اعتماد سازی کی بحالی کیلئے امریکہ کو پاکستان کی روکی گئی فوجی معاونت بحال اور بھارت کی سرپرستی ترک کرناہوگی

15 فروری 2018

امریکی صدر ٹرمپ کی سول اور فوجی امداد کی مد میں پاکستان کیلئے 336 ملین ڈالر مختص کرنے کی تجویز اور ڈومور کے تقاضوں کا تسلسل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سالانہ بجٹ منصوبے میں پاکستان کیلئے 336 ملین ڈالر امداد رکھنے کی تجویز دے دی ہے۔ ایک غیرملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق وائٹ ہائوس کی جانب سے کانگرس کو بھیجی گئی چار کھرب ڈالر پر مشتمل سالانہ بجٹ تجاویز میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کیلئے 256 ملین (25 کروڑ 60 لاکھ) سویلین معاونت جبکہ 80 ملین ڈالر فوجی معاونت کی مد میں رکھے جائیں۔ بجٹ تجاویز میں کہا گیا ہے کہ یہ امداد پاکستان کے معاشی استحکام اور ملک میں امریکی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنے کی مد میں فراہم کی جائیگی۔ وائٹ ہائوس نے مزید کہا کہ بجٹ تجویز میں پاکستان کے ساتھ انسداد دہشت گردی تعاون کے فروغ‘ انسداد دہشت گردی کی صلاحیتوں میں اضافے اور دیگر امور پر تعلقات میں بہتری کیلئے اور 80 ملین ڈالر عسکری مالیاتی معاونت کیلئے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح بجٹ تجاویز میں پانچ ملین ڈالر سے زائد رقم افغان سکیورٹی فورسز کیلئے تربیتی اور معاونتی پروگرام کے سلسلہ میں مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ دوسری جانب امریکی انٹیلی جنس چیف ڈین کوئس نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستانی فوج انسداد دہشت گردی تعاون میں پیچھے ہے۔ گزشتہ روز سینٹ انٹیلی جنس کمیٹی کے روبرو اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکہ کی طرف سے ڈومور مطالبے کے باوجود پاکستان ابھی طالبان اور حقانی نیٹ ورک کیخلاف کارروائیوں کیلئے صرف کوششیں ظاہر کررہا ہے جبکہ عسکریت پسند گروپ افغانستان‘ بھارت اور امریکی مفادات پر حملوں کیلئے پاکستان میں محفوظ ٹھکانوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ علاوہ ازیں امریکہ پاکستان کو دہشت گردی کے معاون ممالک کی عالمی واچ لسٹ میں شامل کرانے کیلئے بھی متحرک ہوگیا ہے۔ غیرملکی ایجنسی کے مطابق امریکہ آئندہ ہفتے فنانشل ایکٹ ٹاسک فورس کے اجلاس میں پاکستان کیخلاف تحریک پیش کریگا۔
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے افغان جنگ میں اپنے فرنٹ لائن اتحادی پاکستان کے بارے میں جلدبازی میں انتہائی جارحانہ پالیسیاں اختیار کرکے اسکی فوجی امداد معطل کرنے کا اقدام اٹھایا گیا اور پھر اسکی سول امداد میں کٹوتی کیلئے بھی امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد پیش کی گئی جس پر پاکستان کی جانب سے قومی غیرت و خودمختاری کے تقاضوں کے مطابق فوری ردعمل کا اظہار فطری امر تھا۔ چنانچہ دفتر خارجہ اور ملک کی عسکری قیادتوں کی جانب سے واشنگٹن اور پینٹاگون کو دوٹوک الفاظ میں باور کرایا گیا کہ پاکستان کی جانب سے امریکہ کیلئے ’’ڈومور‘‘ کے بجائے اب ’’نومور‘‘ ہے۔ اسی طرح پاکستان کی جانب سے افغان جنگ میں امریکہ کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے سے رجوع کرنے کا بھی عندیہ دے دیا گیا اور یہ بھی باور کرایا دیا گیا کہ جنگی سازوسامان اور دفاعی تعاون کے حصول کیلئے اب پاکستان کا صرف امریکہ پر تکیہ نہیں رہا اور اس نے چین‘ روس‘ ترکی سمیت متعدد ممالک سے معاہدے کرلئے ہیں۔ چنانچہ پاکستان کے بدلتے ہوئے تیور بھانپ کر ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پاکستان کے ساتھ اعتماد سازی کی بحالی کیلئے دوبارہ سلسلہ ٔجنبانی شروع کرنے کا عندیہ دیا جانے لگا۔ اس مقصد کیلئے واشنگٹن اور پینٹاگون کے متعدد حکا م نے پاکستان کے دورے بھی کئے جس سے پاکستان اور امریکہ کے مابین سردمہری کی برف پگھلتی ہوئی نظر آئی۔ اسکے باوجود ٹرمپ انتظامیہ طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے معاملہ میں پاکستان سے ڈومور کے تقاضے برقرار رکھے ہوئے ہے اور ابھی تک پاکستان کی روکی گئی فوجی معاونت بحال کرنے کا بھی کوئی عندیہ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے سامنے نہیں آیا جس سے بادی النظر میں یہی تاثر ملتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کے بارے میں ابھی تک گومگو کا شکار ہے۔ اسے ایک جانب تو اعتماد سازی کی بحالی کیلئے کوششیں جاری رکھنے کا عندیہ دے کر مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور دوسری جانب واشنگٹن اور پینٹاگون کے حکام لٹھ لیکر بدستور پاکستان کے پیچھے پڑے ہوئے نظر آتے ہیں جبکہ پاکستان کی سلامتی کے درپے اسکے بدترین دشمن بھارت کی سرپرستی میں بھی ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے کوئی کسر نہیں چھوڑی جارہی۔ یہ پالیسی پاکستان اور امریکہ کے مابین غلط فہمیاں بڑھانے پر منتج ہو سکتی ہے اس لئے امریکہ کو اس حقیقت کا ادراک کرکے کہ پاکستان کی انٹیلی جنس معاونت اور لاجسٹک سپورٹ کے بغیر اس کیلئے افغان جنگ جیتنا ناممکنات میں شامل ہے اور پاکستان کا تعاون کھو کر اسے نیٹو فورسز کے افغانستان میں دس بارہ سال کے دوران ہونیوالے نقصانات سے بھی زیادہ نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ اس کیلئے واشنگٹن کو سب سے پہلے بھارت کو علاقے کا تھانیدار بنانے کی پالیسی پر نظرثانی کرنا ہوگی تاکہ امریکی سرپرستی میں پاکستان کی سلامتی کیخلاف انتہاء پسند مودی سرکار کے عزائم کی روک تھام ہوسکے۔ ساتھ ہی ساتھ پاکستان کی روکی گئی فوجی معاونت کی بحالی ضروری ہے جس کیلئے ابھی تک ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے کوئی عملی اقدام اٹھانے کا امکان نظر نہیں آرہا بلکہ اسکے برعکس دہشتگردی کی جنگ میں پاکستان کے کردار پر بدستور بداعتمادی کا اظہار جاری ہے اور گزشتہ روز امریکی انٹیلی جنس چیف کی جانب سے بھی اسی تناظر میں افواج پاکستان پر انسداد دہشت گردی میں تعاون نہ کرنے کی جارحانہ الزام تراشی کی گئی ہے۔
اگرچہ امریکی صدر ٹرمپ نے آئندہ بجٹ میں پاکستان کیلئے فوجی اور سول امداد کی مد میں مجموعی 336 ملین ڈالر مختص کرنے کی تجویز دی ہے جو پاکستان اور امریکہ کے مابین اعتماد سازی کی بحالی کیلئے خوش آئند سوچ قرار دی جاسکتی ہے تاہم پاکستان کے حوالے سے امریکی کانگرس (سینٹ اور ایوان نمائندگان) میں جو جارحانہ رویہ اختیار کیا جاتا ہے اور امریکی کانگرس میں منظور ہونیوالی قراردادوں کی بنیادوں پر ہی پاکستان کی سول اور فوجی گرانٹ میں کٹوتی کی جاتی رہی ہے۔ اسکے پیش نظر کچھ بعید نہیں کہ پاکستان کی سول اور فوجی امداد کیلئے امریکی صدر کی پیش کردہ تجاویز پر بحث کے دوران بھی پاکستان پر الزامات کا طومار باندھ دیا جائے اور اس کیلئے اس امداد کی نوبت نہ آنے دی جائے۔
اس معاملہ میں بہرحال ٹرمپ انتظامیہ کو پاکستان کے حق میں فضا ہموار کرنے کیلئے امریکی کانگرس میں کردار ادا کرنا ہے جس کیلئے دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کی جانب سے اب تک دی گئی بھاری جانی اور مالی قربانیوں اور اسکے اٹھائے گئے نقصانات کو اجاگر کرکے ارکان کانگرس کو قائل کیا جا سکتا ہے۔ اگر ٹرمپ انتظامیہ اپنے فیصلہ کے تحت پاکستان کی روکی گئی فوجی معاونت بحال کرنے پر بھی آمادہ نہیں اور اس پر دہشت گردوں کی معاونت کے بے سروپا الزامات لگا کر اسے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ’’ایف اے ٹی ایف‘‘ کی واچ لسٹ میں شامل کرانے کی بھی کوشش کی جارہی ہے تو اس سے پاکستان اور امریکہ کے مابین اعتماد سازی کی بحالی کے امکانات بڑھنے کے بجائے معدوم ہو جائینگے۔ ٹرمپ انتظامیہ کو بہرصورت اس حقیقت کا ادراک کرنا ہے کہ پاکستان کی معاونت سے ہی دہشتگردی کے خاتمہ کے متعینہ اہداف حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ اگر پاکستان ٹرمپ انتظامیہ کے موجودہ طرز عمل کے باعث فرنٹ لائن اتحادی کے کردار سے رجوع کرلیتا ہے تو بھارت کی معاونت اسکے کسی کام نہیں آئیگی کیونکہ افغان جنگ میں بھارت کا سرے سے کبھی کوئی کردار ہی نہیں رہا۔ اسکے برعکس بھارت نے پاکستان کو دہشتگردی کے ذریعے عدم استحکام سے دوچار کرنے کیلئے افغان سرزمین ضرور استعمال کی ہے جسکے ٹھوس ثبوت اور شواہد بھی امریکی دفتر خارجہ کو فراہم کئے جاچکے ہیں۔ اسی طرح اشرف غنی کی افغان حکومت بھی امریکی بیساکھیوں کے سہارے محض کابل میں اپنا اقتدار بچائے رکھنے کی تگ ودو میں ہے جس کی جانب سے افغان سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ختم کرنے کیلئے اب تک کوئی ٹھوس اور فیصلہ کن اپریشن نہیں کیا گیا جبکہ بھارتی زبان بولتے ہوئے افغانستان میں ہونیوالی ہر دہشتگردی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کے کابل انتظامیہ کے وطیرے سے بھی مزید بگاڑ پیدا ہورہا ہے۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روز کابل میں چیف آف ڈیفنس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے اسی تناظر میں باور کرایا ہے کہ علاقائی امن و استحکام کا راستہ افغانستان سے گزرتا ہے جبکہ مشترکہ سوچ اور تحمل سے تمام چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بجا طور پر باور کرایا کہ دہشت گرد افغان پناہ گزینوں اور غیرمؤثر سرحدی سکیورٹی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں جبکہ پاکستان نے اپنی سرزمین پر دہشتگردوں کا خاتمہ کردیا ہے۔ اگر کابل انتظامیہ افغانستان میں امن کی بحالی کیلئے مخلص ہو تو سرحدی سکیورٹی کے اقدامات میں وہ پاکستان کا ہاتھ بٹائے اور پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کی ہرگز مخالفت نہ کرے کیونکہ باڑ نہ ہونے کے باعث ہی پاک افغان سرحد غیرمحفوظ ہے جس سے دہشت گردوں کو دونوں جانب آمدورفت کی سہولت مل رہی ہے۔ متذکرہ کانفرنس میں پاکستان‘ امریکہ‘ افغانستان اور وسط ایشیائی ممالک کا امن کیلئے تعاون جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے جو اس صورت ہی ممکن ہے کہ واشنگٹن‘ پینٹاگون اور کابل انتظامیہ پاکستان کے کردار کو شک کی نگاہ سے دیکھنا اور اسکی سلامتی کو خطرات سے دوچار کرنیوالی پالیسیاں سوچنا اور اختیار کرنا ترک کردے۔ دہشت گردی کے ناسور سے نجات کیلئے افغانستان میں امن کی بحالی کی پاکستان کو بھی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی امریکہ اپنی سلامتی کیلئے ضرورت محسوس کرتا ہے۔