پی آئی اے کے جرمن سی ای او کی تعلیمی قابلیت ہوا بازی نہیں تھی: سردار مہتاب

15 فروری 2018

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی) سینٹ کی پی آئی اے کے معاملات پر خصوصی کمیٹی نے سابق جرمن سی ای او کو ملک واپس بلا کر تحقیقات کرنے کی سفارش کر دی جس پر وزیراعظم کے مشیر ہوا بازی سردار مہتاب احمد خان نے کہا کہ سہولت کار کا کردار ادا کرنے والے کو تفتیش میں شامل کیا جائے برینڈ ہیڈن کی تعلیمی قابلیت اس عہدے کیلئے ناکافی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے میں جرمن سی ای او لگانا ہی غلط فیصلہ تھا۔ اراکین کمیٹی نے الزام عائد کیا کہ پارلیمنٹ لاجز میں ان کے کمروں کو لگے تالوں میں کوئی ایلفی ڈال جاتا ہے‘ تاخیر سے آنے کی وجہ بھی یہی ہے جس پر جوائنٹ سیکرٹری حفیظ اللہ شیخ نے کہا کہ پارلیمنٹ لاجز کے سی سی ٹی وی کیمروں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کنوینر کمیٹی سید مظفر حسین شاہ نے کہا کہ میری صدارت میں یہ آخری اجلاس ہو گا شیریں رحمان نے کہاکہ پی آئی اے خصوصی کمیٹی نے جو کام کیا حکومت نے اچھا رسپانس نہیں دیا۔ اراکین کمیٹی نے کہاکہ دانیال عزیز کو روکنا ہو گا جو ٹی وی پر پی آئی اے کو فروخت کرنے کی بات کرتے رہتے ہیں ایسی حالت میں پی آئی اے کو کون خریدے گا۔ سردار مہتاب کی جانب سے انگریزی میں بریفنگ دینے پر شاہی سید نے کہا کہ پی آئی اے کمیٹی میں انگریزی میں بات کرنے سے شاید جنت ملے گی، ہمارے تحفظات ہیں کہ پی آئی اے کا چئیرمین غیر ملکی کیوں لگایا گیا، جو جہاز فلم شوٹنگ کے لئے دیا گیا اس پر اسلام مخالف فلم شوٹ ہوئی لیکن ہمیں کچھ نہیں بتایا گیا۔ سینٹیر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ ہم نے بورڈ آف ڈائریکٹر کو تبدیل کرنے کا کہا تھا لیکن کچھ نہیں ہوا، مشیر ہوا بازی سردار مہتاب نے کہا کہ جرمن سی ای او نے 47 ہزار یورو میں جہاز فروخت کیا۔ دوبارہ اس کی قیمت 14لاکھ ڈالر لگی، جرمن سی ای او نے 1 لاکھ70 ہزار ڈالر چھ انجنوں کا معاہدہ کر رکھا تھا برینڈ ہیڈن جہاز کیساتھ چھ انجن بھی بیچنے چلا تھا، جرمن سفیر نے وزارت خارجہ حکام کو برانڈ ہیڈن کی واپسی کی یقین دہانی کرائی تھی۔ وزارت خارجہ جرمن سفیر کے سامنے معاملے کو اٹھائے۔