الیکشن ایکٹ میں سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن سے متعلق شقوں کیخلاف درخواست کی سماعت

15 فروری 2018

اسلام آباد (وقائع نگار) اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن ایکٹ 2017 میں سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن سے متعلق شقوں کے خلاف درخواست کی سماعت کے موقع پر عدالت کو بتایا گیا کہ درخواست گزار سیاسی جماعتوں نے الیکشن کمیشن کو نوٹس کے اجراء کے لئے مطلوبہ فیس ہی جمع نہیں کرائی جس کی وجہ سے نوٹس جاری نہیں ہو سکا۔ الیکشن ایکٹ 2017ء کی شق 202 اور 204 کے خلاف چار سیاسی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ صفدر ، صدائے پاکستان پارٹی ، پاکستان ڈیموکریٹک فرنٹ اور ڈیموکریٹک پارٹی آف پاکستان نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ گزشتہ روز عدالت عالیہ کے جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی تو دفتری رپورٹ میں بتایا گیا کہ درخواست گزاروں کے فریقین کو نوٹس کے اجراء کے لئے مطلوبہ فیس ہی جمع نہیں کرائی۔ درخواست گزاروں کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ فیس جمع کرا دی گئی تھی۔ فاضل جسٹس نے دفتری رپورٹ کی روشنی میں برہمی کا اظہار کرتے ہوئے درخواست گزاروں کو مطلوبہ فیس جمع کرانے کی ہدایت جاری کی۔ فاضل عدالت نے کیس کی سماعت ایک ہفتے کے لئے ملتوی کر دی۔واضح رہے کہ درخواست گزاروں نے الیکشن ایکٹ 2017ء کی شق 202 اور 204 کے تحت الیکشن کمیشن کی جاری سے جاری نوٹسز کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے آئین و قانون کے مطابق رجسٹریشن کروائی لیکن الیکشن کمیشن اب الیکشن ایکٹ 2017ء کی دفعات 202 اور 204 کے تحت ان سے دو ہزار کارکنان کی فہرست اور دو لاکھ روپے فیس کی فراہمی کا مطالبہ کر رہا ہے جو کہ درست نہیں ، ان کا کہنا تھا کہ الیکشن ایکٹ 2017ء کی شق 202 اور 204 ماورائے آئین ہیں لہٰذا الیکشن کمیشن کے نوٹس کو کالعدم قرار دیا جائے۔