جمہوریت یا بادشاہت

15 فروری 2018

محترم عطا الحق قاسمی کی بطور چیئرمین پی ٹی وی تقرری ازخود نوٹس میں جناب چیف جسٹس نے یہ ریمارکس دئیے ہیں کہ یہ جمہوریت ہے یا بادشاہت ؟ جمہوریت میں قانون کی حکمرانی ہوتی ہے۔ چیف جسٹس صاحب نے کہا ہے کہ اگر اُنکی تقرری غیر قانونی ہے تو اِسے غیر قانونی قرار دینگے اور اگر تقرری غلط ہوئی ہے تو یہ پیسے اُن سے وصول کرینگے۔
حکومت کے پاس عہدے پُر کرنے کا اختیار نہیں۔ امریکہ کا صدر کھوکھا الاٹ نہیں کر سکتا مگر یہاں بڑی بڑی پوسٹوں سے نوازا جاتا ہے۔ میں بصد احترام جناب چیف جسٹس کی خدمت میں عرض کرونگا کہ یہاں سوائے پاکستان آرمی کے ہر سرکاری محکمے میں تقرریاں میرٹ سے ہٹ کر ہی ہوتی ہیں۔ اِس ملک میں واقعی جمہوریت کے نام پر بادشاہت یعنی بونا پارٹ ازم ہے، بونا پارٹ ازم میں سیاست کی بنیاد ایک سیاسی لیڈر کو مطلق العنان حکمران بنانا ہوتا ہے اور ریاست کے تمام اداروں کو اُسکے آنکھ کے اشارے پر اُسکی مرضی و منشا کے مطابق کام کرنا ہوتا ہے ۔ جب لیڈر نواز شریف، ذوالفقار علی بھٹو یا بے نظیر بھٹو کی طرح کرشماتی اور عوامی پذیرائی رکھتا ہو تو وہ جمہوریت میں اوتار ہوتا ہے لہٰذا اس کو کہا جا سکتا ہے کہ جمہوریت میں بادشاہت قائم کرنے والا لیڈر خود طبقہ اشرافیہ سے تعلق رکھتا ہے مگر ہر وقت جلسے جلوسوں میں غریبوں کی حمایت میں مگرمچھ کے آنسو بہاتا رہتا ہے اور بڑے بڑے جلسوں میں اپنے آپکو غریبوں کا ہمدرد قرار دیتا ہے مثلاً بھٹو صاحب بڑے بڑے جلسوں میں کہا کرتے تھے کہ ایک بھٹو میرے اندر ہے اوردوسرا بھٹو تمہارے وجود میں ہے تم میرے اندر ہو اورمیں تمہارے اندر پایا جاتا ہوں۔ ایسی خوبصورت باتیں نواز شریف اور شہباز شریف بھی مسلسل کرتے جا رہے ہیں۔ اِس ملک میں ووٹ کا تقدس ہو اور ہر ایک غریب انسان کو عدل و انصاف، بنیادی ضروریات زندگی اور روزگار حاصل ہو شہباز شریف نے حال ہی میں روزگار سکیم کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گاڑیوں میں بیٹھے ہوئے امراء غریبوں کو حقارت سے دیکھتے ہیں۔
نواز شریف صاحب کا کہنا ہے کہ اگر اُن کی حکومت کا خاتمہ نہ ہوتا تو آج بیروزگاری ختم ہو چکی ہوتی، مگر عملاً بادشاہت نما جمہوریت میں، اپنے حواریوں کو ہی نوازا جاتا ہے۔ میں اِن لوگوں میں شامل ہوں جو رائے رکھتے ہیں کہ ملک ایک ہمہ جہتی بحران کی گرفت میں ہے۔ یہ بحران سیاسی بھی ہے، اخلاقی بھی ہے ، معاشی بھی اور معاشرتی بھی۔ واقعی ملک میں قانون کی حکمرانی کا تصور ہمیشہ سے ناپید ہے۔ بوناپارٹ ازم میں عوام کے ووٹوں سے منتخب حاکم اپنی کچن کیبنٹ کے تابع رہ کر فیصلے کرتا ہے اور مقننہ اور عدلیہ کے اداروں کو اُنکے حقیقی حق سے محروم رکھتا ہے۔ ہمارے حکمرانوں نے عجیب وطیرہ اپنایا ہوا ہے۔ نوجوان اور باصلاحیت افراد کی حق تلفی کرتے ہوئے پچھتر پچھتر سال کے بوڑھوں کو لاکھوں کروڑوں کی مراعات اور تنخواہوں کے عوض اِس لئے عوام کے پیسوں پر رکھ لیا جاتا کہ وہ اُنہیں اللہ کا نائب قرار دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ہیں۔ عدالت عظمیٰ کے نوٹس میں ہونا چاہئے کہ پی ٹی وی چیئرمین ایک کیس نہیں ہے۔ بے شمار محکمے ایسے ہیں جہاں حکمرانوں نے بغیر میرٹ، اہلیت اور غلط طریقوں سے اپنے چہیتوں کو اہم مناصب پر بٹھایا ہوا ہے۔ اینٹی کرپشن کے ڈی جی کی تقرری کیلئے کیا خدمات ہیں۔ کرکٹ بورڈ کے ہیں کس میرٹ پر اس عہدے پر ہیں۔
صوبائی چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کس وجہ سے تنخواہ کے علاوہ چار چار پانچ لاکھ روپے کے ایگزیکٹو الائونس لے رہے ہیں۔ چیف جسٹس صاحب نے ڈاکٹر عاصم کو سپریم کورٹ میں میڈیکل کالجز کے مسئلے پر ہر سماعت پر حاضر ہونے کا پابند کیا ہوا ہے۔ اُنہیں عدالت نے اس وجہ سے ضمانت دی کہ وہ جسمانی اور ذہنی طور پر بیمار ہیں۔ اُن سے بھی پوچھنا چاہئے کہ وہ کس میرٹ پر سندھ ایجوکیشن کمشن کے دوبارہ چیئرمین بن گئے۔ اُنکی کوالیفکیشن صرف ایک ہی ہے کہ وہ آصف زرداری کے ’’چہیتے‘‘ ہیں۔ ہمارے ہاں یہ چلن عام ہے اتنا زیادہ تنخواہ، جتنی زیادہ مراعات اتنا زیادہ لالچ اور ہوس۔ نوجوانوں کی حق تلفی کرتے ہوئے ریٹائرڈ ججز، ریٹائرڈ بیورو کریٹس، با اثر میڈیا پرسنز اور ریٹائرڈ جرنیلز ایک طرف لاکھوں روپے پنشن لیتے ہیں اور ساتھ ہی MP سکیلز بلکہ اِن سے کئی گنا زیادہ مشاہروں پر حکومت کی کارپوریشنوں ، اتھارٹیوں، کمپنیوں، نیم سرکاری محکموں کے سربراہ بن کر نہ صرف بڑھاپے میں کروڑوں کماتے ہیں بلکہ اپنے عزیز و اقارب کو بھی بھرپور نوازتے ہیں۔ الیکشن کمشن میں اَسی اَسی سال کے ایسے بابے بھی دس دس بارہ بارہ لاکھ پر دوسری نوکریاں کر رہے ہیں۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے وہ بمشکل واش روم میں جانے کے قابل ہوتے ہیں مگر پیسوں کے لالچ میں مرا ہاتھی سوا لاکھ کے مصداق بادشاہوں کے منظورنظر ہونے کی وجہ سے نوازے جا رہے ۔
حضور اکرمؐ کی حدیث ہے کہ انسان بڑھاپے میں وہن کا شکار ہو جاتا ہے ۔ بڑھاپے میں انسان اپنے متعلق سوچتاہے اور لمبی عمر اور زیادہ دولت کی ہوس کا شکار ہو جاتا ہے۔ اَب نیب پنجاب کی کمپنیوں کا ریکارڈ مانگ رہی ہے۔ ڈائریکٹر انٹی کرپشن دینے سے انکاری ہے۔ جس کی وجہ نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے اُن کیخلاف انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔ اِس ملک کی اشرافیہ اورحکمران طبقہ لوٹ مار کرتا چلا جائے گا۔ موجودہ جمہوری نظام اور انتخابی طریقوں کے نتیجے میں بہتر قیادت آنے کے فی الحال کوئی آثار اور امکانات نہیں ہیں۔ ادھرعوام کی بے چینی آخری حدوں کو چُھو رہی ہے اور فی الجملہ
موجودہ سیاسی قیادت اور سیاسی نظام مطلوبہ مقاصد کے حصول میں مدد گار نہیں دکھائی دیتے ہیں۔ میری ناقص سمجھ کیمطابق ملک کو جس نوعیت کی قیادت ، تبدیلی اور طویل المیعاد اور فوری ہمہ جہتی حکمت عملیوں کی ضرورت ہے، حزب اقتدار اور بڑی حزب اختلاف نہ ویسی قیادت فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اورنہ ہی اُنکے اندر حکمت عملیوں کی تشکیل اور اُن پر عمل کرنے کی صلاحیت موجود ہے جن کا تقاضا ہمارے حالات بڑی شدت سے کر رہے ہیں۔ اس ملک میں جمہوریت نما بادشاہت، پراپرٹی ٹائیکونز، ڈرگ مافیا کے لارڈز اور کالے دھن کے مالکان کنٹرول کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سینٹ میں کروڑوں روپے کی ہارس ٹریڈنگ ہو رہی ہے۔ایسے میں اعلیٰ عدلیہ اپنی آئینی حدود میں رہ کر حکمرانوں کی جس طریقے سے گرفت کر رہی ہے وہ قابل تحسین ہے۔ شاید موجودہ سیاسی قیادت نستباً بہتر طرز عمل کا مظاہرہ کرنا شروع کر دے اور حق داروں کو میرٹ پر حق ملنا شروع ہو جائے۔