اپنے طلسم اور تضادات کی حامل عظیم خاتون چلی گئی

15 فروری 2018
اپنے طلسم اور تضادات کی حامل عظیم خاتون چلی گئی

عاصمہ جہانگیر بی بی تمہیں بہت جلدی تھی جانے کی؟ ابھی تو صبح کے ماتھے کا رنگ کالا تھا‘ ہم فریب نہ کھائیں تو پھر کیا کریں؟ تم اپنے طلسم اور تضادات سمیت منوں مٹی تلے دفن ہوگئیں‘ تم کیا رخصت ہوئیں ایک عہد تھا جو بیت گیا۔ بیتے ماضی میں کبھی ہمارے باطن سے اک ہوک اٹھتی تھی اور ہمارا من لہک کر گاتا تھا‘ کون سے رنگ میں اُمید کا منظر کھینچوں ، پھر تمہاری طرف نگاہیں اُٹھ جاتی تھیں تو تم اُمید کے استعارے کی طرح لگتی تھیں۔ بی بی تمہاری خوبی تھی کہ تم اپنے تمام تنازعوں اور تضادات سمیت ہمارے روبرو آن کھڑی ہوتیں، کون تھا جو تمہیں مطعون نہیں کرتا تھا۔ تمہارے تضادات ہر ایک کو کانٹوں کی طرح چھبتے تھے‘ لیکن جب طعنہ زن تمہیں دیکھتے تو دیکھتے ہی رہ جاتے ، تم پسے ہوئے بے سہارا اور خانماں برباد لوگوں کے ساتھ کھڑی ہوئی ملتی تھیں۔ تمہاری اپنی سوچ اور اپنا ظن تھا‘ بہت سے لوگوں نے تمہیں سمجھنا چاہا مگر نہ سمجھ سکے۔ جو تمہیں جاننے کی کوشش کرتا‘ تم راندئہ درگاہ بن کر اڑان بھر جاتیں‘ میں خود بھی ایسے ہی قبیل کے لوگوں میں شامل تھا‘ جو تمہیں پل میں تولہ اور پل میں ماشہ کی طرح سمجھنے اور جاننے کی کوشش کرتا رہا۔ یاد ہے ایک مرتبہ تم راولپنڈی بار کے ایک بڑے وکیل کے ہاں کھانے پر مدعو تھیں‘ بہت سے لوگ تھے اور میں بھی وہاں موجود تھا۔ مجھ پر تمہاری شخصیت کا رعب ایسا پڑا کہ کچھ سجھائی نہ دیتا تھا ‘ اس وقت کچھ چھپانا نہیں چاہتا‘ میں سخت مرعوب تھا تم سے ‘ سادگی میں بے پناہ وقار‘ شخصیت میں متانت اور گفتگو میںشائستگی مجھے بھاگئی‘ اچانک شرکائے محفل کی گفتگو کا رخ مقبوضہ کشمیر کی جدوجہد آزادی کی جانب ہوگیا‘ عاصمہ جہانگیر بی بی میں حیرت زدہ رہ گیا‘ جب تم نے مقبوضہ وادی میں بھارت کا نام لیے بغیر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا چٹہ پٹہ کھول دیا‘ یہ دراصل تمہارے اندر کی آواز تھی‘ مجھے بہت سے اخبار نویس دوستوں نے بتا رکھا تھا کہ عاصمہ جہانگیر اس باب میں اپنا نقطہ نظر اور زاویہ نگاہ رکھتی ہیں‘ بی بی! یاد ہے ‘ میں نے جو بھی گفتگو کی اسے تم نے تحمل کے ساتھ سنا اور اس کے شافی جوابات دینے کی کوشش کی‘ تمہارے جملوں میں میرے باطن کی آواز بھی شامل تھی۔ حرف وبیان کے دردبست دل کو چھو رہے تھے‘ میں نے محسوس کیا‘ تم تو ہماری اپنی ہو اور یہ بھی کہ ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم‘ بہت خوش طبع اور خوش مزاج خاتون تھیں تم‘ اس وقت میرے من میں یہ بات آئی کہ جو بھی شخص عاصمہ جہانگیر بی بی کو ملے بغیر رائے قائم کرے‘ وہ غلط ہوگا‘ بی بی تمہارا دل انسانی دکھوں اور المیوں کی آماجگاہ تھی۔ گمشدہ لوگوں کی جو قانونی جنگ تم نے لڑی‘ اس کی روئیداد ہی دیکھ لیں تو دل موم ہو جاتا ہے‘ آئین اور قانون کی کون سی جنگ تھی جو تم نے نہ لڑی؟ اپنے کاز کے ساتھ وارفتگی کے عالم میں خودفراموشی تمہاری خصوصیت بن گئی تھی۔ میں نے جب بھی دیکھا تمہیں ایمان کی پہلی سطح پر ہی دیکھا‘ کس حکمران اور اس کی افسر شاہی کو تم نے نہیں للکارا؟ ایوب خان‘ یحییٰ خان‘ ذوالفقار علی بھٹو‘ نوازشریف اور اپنی دوست بے نظیر بھٹو شہید تک کے ایوان اقتدار تک تمہاری للکار سیدھی سبھا گئی۔ تم اپنے سیاسی اور سماجی موقف اور نقطہ نظر پر چٹان کی طرح قائم رہیں‘ کوئی بھی طمع‘ لالچ اور حرص اقتدار تمہیں زیر نہ کرسکی‘ یاد ہے جب تمہاری گہری دوست بے نظیر بھٹو شہید نے تمہیں خاتون جج بننے کی پیشکش کی تو تم نے ایک لمحہ لگائے بغیر اسے ٹھکرا دیا تھا۔ اپنے کاز اور موقف پر فولاد کی طرح اٹل حقیقت کی طرح قائم رہنے کا ہنر عشق ہی سکھاتا ہے اور تمہارے اندر اپنے انسانی مقاصد کے حصول کا جذبہ عشق بن کر جوہر دکھاتا رہا‘ مجھے تو عاصمہ جہانگیر بی بی تمہاری شخصیت اور سراپا رومیؒ کے مندرجہ ذیل شعر کا مصداق لگتا تھا …؎
شادباد اے عشق خوش سودائے ما
اے طبیب جملہ علت ہائے ما
تم ادبی پرچے اوراق کے بانی اور ڈاکٹر وزیر آغا کے محسن مولانا صلاح الدین کی نواسی تھیں‘ میں نے ڈاکٹر انور سدید کے کئی مضامین مولانا مرحوم کے علمی وادبی کارناموں کی بابت پڑھ رکھے تھے۔ میں کیوں نہ تمہیں خراج عقیدت پیش کروں کہ تم نے اپنے اس بزرگ کے قلم کی سچائی کو اپنی شخصیت اور ہنر سے تابندگی بخشی ۔ بی بی تم پر جو پتھراؤ تا زندگی ہوا‘ بخدا اُس میں بہت سے سادہ لوح لوگ بھی تھے اور پھر اپنے ذاتی موقف پر اٹل رائے رکھنے کی سزا بھی تو تمہیں ملنی ہی تھی۔ مخالفین اور دشمنوں نے تمہیں کتنے ہی بڑے بڑے القاب سے پکارا جو انہونی بات نہ تھی کہ ہر بڑے شخص کو یہاں انہی القابات سے پکارا گیا‘ لیکن بی بی جہاں تک میں نے تمہارے ذہن کی باریکیوں کا مطالعہ کیا‘ مجھے تو یوں لگا جیسے تمہاری سوچ اور فکرانسانیت کی سطح پر استوار ہوگئی تھی۔ تمہارے سراپا میں انسان کی آسودگی اور راحت کے خواب دیکھنے والی خاتون کو ہمارا سلام‘ تم حقیقی معنوں میں انسانیت کی لاج رکھنے والے سپوتوں میں سے تھیں‘ رسول اکرمؐ نے اپنے آخری خطبہ میں انسانیت کو ہی مخاطب کیا تھا۔ اسلام کا عمیق اور گہرا مطالعہ کرنے والوں کو علم ہے کہ اسلام کے باطنی پیغام کا سارا مخاطبہ انسان کے نام ہے ‘ عاصمہ جہانگیر بی بی تم نے مذہبی ٹھیکیداروں اور نام نہاد رہنماؤں کو اپنے طرز عمل سے شکست دی‘ یہ بڑا مشکل کام تھا‘ جان جوکھوں کا کام جو تم نے کیا۔ پھر تم کہیں جھکی نہیں اور کہیں بھی کسی مقام پر بک نہ سکیں‘ اپنے اٹل موقف پر قائم رہیں‘ دنیا آج بھی تمہارے طرز عمل کی مداح ہے ‘ لیکن تمہارے موقف اور نقطہ نظر بارے دو یا اس سے بھی زیادہ آراء پہلے بھی تھیں‘ اب بھی ہیں اور آئندہ بھی رہیں گی‘ اے مجموعہ اضداد کو اپنی ذات کے حوالے سے اجاگر کرنے والی خاتون مجھے پورا یقین ہے کہ تمہارے اخلاص کو ٹٹولنے والے لوگ ہمیشہ تہی دامن رہیں گے ‘ تمہاری مساعی پر اعتراض تو کیا جا سکتا ہے‘ اس میں سے سقم بازیافت کرنا کار لا حاصل ہی رہے گا۔ پاکستان کی پوری تاریخ میں آئین اور قانون کی پاسبانی کرنے والی ایسی بے باک خاتون شاید ہی دوبارہ منصہ شہود پر آسکے‘ تم نے ہماری خواہشات کے مطابق اپناانسانی کردار ادا نہیں کیا بلکہ جھوٹ اور سچ کو اپنے معیار پر پرکھا‘ انسان ہونے کے ناطے تم نے کہیں نہ کہیں غلطی بھی کی ہوگی‘ لیکن اس وقت تمہاری رحلت کے غم میں ہم تمہاری نیکیاں اور اچھائیاں ہی منظر عام پر لاسکتے ہیں‘ باقی کام آنے والے مؤرخ کا ہے‘ وہ جانے اور تم جانو‘ ہم تو تمہیں سلام پیش کرنا چاہتے ہیں‘ ان کارہائے نمایاں پر جن کا فائدہ پاکستان کے بیس کروڑ عوام کو عمومی طورپر پہنچا‘ تمہیں عفوودرگزر کرنے والا سب کا رب بخش دے گا(آمین)