نعروں کے بجائے نظام کو ٹھیک کیا جائے

15 فروری 2018
نعروں کے بجائے نظام کو ٹھیک کیا جائے

مکرمی! آج ہر طرف خود نمائی اور خود ستائشی کے جذبے عام ہیں، سیاست دانوں کی طرح کھوکھلے دعوے اور نعرے ’’ہٹوبچو‘‘ کی کھینچا تانی جاری ہے اور ہم عوام اور ہمارے بچے، بچیاں، سرعام درندوں کے ہاتھوں جنسی استحصال کا شکار ہو رہے ہیں۔ قتل ہو رہے ہیں اور بدقسمتی سے جمہوریت کے رکھوالوں کو عوام کے پیسوں پر اپنی اولادوں کو پالنے اور ان کے ناز و نعم اُٹھانے سے ہی فرصت نہیں۔ انہیں تو ان قوانین سے سروکار ہے جو ان کی اولادوں کو تحفظ اور خوشی کی ضمانت دے سکے۔ جس معاشرے میں ننھی پریوں کو ’’ونی‘‘ کر دیا جائے ان کی شادیاں قرآن پاک سے کر دی جائیں، بیواؤں کا حق غصب کیا جائے، یتیم بچیوں کے سر پر دست شفقت کی بجائے ان کے دوپٹے کھینچ لئے جائیں، لوگ ایک دوسرے کے دکھ سے لا تعلق ہو جائیں اس معاشرے میں زینب لٹتی رہے گی، افسوس! غصہ، شرمندگی جیسے احساسات ’’زینب‘‘ کے دکھ کے سامنے ہیچ ہیں۔ یاد رکھیے! کچرے میں پڑی لاش زینب کی نہیں ہمارے ضمیر کی تھی۔ جب معاشروں کے ضمیر مردہ ہو جائیں تو زینب کی زندگی کی سانسیں ٹوٹ ہی جایا کرتی ہیں۔ ہاں البتہ امید کی کرن اس وقت نظر آتی ہے جب شہر کا شہر ہی ننھی پری کے غم میں متحد ہو جائے، اس واقعہ نے تھانوں کے گھناؤنے چہرے اور بے حسی عیاں کر دی ہے، مظلوم کی داد رسی کی بجائے ظالم کی پشت پناہی ہماری پولیس کا وطیرہ بن چکا ہے۔ دوسری طرف اگر عدالتوں سے بر وقت اور سستا انصاف میسر ہو تو ایسے واقعات تواتر سے نہ ہوں۔ متاثرہ خاندانوں کو لاکھوں روپے کی حکومتی امداد ان کے دکھوں کا مداوا نہیں اور نہ ہی اس سے ہماری عزتیں محفوظ اور انسانی جانیں واپس آ سکتی ہیں۔ نمود نمائش اور خود ساختہ فراخ دلی کی بجائے نظام کو ٹھیک کیجئے۔ (صداقت نازحبیب ٹاؤن کامونکے ضلع گوجرانوالہ)