مچھلی کی پیداوار بڑھا کر ماہی گیری کی صنعت کو فروغ دیا جائے، پی اے سی ذیلی کمیٹی

15 فروری 2018

اسلام آباد(نامہ نگار)پی اے سی ذیلی کمیٹی میںکوسٹل گارڈ ز کے حکام نے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی ماہی گیروںکی کشتیوں کو لنگرانداز کرنیکی جگہ نہیںہے اس لیے زیادہ پکڑا نہیں جاتا ہے ۔جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے تجویز دی گئی ہے کہ کشتیوں کی رجسٹریشن کے ایک ہی اتھارٹی قائم کی جائے رجسٹریشن کا نظام صوبے یا وفاق کے حوالے کردیا جائے۔ پبلک اکائونٹس کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنونئیر کمیٹی عارف علوی کی زیر صدارت ہوا ، اجلاس میں ماہی گیری کی صنعت کے فروغ اور مچھلی کی پیداوار کو بڑھانے کے حوالے سے معاملات زیر بحث لائے گئے، اجلاس میں میری ٹائم ، کوسٹل گارڈ، سندھ حکومت اور وفاقی حکومت کے نمائندوں نے شرکت کی، اجلاس میں وفاقی حکومت کی جانب سے سنٹرلائزڈ رجسٹریشن سسٹم لانچ کرنے کی تجویز دی گئی، سندھ حکومت نے کہاکہ کشتیوںکی رجسٹریشن کیفشنگ ہاربر بھی موجود ہے انہوںنے اس تجویز سے اتفاق کیاکہ کشتیوں کی رجسٹریشن کا ایک ہی نظام ہونا چاہیے ، ، وفاقی حکومت کے نمائندے نے کہاکہ کشتیوںکی رجسٹریشن کے لیے کئی اٹھارٹیز موجود ہے حکومت ہی ایک اٹھارٹی قائم کرے اٹھارویں ترمیم کے بعد یہ معاملہ صوبائی ہوچکا موٹروہیکل طر ز پر ایک ہی رجسٹریشن اتھارٹی قائم کردی جائے یا تو وہ صوبائی ہو یا پھر وفاقی اتھارٹی ہو،پکڑی گئی کشتیوں کے آکشن کے حوالے سے کوسٹل گارڈ ز کے کرنل نے بتایاکہ پہلے کئی کشتیاں سمندری حدود کی خلاف ورزی پر پکڑی جاتی تھیں بعض اوقات 100/150سے زائد سمندری حدود کی خلاف ورزی کرتے آجاتی تھیںجوپکڑ لیتے تھے اب 22-23پکڑتے ہیں کیوں کہ ان کو رکھنے کی جگہ ہی نہیںہے عدالت سے کلئیرنس اورسزا کے بعد ہی ان کشتیوںکو آکشن کیا جاتا ہے ، پورٹ اینڈ شپنگ حکام نے بتایا کہ آکشن کے بعد ماہی گیروں کو پابند کیا جاتا ہے کہ ان کو پاکستانی ڈائزین کے مطابق بنائیں اور بھارتی انجنز نکال دیںتاکہ پتہ چل سکے یہ پاکستانی ماہی گیروںکی کشتیاںہیں ، 10سے 15لاکھ روپے میں بوٹ مل جاتی ہے ۔