بھارت، پاکستان کو سمجھنے میں غلطی نہ کرے!

15 فروری 2018
بھارت، پاکستان کو سمجھنے میں غلطی نہ کرے!

وزیردفاع خرم دستگیر نے ایک بیان میں بھارت کو خبردار کیا ہے کہ بھارت غلط اندازہ نہ لگائے، اگر اس نے مہم جوئی کی اور پاکستان کیخلاف ساتھ کسی بھی طرح کی جارحیت کی کوشش کی تو اسے اسکی زبان میں ہی جواب دیا جائیگا۔ دریں اثناء مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی جاری ہے، قابض فوج نے دو مزید کشمیری نوجوان شہید کر دئیے جبکہ فوجی کیمپ میں بھی جھڑپ جاری ہے۔ اضافی نفری طلب کر لی گئی ہے۔ سنجوان کے فوجی کیمپ سے ایک اور بھارتی فوجی کی نعش برآمد ہونے سے ہلاکتوں کی تعداد سات ہو گئی ہے۔ اسلام آباد میں وزارت خارجہ کے بیان میں بھارت سے کہا گیا ہے کہ وہ بغیر ثبوت الزام لگانے کی بجائے پاکستان مخالف ریاستی سپانسر جاسوسی کا جواب دے، جس کا زندہ ثبوت را کا افسر کل بھوشن یادیو ہے۔
پاکستان کو سنگین نتائج کی دھمکیاں، دبائو میں لانے کیلئے، سرحدوں پر بلااشتعال فائرنگ، دہشت گردی کے الزامات، شرانگیز پراپیگنڈہ اور اس کیخلاف سازشوں اور ریشہ دوانیوں کے پیچھے ایک ہی ذہنیت کارفرما ہے کہ اس نے ابھی تک تقسیم ہند کو دل سے نہیں تسلیم کیا۔ اس نے پاکستان کی آزادی خود مختاری اور سالمیت کا کبھی احترام نہیں کیا۔ اسکی انتہائی کوشش ہے کہ پاکستان کو ترقی و خوشحالی کی منازل طے کرنے کا موقعہ نہ دیا جائے تاکہ وہ اس سے آگے نہ نکل سکے۔ جب تک بھارت اس فکر کے زیر اثر رہے گا۔ اسکے پاکستان دشمن روئیے میں تبدیلی نہیں آئیگی۔ کشمیری، حق خودارادیت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ پاکستان صرف انکی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی سطح پر مدد کر رہا ہے۔ یہ کبھی بھی ثابت نہیں ہواکہ پاکستان جدوجہد کرنیوالے کشمیریوں کو اسلحہ دے رہا ہو یا فوجی یا تخریب کار بھیجے ہوں۔ اگرچہ وزارت خارجہ نے ایک بار پھر بھارت پر زور یا ہے کہ وہ پاکستانی مداخلت کا ثبوت دے لیکن بھارت ایسا نہیں کریگاکیونکہ اسکے پاس کوئی ثبوت نہیںالبتہ بے بنیاد الزام تراشیوں کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ عالمی برادری کو پاکستان کا روشن چہرہ داغدار کر کے دکھانا اور اسے دہشت گرد باور کرانا بھارت کی پالیسی کا بنیادی جزو ہے۔ بدقسمتی سے اس کام میں اسے امریکہ کی سرپرستی اور افغانستان کی معاونت بھی حاصل ہو گئی ہے۔ امن کی آشا کے پرچارکوں کو جان لینا چاہئے کہ بھارت ہمارے ساتھ کبھی پرامن ہمسائے کی طرح نہیں رہے گا۔ ہمیں عالمی سطح پر بھارتی شر انگیز پراپیگنڈہ کا توڑ کرنے اور اسے اسکی زبان میں جواب دینے کیلئے ہر وقت مستعد اور تیار رہنا ہوگا۔ ہم پرامن ہیں مگر وطن عزیز کی طرف میلی نظر سے دیکھنے والوں سے نپٹنا بھی جانتے ہیں۔