کوئٹہ: دہشت گردوں کی فائرنگ سے 4 ایف سی اہلکار شہید

15 فروری 2018

کوئٹہ (ایجنسیاں+ خصوصی رپورٹر) کوئٹہ کے علاقہ لانگو آباد میں نامعلوم دہشت گردوں کی سکیورٹی فورسز کی گاڑی پر فائرنگ سے 4 ایف سی اہلکار شہید ہوگئے۔ شہید اہلکار ریلوے ٹریک کی حفاظت پر مامور تھے۔ شہید اہلکاروں کی نعشوں کو ایف سی ہیڈکوارٹرز منتقل کردیا گیا ہے۔ پولیس اور ایف سی اہلکاروں کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کرنے اور ملزموں کی تلاش کیلئے سرچ آپریشن شروع کردیا۔عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور دو موٹر سائیکلوں پر آئے اور فائرنگ کی جس کے نتیجہ میں چاروں اہلکار شہید ہوگئے۔ حملہ آوروں نے کلاشنکوف اور نائن ایم ایم پستول سے فائرنگ کی۔ شہید اہلکاروں میں لانس نائیک اسلم ، بشیر،نائیک سعید اور سپاہی امجد شامل ہیں۔ صدر ممنون حسین‘ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی‘ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، بلاول بھٹو، احسن اقبال ، وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو، معاون خصوصی برائے اطلاعات انوار الحق کاکڑ اور دیگر نے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں سکیورٹی فورسز کی قربانیاں رائیگا ں نہیں جائیگی اور آخری دہشت گردکے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔ اے ایف پی کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ ٹارگٹ کلنگ لگتا ہے۔ خیال رہے کہ سریاب روڈ شہر کے حساس ترین علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے جہاں اس سے قبل بھی سکیورٹی فورسز پر حملے ہوتے رہے ہیں۔ دریں اثناء شہید اہلکاروں کی نماز جنازہ، ایف سی ہیڈ کوارر کوئٹہ میں ادا کر دی گئی جس میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو، کمانڈر سدرن کمانڈ لفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان معظم جاہ انصاری نے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس عبدالرزاق چیمہ اور ایف سی کے دیگر حکام کے سیکورٹی فورسز پر حملے کی جگہ کا دورہ اس موقع پر پولیس حکام کی جانب سے سکیورٹی اہلکارروں پر حملے سے متعلق آئی جی پولیس کو بریفنگ دی گئی بعد ازاں میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان معظم جاہ انصاری کا کہنا تھا کہ بلوچستان سے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے فرنٹیئر کور کے اہلکار پٹرولنگ پر تھے جب انہیں ٹارگٹ کیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق 3 سے 4 مسلح افراد نے ایف سی کے اہلکارروں پر حملہ کیا حملے میں مختلف چھوٹے بڑے ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا صبح کا وقت ہونے کی وجہ سے اس علاقے میں لوگوں کی آمدورفت نہیں تھی سیف سٹی پراجیکٹ فعال ہوتا تو تحقیقات میں بڑی پیش رفت سامنے آتی کوشش ہوگی کہ جلد سیف سٹی پروجیکٹ کوفعال کیا جائے۔ایف سی اہلکاروں کے قتل کا مقدمہ سی ٹی ڈی تھانے میں ایف سی اہلکار کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ مقدمے میں قتل اور انسداد دہشت گردی کی دفعات درج کی گئی ہیں۔