگر سینیٹ الیکشن سے دستبرداری کا اعلان کر دیتے تو ایم کیو ایم ٹوٹنے سے بچ جاتی۔
رابطہ کمیٹی کی جانب سے نکالے جانے کے بعد ڈاکٹر فاروق ستار اور ان کی والدہ بہت دلبرداشتہ ہیں۔ پیپلز پارٹی کو اس بحران میں کئی فائدے ہوئے اور گوہر مقصود مل گیا جو کہ ایم کیو ایم کی نشسیتں ہیں۔ ایم کیو ایم کی دھینگا مشتی سے پیپلز پارٹی کو ایک فائدہ یہ ہوا کہ ایس ایس پی رائو انوار کا معاملہ پس منظر میں چلا گیاہے۔ کراچی کے سیاسی خلا کو پورا کرنے کیلئے حالانکہ مسلم لیگ بھی میدان میں آ گئی ہے لیکن پیپلز پارٹی سینیٹ کے الیکشن کی تیار فصل کاٹنے کیلئے تیار بیٹھی ہے۔ تاہم ایم کیو ایم کی آواز ختم ہونے کے بعد سندھ میں سیاسی توازن بگڑ جائے گا اور شہری علاقوں کی نمائندگی ختم ہونے کے بعد گھٹن بڑھے گی۔یہ توقع تو پہلے ہی تھی کہ ایم کیو ایم کے حصے بخرے ہو جائیں گے۔ مگر متحدہ حزب اختلاف کی نمائندہ ہی رہتی تو مناسب تھا کیونکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے ایم کیو ایم کا مینڈیٹ چھیننا مناسب نہیں۔ سیاسی حلقے کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی سب سے بڑی جمہوری پارٹی بنتی ہے لیکن بلوچستان سے سندھ تک سیاسی جماعتوں کے مینڈیٹ پر ڈاکے ڈال رہی ہے۔ ڈیموکریٹس کے خلاف سازش کر رہی ہے۔ اس دوران ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار کو نکالنے کے ساتھ بہادر آباد آفس پر مخالف گروپ نے قبضہ کر لیا جو کہ کامران ٹیسوری نے بنا کر دیا تھا۔ اورمقبول صدیقی گروپ فاروق ستار کو نکالنے کی ٹھوس وجوہات بیان نہیں کر سکا۔