گالی گلوچ‘ الزام تراشی کرنے والوں کو صادق امین قرار دینے والے سوچیں اللہ کو کیاجواب دیں گے: نوازشریف

15 فروری 2018

لاہور (این این آئی+ آئی این پی) سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ووٹ کے تقدس کا میرا بیانیہ نہ صرف لوگوں کے دلوں میں گھر چکا بلکہ جگہ قائم کر چکا ہے اور ہم اسے ملک کے کونے کونے تک لے کر جائیں گے، 22کروڑ عوام کے مینڈیٹ کی تضحیک اور توہین نہیں ہونی چاہئے بلکہ سب طبقوں کو اس کا احترام کرنا چاہئے، یہ ہوگا تو ملک آگے بڑھے گا وگرنہ خدانخواستہ بہت نقصان ہوگا۔ گالی گلوچ، جھوٹ، منافقت اور بہتان تراشی کی سیاست کرنے والوں کو صادق اور امین قرار دیدیا گیا جبکہ جو خلوص نیت سے ملک کی خدمت کر رہے تھے انہیں جھوٹا اور نا اہل قرار دیدیا گیا۔ عدالتوں میں بیٹھے منصف اللہ کے ہاں سب سے پہلے جوابدہ ہوں گے اور ان کی جواب طلبی ہو گی پھر اللہ کے ہاں کیا جواب دیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈاکٹر سرفراز نعیمی شہید کی والدہ کے انتقال پر مفتی راغب حسین نعیمی اور اہل خانہ سے اظہار تعزیت اور فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ نواز شریف نے کہا کہ اس گھرانے کے ساتھ ہمارے 70سال پرانے تعلقات ہیں۔ انہوںنے کہا اللہ تعالیٰ کا احسان اور جتنا بھی شکر ادا کیا جائے وہ کم ہے کہ اس نے ہمیں اتنی عزت بخشی اور لودھراں میں پانسہ پلٹ گیا۔ ہم نے نہ صرف 40ہزار کی لیڈ کو کور کیا ہے بلکہ فہرست میں سب سے اوپر 25ہزار کی لیڈ بھی حاصل کی۔ میں عوام کا بیحد مشکور ہوں اور میرا دل چاہتا ہے کہ میں وہاں جا کر عوام کا شکریہ ادا کروں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں 70 سالوں سے ووٹ کا احترام نہیں ہو رہا تھا ہم نے اس کے تقدس اور احترام کو بحال کرنا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ میرا پیغام عوام کے دلوں اور ذہنوں تک پہنچ گیا ہے اور لوگ اس پر اپنا ردعمل دے رہے ہیں۔ لودھراں کے نتیجے کے بارے میں انسانی سوچ اور یقین میں بھی نہیں آ سکتا۔ ایک بندہ چال چلتا ہے لیکن ایک ا للہ تعالیٰ کی اپنی چال ہوتی ہے، اللہ کی رضا اور فیصلہ ہوتا ہے، میں اس کامیابی پر اللہ کے ہاں سر جھکاتا ہوں کہ اس نے ہمیں اتنی عزت بخشی۔ 22کروڑ عوام کے مینڈیٹ کی تضحیک اور توہین نہیں ہونی چاہیے اور سب طبقوں کوووٹ کا احترام کرنا چاہیے۔ یہ ہوگا تو ملک آگے بڑھے گا خدانخواستہ اگر ایسا نہ ہوا تو بہت نقصان ہو سکتا ہے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں مخالفین کا کیا ذکر کروں یہ ان کیلئے بھی لمحہ فکریہ ہے، انہیں خود بھی سوچنا چاہیے۔ انہوں نے ملک کے اندر لوگوں کے ذہنوں کو گالی گلوچ، الزام تراشی، جھوٹ، منافقت، بہتان تراشی کی سیاست سے خراب کیا ہے لیکن وہ اس طرح کی سیاست کر کے بھی صادق اور امین ٹھہرے جبکہ ہم جو خلوص نیت سے ملک اور عوام کی خدمت کر رہے تھے صرف اس وجہ سے نا اہل اور جھوٹا قرار دیدیا گیا کہ بیٹے سے تنخواہ کیوں نہیں لی۔ لیکن قوم اپنا فیصلہ سنا رہی ہے اور لودھراں میں قوم نے اپنا فیصلہ سنایا ہے اور وہاں پانسہ پلٹا ہے۔ عوام نے گالی گلوچ اور الزام تراشی کی سیاست کرنے والوں کو مسترد کردیا۔