سورۃ بقرہ کے مضامین (25)

15 فروری 2018

جاہلیت کی خود ساختہ رسمیں : اسلام کی روشنی سے پہلے اہل عرب میں یہ رسم رائج ہوگئی تھی کہ جب وہ لوگ حج کے لیے احرام باندھ لیتے تو اپنے گھرمیں جانے کے لیے دروازے سے داخل ہونے کو نحوست اور بدشگونی گمان کرتے ، ایسے میں وہ گھر کے عقب سے راستہ بناکر داخل ہوتے یا صحن کی دیوار کودکر آتے ، وہ اسے تئیںبڑی عبادت اورکعبہ مکرمہ کی تعظیم گردانتے تھے، اس غلط فہمی کا ازالہ کیاگیا اورفرمایا گیا کہ اصل بات تقویٰ اختیار کرنا ہے اوراسی میں دنیا اورآخرت کی کامیابی ہے، یہ عجیب وغریب اورخود ساختہ رسومات کوئی معنی نہیں رکھتیں ۔
جہاد میں بھی حدود وقیود ہیں :جب مسلمانوں کی ایک جماعت تیار ہوگئی ، اورکفار اب بھی اپنی ریشہ دوانیوں سازشوں بلکہ عملی ایذاء رسانیوں سے باز نہ آئے تو اب مسلمانوں کو بھی اجازت مل گئی کہ یہ خود پر حملہ کرنے والوں کو جواب دے سکیں ، لیکن مسلمانوں کو جنگ وجہاد کی حالت میں بھی حدود وقیود اورقاعدوں ، ضابطوں کی پاسداری کاحکم دیا گیا ، مسلمانوں کا جہاد انسانیت کی بیخ کنی کے لیے یا دشمنوں سے اندھا انتقام لینے کے لیے نہیں ہوتا، بلکہ یہ تو برائی ، شر اورفتنہ کے خلاف ہوتا ہے ، یہ اسی طرح ہے جس طرح ایک سرجن جسم سے فاسد پھوڑے کو نکال دیتا ہے، لیکن آپریشن اورجراحت اندھا دھند نشتر زنی کا نام نہیں ہے بلکہ بڑی احتیاط اورنزاکت کا کام ہے، اسی طرح مسلمانوں کا جہاد بھی برائی کو اس کی جڑ سے اکھڑنے کے لیے ، انسانیت کے جسم سے فاسد مواد کے اخراج کے لیے ہے ،نہ کہ جسد انسانیت کا حلیہ بگاڑنے کے لیے، مسلمانوں سے کہاگیا کہ وہ کعبہ اوراس حوالی کا احترام بھی کریں اورحرمت والے مہینوں کی پاسداری بھی کریں لیکن کفار یہ یاد رکھیں کہ فتنہ تو قتل ہے بھی زیادہ نقصان دہ ہے ، فتنہ کی صورت میں مسلمان بہرحال اس کی بیخ کنی کریں گے، اوراس کا خاتمہ کرکے دم لیں گے۔
حج بیت اللہ اوراس کے مناسک کا تذکرہ : حج اسلام کے اہم اوربنیادی ارکان میں سے ایک ہے ، کعبۃ اللہ نہ صرف مسلمانوں بلکہ انسانی وحدت کا ایک بہترین ذریعہ ہے ، حج بیت اللہ بھی وحدت اسلامی کا اعلی ترین نمونہ ہے، کہ کس طرح انسان کا لباس اورایک سارے شعار ایک جیسے ہوجاتے ہیں ،یہ ہر رنگ ، ہر علاقے اورہر نسل کے لوگ ایک مرکز کے آکر جمع ہوجاتے ہیں اورایک جیسا تلبیہ پڑھتے ہوئے ، ایک ہی جیسے اعمال بجالاتے ہیں، وحدت واتحاد کا ایسا مظاہرہ شاید ہی کسی قوم اورملت کو عطاء کیاگیا ہو۔
دنیا اورآخرت میں حسن واعتدال : ایک اہم ترین اوراللہ اوررسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پسندیدہ ترین دعاء کی تعلیم دی گئی جس میں دنیا کا حسن وخوبی بھی مانگا گیا اورآخرت کی خیرات وجمال بھی، اس دعاء کی ذریعہ سے مومن کو دنیا اور آخرت دونوں کی فکر کرنے کا شعور دیا ہے اوراسے دونوں کے معاملات میں اعتدال وتوازن کا درس دیاگیا ۔

سورۃ بقرہ کے مضامین (5)

یہود سے خطاب : مدینہ منورہ میں یہود کی کثیر تعداد آباد تھی ایک روایت کے مطابق ...