جمعرات ‘ 28 ؍ جمادی الاوّل‘1439 ھ ‘ 15؍ فروری 2018ء

15 فروری 2018

پی اے سی کے اجلاس میں وزارت تعلیم کے حکام خواندہ کی تعریف نہ بتا سکے۔
اسے کہتے ہیں ’’چراغ تلے اندھیرا‘‘ یہ خود محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام کی حالت ہے تو کسی اور کا ذکر ہی کیا۔ پبلک اکائونٹس کمیٹی کے اجلاس میں کوئی سبزی والا، پھل والا یا چنے والا تو شرکت کرنے سے رہا یہاں وہی لوگ آتے ہیں جو اعلی تعلیم یافتہ ہوتے ہیں۔ خاص طور پر سرکاری محکموں سے تو اعلی حسب و نسب و تعلیمی قابلیت رکھنے والے ہی ایسے اجلاسوں میں اپنے محکمہ کی دھاک بٹھانے کے لئے بھیجے جاتے ہیں۔ مگر محکمہ تعلیم کی تو بات ہی نرالی ہے۔ اس نے یہ کون سے گامڑ وہاں بھیج دیئے جن کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ خواندہ کی تعریف کیا ہے۔ سچ کہیں تو اب اس خبر کے شائع ہونے کے بعد خود وزیر تعلیم اور تمام سیکرٹری اور افسران لغات کھول کر یہ معنیٰ ازبر کر رہے ہوں گے کہ کوئی ان سے بھی نہ پوچھ لے۔ کیونکہ وہ خود بھی نہیں جانتے کے خواندہ کون ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں حروف تہجی کی پہچان کرنے والے گنتی کے عدد جاننے والے اور انگوٹھا لگانے کی بجائے دستخط کرنے والے کو خواندہ سمجھ لیا گیا ہے۔ اس کے بعد ناخواندہ کہہ کر کوئی کسی کی توہین نہیں کر سکتا۔ ورنہ خواندہ قومیں ہی جانتی ہیں کہ خواندہ کی تعریف کیا ہے اور خواندہ کون ہوتا ہے۔ ہم بے چارے آج تک یہ بھی نہیں جان سکے۔ پھر بھی ہم اپنی مجموعی آبادی میں سے 45 فیصد کے خواندہ افراد ہونے کے دعوے بڑے فخریہ انداز سے کرکے اپنی خواندگی کا خود مذاق اڑاتے ہیں۔
٭…٭…٭…٭
داعش کے رہنما ابوبکرالبغدادی زندہ ہیں۔عراقی وزارت داخلہ
کیا اپنی تباہی وبربادی سے ابھی تک عراقی حکومت کا دل نہیں بھرا کہ وہ یہ نیا فسانہ لے بیٹھی۔ اب تک تو پوری دنیا داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی موت کی خبر پر یقین کر چکی ہے۔ کیونکہ اس کی ہلاکت کی خبر کے بعد اس کی کوئی ویڈیو یا آڈیو اپنے ساتھیوں کو ہلاشیری دیتی سنائی یا دکھائی نہیں گئی۔ جس کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے بھی سکون کا سانس لیا تھا کہ ’’جان بچی سو لاکھوں پائے‘‘ مگر یہ سکون عارضی تھا۔ اپنے سربراہ کی ہلاکت کے باوجود داعش کے حملوں میں کمی نہیں آئی۔ اور وہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے سینے پر مونگ دلتی رہی۔
داعش کے نام پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے عراق کو داعش کا قبرستان بنا دیا۔ مگر اس قبرستان میں آج بھی خاموشی نہیں۔ آئے روز نت نئے جہادیوں اور فسادیوں کی تدفین ہوتی ہے۔ اب عراقی وزارت داخلہ نے نجانے کہاں سے بغدادی کے زندہ ہونے کی خبر پائی ہے۔ اور یہ خبر چلا بھی دی ہے۔ لگتا ہے آسمان پر مزید کسی نہ کسی ملک کی بربادی کے مشورے ہو رہے ہیں۔ خدا جانے اب یہ برق کہاں گرے گی۔ بقول اقبال…؎
’’برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر‘‘
دشمنوں کی یہ تکنیک اب سب کو سمجھ آنے لگی ہے کہ پہلے وہ کبھی کیمیائی ہتھیار کبھی ایٹمی ہتھیار اور کبھی داعش کا سراغ لگاتے ہیں۔ اس کے بعد عراق ہو شام ہو یا لیبیا اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتے ہیں۔
٭…٭…٭…٭
ناہید اختر کو ان کی فنی خدمات پر ایک کروڑ روپے کا چیک دے دیا گیا۔
ملتان سے اٹھنے والی یہ خوبصورت طرحدار آواز بہت جلد لاکھوں دلوں کو اپنا گرویدہ بنا گئی۔ آئی اور چھا گئی۔ شاید اسی کو کہتے ہیں۔ پاکستانی فلم انڈسٹری پر اس وقت حقیقت میں صرف نورجہاں اور رونا لیلیٰ کا راج تھا۔ رونا لیلیٰ بھی بنگلہ دیش بننے کے بعد ڈھاکہ چلی گئی تو ایسے میں ملتان سے…؎
کالا ڈوریا کنڈے نال اڑیا وے
کہ چھوٹا دیورا بھابھی نال لڑیا وے
والا لوک گیت گانے والی اس نوخیز گلوکارہ نے بہت جلد موسیقاروں کی توجہ حاصل کر لی۔ ٹی وی پر چند اور گیت گائے تو فلمی دنیا نے اسے اپنے دامن میں سمو لیا۔ پھر کیا تھا ایم اشرف کی موسیقی اور ناہید اختر کی مست اور رسیلی آواز نے دھوم مچا دی۔ ماضی کی نامور گلوکارہ ثریا کی طرح ناہید اختر کی آواز بھی بڑی تیز اور سریلی تھی۔ مرکیاں ان کے گلے میں بولتی تھیں۔ جلد ہی ان کا طوطی بولنے لگا۔
ہمارے صحافی دوست سے شادی کے بعد وہ موسیقی کی دنیا سے کنارہ کش ہو چکی تھیں ان کی گھریلو زندگی بھی بڑی آرام دہ تھی گزشتہ برس ان کے شوہر کا انتقال ہوا۔ حکومت کی طرف سے انہیں فنی خدمات پر ایک کروڑ کی جو رقم ملی ہے وہ قابل تعریف ہے۔
اگر ہماری حکومت واقعی فن شناس ہے فنکاروں کی قدردان ہے تو اسے ان ماضی اور حال کی فلمی اداکارائوں اور اداکاروں پر بھی نظر کرم کرنی چاہئے جو کسمپرسی، بیماری اور غربت کے ہاتھوں گھٹ گھٹ کر مر رہے ہیں۔ اچھا وقت جانے کے بعد ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔ فنی خدمات کا اعتراف اچھا قدم ہے مگر اسے ’’مایا کو ملے مایا کر کر لمبے ہاتھ‘‘ والا فارمولا نہ بنایا جائے۔ غریب، بیمار اور چھوٹے موٹے فنکاروں کی بھی اس فراخدلی سے مدد کی جائے۔
٭…٭…٭…٭
بھارتی پنجاب کے وزیر کا کمال لیکچرار کا تبادلہ بذریعہ ٹاس کر دیا۔
یہ تو بھارتی سکھ وزیر نے حقیقت میں سکھا شاہی دور کی یاد تازہ کر دی جب رنجیت سنگھ کے دور میں جسے سکھ سنہری دور کہتے ہیں اسی طرح ٹاس کے ذریعے درخواستوں کے منظور ہونے اور نامنظور ہونے کا فیصلہ کیا جاتا تھا۔ کہتے ہیں کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ من مرضی کے مالک تھے درخواستوں کے انبار سے زچ آ کر انہیں یکجا کرکے ان کوہوا میں اچھالتا جو درخواست میز پر گرتی ان کو منظور اور جو نیچے زمین پر گرتی ان کو نامنظور قرار دیتے۔ ایسا عدل شاید ہی کسی اور حکمران کو نصیب ہوا ہو۔ اب بھارتی پنجاب میں ایک سکھ وزیر نے اپنی خالصہ روایت کو ایک بار پھر کچھ اس طرح تازہ کیا کہ دو لیکچرز ایک ہی سیٹ پر تبادلہ چاہتے تھے۔اس کا فیصلہ ٹاس سے کیا جس کی کسی ظالم نے ویڈیو بنا لی اور وائرل کر دی بس پھر کیا تھا مخالفین نے انکی اس عدل و انصاف نئی تکنیک کے خلاف طوفان بدتمیزی برپا کر دیا ہے۔ طرح طرح کے نامعقول قسم کے تبصرے کر رہے ہیں۔ بھلا یہ کونسی عجیب بات ہے یہی کام مہاراجہ رنجیت سنگھ کرے تو واہ بھئی واہ۔ وزیر چرن سنگھ چنی کرے اس کی چنی کھینچی جائے۔ اس طرح تو انہوں نے اپنی جان چھڑائی ورنہ سفارش کرنے والوں نے اپنے اپنے امیدوار کے لئے کچھ نہ کیا ہو گا۔ آخر الیکشن میں بھی تو برابر ووٹ ملنے پر ٹاس ہی کیا جاتا ہے اگر وہ درست ہے تو پھر یہ نئی سکھا شاہی تکنیک بھی آوے ای آوے…سفارشی کلچر جاوے ای جاوے۔