وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے نام کھلا خط

15 فروری 2018

مکرمی! ہم اللہ تبارک و تعالیٰ سے باران رحمت تو مانگتے ہیں لیکن حکم نہیں مانتے ، لیکن وہ کتنا رحیم و کریم ہے کہ پھر بھی ہم پر رحمتوں کا نزول جاری رکھتا ہے۔ اگر چرند،پرند کی فریادیں رنگ لا سکتی ہیں،تو ہماری کیوں نہیں؟ ہر مظلوم ، غریب اور کمزور انسان پر خوف کا سماں رہتا ہے، ان کی فریادیں یقینا عرش سے ٹکراتی ہوں گی لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ کا صبر دیکھیں، ظالم ظلم کرتا ہے۔ تو اللہ کریم اس ظلم کو بھی توبہ کا بھرپور موقع دیتا ہے۔لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی اس عہد کے سلطان سے کوئی بھول ہوئی ہے جو حکمران لوٹ مار کرتا ہے ، دس پرسنٹ سے 100 پرسنٹ تک کمیشن کے نام پر گھپلا کرتا ہے۔ لیکن اللہ کریم برسوں اس کی توبہ کا انتظار کرتا ہے، آخر جب اس کی پکڑ ہوتی ہے تو دوسروں کیلئے درس عبرت بن جاتا ہے۔ لیکن کیا ہم اس درسِ عبرت حاصل کرتے ہیں ، نہیں، ہرگز نہیں، بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ صرف اس کے ساتھ ہی ہونا تھا، یا صرف اس نے ہی مرنا تھا ہم نے تو ابھی جینا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات کو پیدائش سے موت تک فل سیکیورٹی دی۔لیکن ہم نے اپنی سیکیورٹی رکھ لی، ہمارے آگے پیچھے بکتر بند گاڑیاں، ایک مضبوط سیکورٹی دکھائی دیتی ہے۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اس سیکورٹی کے حصار میں چھپے ہوئے بندے کو پکڑنا ہوتا ہے تو اس کے اسباب بھی پیدا کر دیتا ہے جیسے فرعون کیلئے موسیٰ کلیم اللہ، نمرود کیلئے حضرت ابراہیم خلیل اللہ، بے شمار ایسی حقیقتیں ہیں جو روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔ جن کے ہاتھ میں انصاف کی چھڑی ہوتی ہے خوش قسمت ہوتے ہیں اگر وہ چھڑی سب کیلئے یکساں کام کرے۔آخر ایک دن ہو گا’’ موت‘‘ کا جہاں فلم دکھا دی جائے گی۔سیاست میں کہتے ہیں سب جائز ہے مگر حساب تو دینا پڑے گاناں۔وطن عزیز میں آج تک جتنے بھی حکمران تخت شاہی پر براجمان ہوئے ان میں کس نے امانت کی حفاظت کی یا خیانت کی اس کا آخرت میں بھی حساب تو ددینا پڑے گا ناں۔ خیانت کرنے والا عذاب قبر اکیلا بھگتے گا قبر کے اوپر چاہے جتنا بڑا مزار بھی بنا دیا جائے، اور اس کی لوٹ کا مال اس کی اولاد کھائے گی اور عذاب اسے حشر تک ملتا رہے گا۔ حضرت بابا بلھے شاہ فرماتے ہیں نہ کر بندیا میری میری ، نہ تیری نہ میری، چار دناں دا میلہ دنیا فیر مٹی دی ڈھیری۔ (ڈاکٹر محمد ادریس صدر ڈینٹسٹ ایسوسی ایشن پنجاب گڑھی شاہو لاہور)