امریکہ کی پاکستان کو دباؤ میں لانے کیلئے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس میں بھارتی تعاون سے مہم

15 فروری 2018

اسلام آباد (سہیل عبدالناصر) جنوبی ایشیا کیلئے ٹرمپ انتظامیہ کی نئی پالیسی پر پاکستان کو مزید دبائو میں لانے کیلئے امریکہ نے بھارت کے تعاون سے عالمی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس میں پاکستان کے خلاف مہم جوئی شروع کردی ہے۔ اس کوشش کا مقصد پاکستان کو ان ملکوں کی فہرست میں شامل کروانا ہے جن کی دہشت گرد تنظیموں کے مالی وسائل کی روک تھام نہ کرنے پر نگرانی کی جاتی ہے۔ پاکستان نے امریکی کوشش کا سدباب کرنے کیلئے تنظیم کے رکن با اثر یوروپی ملکوں کو ان اقدامات سے آگاہ کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جن کے نتیجہ میں القاعدہ، داعش، تحریک طالبان پاکستان اور دیگر دہشت گرد گروپوں کے مالی وسائل کو مئوثر طریقہ سے منقطع کیا گیا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان کی عمدہ کارکردگی کی بناء پر فنانشل ایکشن ٹاسک فورس 2015ء میں ہی پاکستان کو نگرانی والی فہرست سے ہٹا چکی ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے مذکورہ امریکی اقدام پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارے نے اگلے برس اپنے اجلاس میں پاکستان کی کارکردگی کا حتمی جائزہ لینا ہے اور تنظیم کے خودکار طریقہ کار کے تحت اس عمل کا پہلے ہی آغاز ہو چکا ہے، اس دوران نئے سرے سے اس معاملہ کو شروع نہیں کیا جا سکتا لیکن امریکی نے سیاسی وجوہ کے تحت قبل از وقت پاکستان کا معاملہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے منی لانڈرنگ کے انسداد، دہشت گرد فروپون کے مالی وسائل کی روک تھام کیلئے نئے قوانین بنائے، ان پر رمل درآمد کیا جن کی ہر سطح پر تعریف کی گئی اور ہمیں یقین ہے کہ جب بھی پاکستان کے اقدامات کا مزید جائزہ لیا جائے گا تو ان اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا جائے گا۔ ہم نے اس سلسلہ میں تنظیم کے رکن ملکوں کو پاکستان کی مساعی سے آگاہ کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ دفتر خارجہ کی سپیشل سیکرٹری تسنیم اسلم کی طرف سے پاکستان میں ارجنٹائن، آسٹریلیا، آسٹریا، بلجیم،کینیڈا، چین، ڈنمارک، برازیل، فرانس، جرمنی، یونان، آئرلینڈ، اٹلی، جاپان، جنوبی کوریا،ملائیشیا، نیدرلینڈ، ناروے، پرتگال، روس، جنوبی افریقہ، سپین، سوئیڈن، سوٗیٹزرلینڈ، ترکی، برطانیہ اور امریکہ کے سفیروں اور ہائی کمشنرز کو چند روز پہلے دفتر خارجہ میں ان اقدامات سے آگاہ کیا گیا جو پاکستان نے اینٹی منی لانڈرنگ کے حوالے سے اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کالعدم تنظیموں کی فنڈنگ روکنے، فورتھ شیڈول میں شامل افراد کے حوالے سے کئے گئے اقدامات، ان کے بنک اکاؤنٹس منجمند کرنے اور کالعدم تنظیموں کو نئے ناموں سے کام کرنے سے روکنے، پاکستان کے انٹی منی لانڈرنگ کے قوانین اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں بھی سفیروں کو تفصیل سے بتایا ۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا ہیڈکوارٹرز پیرس میں ہے، یہ ایک بین الاقوامی باڈی ہے جو اینٹی منی لانڈرنگ اور فنانسنگ فار ٹیررازم کے انسداد کے لئے معیار مقرر کرتی ہے۔