نیا امریکی بیانیہ اور ہمارے سیاستدانوں کی ترجیحات !

15 فروری 2018
نیا امریکی بیانیہ اور ہمارے سیاستدانوں کی ترجیحات !

بین الاقوامی سیاست میں ہر ملک اپنے قومی مفادات کا اسیر ہوتا ہے۔ جب کسی ریاست کے قومی مفادات کا سوال پیدا ہوتا ہے تو پھر اس وقت کوئی دشمن یا دوست نہیں ہوتا۔ امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی پریشان کن اور مبہم تاریخ، اس سیاسی حقیقت پسندی کی بہترین مثال ہے۔اور راقم گاہے بگاہے اس پر روشنی ڈالتا رہتا ہے، لیکن مدعا ہمیشہ یہی رہتا ہے کہ کیا ہم امریکا کے بغیر ’’گلوبل ویلیج‘‘ کا حصہ بن کر رہ سکتے ہیں؟ اس پر دوست احباب نعرے لگاتے نہیں تھکتے کہ ہم گھاس کھا لیں گے مگر امریکا کے آگے جھکیں گے نہیں… ویسے جھکنے کے لیے کہہ بھی کون رہا ہے ؟…
بات تو ہم اکثر برابری کی کرتے رہے ہیں کہ ان سیاستدانوں کو اپنا قد کاٹھ ، اپنے قول و فعل کے ساتھ اس قدر متاثر کن ہونا چاہیے کہ ان کی بات میں وزن ہو، جوپاکستان کا مقدمہ پیش کرسکیں… ایسا نہ ہو کہ عالمی سطح پر دھتکار دیے جائیں کہ جائو پہلے اپنے ملک میں کرپشن کے کیچڑ کے سرخ و سیاہ چھینٹے دھلوا کر آئو… خیر بات پھر آگے نکل جاتی ہے اور غصہ اس بات پر اکثر آجاتا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ہمارا ملک آج کہاں کھڑا ہے؟ جو امریکی پاکستان کا ویزہ حاصل کرنے کے لیے لائن میں کھڑے ہوا کرتے تھے، آج انہوں نے ہمیں لائن میں کھڑا کر دیا ہے۔ ہر دوسرے دن امریکا میں’’ پاکستان ‘‘ زیر بحث رہتا ہے… کوئی کہتا نہیں تھکتا کہ پاکستان کو ’’سبق‘‘ سکھانے کا وقت آگیا ہے… کوئی کہتا ہے کہ دنیا میں اگر کہیں دہشت گرد بستے ہیں تو وہ پاکستان ہے…
جبکہ ہمارے سیاستدانوں نے حقائق کو دنیا کے سامنے لانے کے بجائے اپنی آنکھیں موند لی ہیں اور ان کی مثال اُس کبوتر جیسی ہو گئی ہے جو بلی کو دیکھ کر اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہے لیکن بلی اُسے چھوڑتی نہیں۔ اب گزشتہ روز امریکہ کے نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر ڈینیئل کوٹس نے پاکستان کے انتہا پسندوں سے تعلقات اور جوہری ہتھیاروں میں اضافے کو دنیا کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ لیکن ہماری وزارت خارجہ تادم تحریر 24گھنٹے گزرنے کے باوجود ،مجال ہے کہ اس پر ایک لفظ بھی بول رہی ہے… حالانکہ ڈینئیل کوٹس نے ڈھکے چھپے الفاظ میں نہیں بلکہ پاکستان کا نام لے کر خبردار کیا ہے کہ وہ انتہاپسند جن کی پاکستان پشت پناہی کر رہا ہے، وہ افغانستان اور انڈیا کے اندر حملے کرتے رہیں جس سے خطے میں کشیدگی پھیل رہی ہے۔کوٹس کے مطابق امریکہ نے حالیہ ہفتوں میں طالبان، حقانی گروپ اور دیگر تنظیموں کے آٹھ افراد پر پابندیاں عائد کی ہیں مگر امریکی خفیہ اہلکاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان ان انتہا پسندوں سے روابط جاری رکھے گا جن سے امریکہ کی انتہاپسندی کو روکنے کی کوششیں محدود ہو جائیں گی۔جوہری ہتھیاروں سے متعلق کوٹس نے ارکان کو آگاہ کیاکہ پاکستان مزید نئے جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت کو بڑھاتا رہے گا جو امریکی مفادات کے لیے مسلسل خطرے کا باعثِ ہے۔
ایسے بیانات اُس وقت جنم لیتے ہیں جب گزشتہ برس ستمبر میں پاکستانی وزیرِ خارجہ خواجہ آصف نے امریکہ کے دورے کے دوران کہا تھا کہ حقانی نیٹ ورک اور حافظ سعید جیسے عناصر پاکستان کے لیے ایکLiabilityیا بوجھ ہیں مگر ان سے جان چھڑانے کے لیے پاکستان کو وقت چاہیے۔پھر وہ پاکستان آئے حافظ سعید اور حقانی نیٹ ورک کے حوالے سے قومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر بیان داغے جسے خصوصاََ بھارت میں پراپیگنڈہ کے طور پر لیا گیا، کہ ’’دہشت گرد‘‘ ملک کا وزیر خارجہ اپنے ہی اداروں کے خلاف اُٹھ کھڑا ہوا ہے۔
اور رہی بات امریکا کی تو ہمارے امریکا کے ساتھ تعلقات 1947 کے بعد سے ہی کشیدہ ، شفاف اور کبھی مبہم رہے ہیں۔ علاقائی اور بین الاقوامی طور پر دونوں ممالک ایک دوسرے کے مفادات سبوتاژ کرتے رہے ہیں جبکہ 11 ستمبر 2001 کے بعد سے پاکستان نے ان تعلقات کی بھاری قیمت ادا کی۔ پاکستان کے خلاف ٹرمپ کی الزام تراشی اور امریکہ کی جانب سے بھارت کی حمایت کے باعث اسلام آباد، واشنگٹن کے متعلق اپنی خارجہ پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور ہو چکا ہے۔
امریکی جرنیل کا کہنا ہے کہ افغانستان میں کامیابی کے لئے طریقہ کار پر اختلاف ہے لیکن پاکستان کے اندر فوجی کاروائی کی منصوبہ بندی نہیں کر رہے۔ پینٹاگان نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ جنوبی ایشیائی خطے میں دہشت گردوں کو شکست دینے کے لئے وہ امریکی کوششوں میں شامل ہو جائے۔ پاکستان نے امریکہ پر واضح کیا ہے کہ پاکستان ایک آزاد اور خودمختار ملک ہے اور اس کی حاکمیت اعلی کا احترام کیا جانا چاہیئے۔
امریکی رہنماؤں کے بیانات میں تضاد دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے امریکی تھنک ٹینک خود ہی پاکستان کے حوالے سے پالیسی بارے واضح نہیں ہیں۔ اسی لئے تو کبھی ٹرمپ کی جانب سے دھمکی نما بیان سامنے آتا ہے تو کبھی امریکی جرنیل ’’پاکستان کے اندر فوجی کاروائی کی منصوبہ بندی نہیں کر رہے ‘‘کا بیان داغ دیتے ہیں۔
پاکستان بارے منقسم امریکی پالیسی کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ کے پالیسی سازوں کا ایک حصہ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کی جانے والی کوششوں کو تسلیم کرتا ہے تو دوسرا پاکستان پر افغانستان میں اپنی ناکامی کا ملبہ ڈالنے کا خواہش مند ہے۔ اور یہی سارا کیس ہمیں دنیا کو دکھانا اور سمجھانا چاہیے جس میں حکومت مکمل طور پر فیل نظر آرہی ہے۔
پاکستان ایک آزاد اور خودمختار ملک ہے، ایسے میں امریکہ کی جانب سے آنے والے مخالفانہ بیانات افغان امن عمل کو مسلسل دور لے کر جا رہے ہیں۔ جنوبی ایشیائی خطے میں امریکہ ہر قیمت پر اپنا اثر و رسوخ قائم رکھنا چاہتا ہے، جس کے دو بڑے مقاصد ہیں، ایک تو مستقبل کی سپر پاور چین پر نظر رکھنا تو دوسرا افغانستان کی زمینوں میں دفن خزانے پر قبضہ کرنا ہے۔ ان مقاصد کے حصول کے لئے امریکہ اپنی حکمت عملی مرتب کر رہا ہے۔
پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے اس لئے امریکہ پر لازم ہے کہ وہ اس کی خود مختاری کا ہر صورت احترام کرے اور ڈکٹیشن دینے سے گریز کرے۔ کیونکہ اگر امریکی رویے میں تبدیلی نہ آئی تو اس سے دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں دراڑ پڑنے کا خدشہ ہے، جس سے افغان امن عمل براہ راست متاثر ہو گا۔ امریکی انتظامیہ کی ان پالیسیوں کے باعث ہی پاکستان امریکہ تعلقات کی 70 سالہ تاریخ میں پہلی بار ان دونوں ممالک میں کشیدگی انتہا کو پہنچی ہے، اور پاکستان کو بھی ٹرمپ انتظامیہ کو بالآخر باور کرانا پڑا کہ وہ اسے اپنے لئے نرم چارہ ہرگز نہ سمجھے۔ پاکستان اپنی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ و دفاع کی مکمل استعداد و صلاحیت رکھتا ہے۔ اس پر امریکی لہجے میں نرمی پیدا ہوئی، اور واشنگٹن اور پینٹاگان کی جانب سے اس امر کا اظہار سامنے آنے لگا کہ اعتماد سازی کی بحالی کے لئے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں۔

پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے اس لئے امریکہ پر لازم ہے کہ وہ اس کی خود مختاری کا ہر صورت احترام کرے اور ڈکٹیشن دینے سے گریز کرے۔ کیونکہ اگر امریکی رویے میں تبدیلی نہ آئی تو اس سے دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں دراڑ پڑنے کا خدشہ ہے، جس سے افغان امن عمل براہ راست متاثر ہو گا۔ امریکی انتظامیہ کی ان پالیسیوں کے باعث ہی پاکستان امریکہ تعلقات کی 70 سالہ تاریخ میں پہلی بار ان دونوں ممالک میں کشیدگی انتہا کو پہنچی ہے، اور پاکستان کو بھی ٹرمپ انتظامیہ کو بالآخر باور کرانا پڑا کہ وہ اسے اپنے لئے نرم چارہ ہرگز نہ سمجھے۔ پاکستان اپنی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ و دفاع کی مکمل استعداد و صلاحیت رکھتا ہے۔ اس پر امریکی لہجے میں نرمی پیدا ہوئی، اور واشنگٹن اور پینٹاگان کی جانب سے اس امر کا اظہار سامنے آنے لگا کہ اعتماد سازی کی بحالی کے لئے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ ایک جانب تو افغانستان میں امن کی بحالی کے لئے متفکر نظر آتی ہے جبکہ دوسری جانب نہ صرف کابل حکوت پر افغان سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ختم کرنے پر زور نہیں دیا جاتا، بلکہ افغانستان میں تعینات امریکی افواج بھی دہشت گردوں کے ان ٹھکانوں سے دانستہ صرف نظر کئے ہوئے ہیں۔ اگر امریکہ اور افغان حکومت صحیح معنوں میں افغانستان میں امن کا قیام چاہتے ہیں تو انہیں پاکستان کے بارڈر محفوظ بنانے پر خوشی ہونی چاہیئے تھی۔ لیکن ان کی جانب سے پاکستان پر الزام تراشی کا لامتناہی سلسلہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔
اسی لئے حقانی نیٹ ورک کے خلاف کاروائی کی بات کی جاتی ہے۔ حالانکہ افغانستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات امریکی فوج کی امن میں ناکامی کے سوا کچھ نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ امریکہ پاکستان کو دباؤ میں لانے کی حکمت عملی کو خیر باد کہے اور افغانستان میں امن کے قیام کے لئے مقامی لوگوں پر مشتمل حکومت تشکیل دے، اور ساتھ ہی ساتھ بھارت کی افغانستان میں بڑھتی ہوئی مداخلت کا بھی عالمی سطح پر نوٹس لیاجانا چاہیئے، اور ہماری قیادت کو چاہیے کہ اسی سپرٹ کے ساتھ آگے بڑھے اور بھارت کا اصل چہرہ دنیا کو دکھائے۔
اور یہ بھی باور کروائے کہ جن ملکوں نے بھارت کو شٹ اپ کال دینی ہے وہ خود اس سے اربوں روپے کی تجارت کر رہے ہیں۔ لہٰذااس چیز کو جتنا پبلک کیا جائے گا، پاکستان اتنا ہی زیادہ سرخرو ہو گا اور عالمی سازشوں سے بچا رہے گا۔ اور آخر میں سیاسی قیادت سے گزارش کروں گا کہ وہ اس ملک کے اداروں کو مقدم جانیں اور کوئی بات ایسی نہ کریں جس سے دشمن کو پراپیگنڈہ کرنے کا موقع ملے ورنہ دشمن میں اور ہم میں کوئی فرق نہیں رہے گا!