پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بارہ کہو ہاؤسنگ سکیم سے متعلق رپورٹ طلب کرلی

15 فروری 2018

اسلام آباد (نامہ نگار) پبلک اکائونٹس کمیٹی نے وزارت خزانہ کو15 مئی کے بعد ترقیاتی فنڈز جاری نہ کرنے کی سفارش کر تے ہوئے کہا ہے کہ ہر سال 15مئی کے بعد جاری ہونے والے فنڈز میں قوانین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے،ترقیاتی بجٹ کے 25 فیصد فنڈز ضائع کردیئے جاتے ہیں، اصل گڑ بڑ سرکاری اداروں کو ملنے والی گرانٹس میں ہے۔کمیٹی نے بہارہ کہو ہائوسنگ سکیم معاملے پرنیب سے 15دن میں رپورٹ طلب کر لی ہے۔کمیٹی رکن اعظم سواتی نے کہا کہ پاک پی ڈبلیو ڈی میں9ارب روپے لوٹے گئے ہیں، کس نے چیکوں پر دستخط کئے ہیں، ہماری آنکھوں کے سامنے اتنا پیسہ کھایا جا رہا ہے، قوم کا ٹیکس کا پیسہ کرپشن کی نذر ہو رہا ہے، اسکیم مکمل ہونے سے پہلے فنڈز کھالئے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی سید خورشید شاہ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو بجٹ گرانٹ نمٹانے سے پہلے دیکھنا چاہیے، اس میں خزانہ ڈویژن کے ساتھ ساتھ وزارت کی بھی نااہلی ہے، آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے کمیٹی کو بتایا کہ گزشتہ کئی سالوں سے یہ میکنزم ہے اور آئندہ میکنزم ایسا بنایا جائے گا کہ بجٹ گرانٹ کی سرٹیفکیشن کی جائے گی اور کنٹرولر جنرل اکائونٹس یہ کام کرتا ہے اب آڈیٹر جنرل کرے گا، کمیٹی رکن محمود خان اچکزئی نے کہا کہ خزانہ ڈویژن کا پتہ ہے کہ 15مئی کے بعد فنڈز جاری نہیں کئے جاتے تو کیوں جاری کئے گئے، کبھی کبھی آڈٹ مک مکا کرتا ہے۔ آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ بہارہ کہو ہائوسنگ اسکیم میں 3ہزار کنال کا ٹھیکہ دیا،9لاکھ 50ہزار فی کنال زمین کی کل قیمت 1.8بلین روپے ادا بھی کئے گئے،رپورٹ کمیٹی کے سامنے ہے اور 2صفحوں کی رپورٹ بغیر دستخط کے آئی ہے۔ اجلاس میں وزارت ہائوسنگ و تعمیرات کی 2016-17ء کی آڈٹ رپورٹ کاجائزہ لیا گیا۔ آڈٹ حکام نے پی اے سی کو بتایاکہ سرکاری خزانے سے پرائیویٹ پرچیوں کے ذریعے ٹھیکے داروں کو رقوم کی ادائیگی کی جاتی ہے جس کا مقصد سرکاری طریقہ کار کو ناکام بنانا ہے۔ فنڈز لیپس ہونے سے بچانے کے لئے 69 کروڑ روپے غیر قانونی طورپر اکائونٹ میں رکھے گئے۔ سیکرٹری ہائوسنگ نے پی اے سی کو بتایاکہ یہ طریقہ کار طویل عرصہ سے جاری ہے۔ پبلک اکائونٹس کمیٹی نے وزارت خزانہ کو 15 مئی کے بعد ترقیاتی فنڈز جاری نہ کرنے کی ہدایت کی۔ ہمیں یہ بات ساڑھے چار سال بعد سمجھ میں آئی ہے۔ ہم سیاستدان ہیں ہم نے اکائونٹس میں پی ایچ ڈی نہیں کررکھی۔ آڈیٹر جنرل کو کنٹرول جنرل اکائونٹس کی طرف سے آنے والی گرانٹس کو بھی دیکھناچاہیے۔ آڈیٹر جنرل نے کہا کہ 2001ء سے پہلے گرانٹس کا معاملہ ہم خود دیکھتے تھے، فنانشل مینجمنٹ کے ایشوز کو دیکھنے کے لئے کوئی طریقہ کار وضع کرنا ہوگا۔ پی اے سی نے ارکان فیڈرل لاجز کراچی، لاہور ، پشاور اور کوئٹہ میں صفائی کے ناقص انتظامات پر تشویش کا اظہار کیا۔ پی اے سی کے اجلاس میں نیب کی کارکردگی پر بھی بات کی گئی۔ میاں عبدالمنان نے کہا کہ نیب عدالتیں اربوں روپے کے کی کرپشن کی مقدمات نہیں سن رہیں۔ پی اے سی نے کہا کہ بارہ کہو میں ہائوسنگ منصوبے کے لئے زمین مہنگے داموں خریدی گئی۔ 50 سے 70ہزار روپے فی کنال والی زمین ساڑھے 9 لاکھ روپے فی کنال میں خریدی گئی۔ نیب نے 10 سال میں تحقیقات مکمل نہیں کیں۔ پی اے سی کو بتایاگیا کہ 3 ہزار ایکٹر زمین کی خریداری کا معاہدہ 2009ء میں کیا گیا ۔ نیب نے 2 صفحات کی رپورٹ تیار کی جس پر دستخط بھی نہیں ہیں۔ نیب حکام نے پی اے سی کو بتایاکہ ابھی ثبوت اکٹھے کئے جارہے ہیں۔