اب نہیں یا پھرکبھی نہیں

15 فروری 2018
اب نہیں یا پھرکبھی نہیں

چودھری نثار علی خان ان سیاستدانوں میں شامل ہیں جو خوشامد اور جھوٹی تعریف و توصیف سے پاک صابن سے روزانہ غسل کرتے ہیں۔ ان کا سیاسی برانڈ (ن) لیگ میں رہ کر (ن) لیگ سے مختلف ہے۔ خود (ن) لیگئے انکے قریب جانے سے ہچکچاتے ہیں نہ ہی ان کی خواہش ہے کہ وہ اپنے اردگرد خوشامدیوں کا حصار باندھیں وہ اور اُن کی قیادت ایک پیج پر کم ہی دکھائی دئیے ہیں۔ چودھری اعتزاز احسن اور چودھری نثار علی خان میں ایک قدر مشترک پارٹی سے (کسی شخصیت سے نہیں) وفاداری ہے۔ عہدہ ملے نہ ملے پارٹی کو الوداع کہنے کا نہیں سوچا نہ ہی اِدھر اُدھر چھلانگیں لگائیں۔ انہوں نے حالیہ پریس کانفرنس میں دل کا غبار نکال دیا ہے۔ (ن) لیگ کے حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ وہ 45 سالہ دخترِ قائد مریم نواز شریف کے ماتحت کام کرنے سے قاصر ہیں۔ سرکاری ملازمت میں بھی کوئی جونیئر کے ماتحت کام کرنے اور اسے ’’سر‘‘ یا میڈم کہہ کر مخاطب کرنے سے بہتر مستعفی ہونا پسند کرتا ہے۔ مشاہد اللہ خان اور چودھری نثار میں یہی فرق ہے کہ وہ ہر حال اور ہر موقع پر پارٹی قیادت کی ہمنوائی اور انکے حق میں دلائل ڈھونڈنے اور سامنے لانے کا حق ادا کرتے ہیں۔ رانا ثنااللہ اور مشاہد اللہ میں یہی قدرِ مشترک ہے۔ چودھری نثار منافقت نہیں کر سکتا۔ کسی بھی باس کو خوش کرنے اور خوش رکھنے کیلئے منافقت کی واسکٹ پہننا پڑتی ہے۔ چودھری نثار کی اس بات سے ہر صاحبِ علم و فکر اتفاق کریگا کہ الیکشن نہ لڑنے والا خوشامدی یا ٹیکنو کریٹ ہو سکتا ہے، سیاستدان نہیں ۔ چودھری نثارنے ڈان لیکس پر پارٹی اجلاس نہ بلانے کی صورت میں ڈان لیکس رپورٹ عام کرنے کی دھمکی بھی دی ہے، یہ دھمکی شاید کسی گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا اور دینے کیلئے دی گئی ہے ۔ وہ یہ بھی کہہ گئے ہیں کہ ججوں کی ذات پر تنقید سے پارٹی کو کتنا نقصان ہو گا چند ماہ میں سامنے آ جائے گا ۔ چودھری نثار کی وفاداری پارٹی قیادت سے زیادہ کسی اور قیادت سے بھی ہے جو غیر متزلزل اور زیادہ مستحکم ہے۔ عدالتوں میں آئے روز پیشیاں کس بات کا پتہ دے رہی ہیں۔ (ن) لیگ کا المیہ یہ ہے کہ وہ کسی ادارے کو بھی اپنی قیادت سے بالاتر اور سپریم تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں جس طرح اولاد کو بھی کوئی پوچھنے والا نہ ہو تو وہ اپنی حد سے تجاوز کرتی اور ادھر ادھر ہو جاتی ہے۔ اسی طرح حکمرانوں کیلئے جواب دہی کا نظام نہ ہوتو خود سری جنم لیتی ہے۔ عوام بیچارے نہ پوچھ سکیں تو اعلیٰ عدلیہ کو عوام کی ترجمانی کا حق ادا کرنا پڑتا ہے۔ صاف پانی ہی زندگی ہے وہ ہی نہ میسر ہو تو زندگی کیسی؟ غریب بیچارے ڈسپنسر اور اس کیلئے بڑی بوتلیں کیسے خرید سکتے ہیں؟ ٹینکیوں اور نلکوں کا گدلا پانی پینے اور ہیپاٹائٹس کو دعوت دینے پرمجبور ہیں۔ نیب ذاتی وفاداری کے ہاتھوں مردہ گھوڑا بن چکا تھا لیکن جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں اس تن مردہ میں جان پڑ چکی ہے اب یہ گھوڑا ہر رکاوٹ عبور کرتا اپنی پوری رفتار سے دوڑ رہا ہے۔ چنیوٹ معدنیات کیس کھل چکا ہے ۔ بدعنوانی کے اس کیس پر رضائی ڈال دی گئی تھی۔ نیب نے ملتان میٹرو بس اور پنجاب حکومت کی 56 پبلک لمیٹڈ کمپنیوں کا بھی کچا چٹھا سامنے لانے کا حکم صادر کیا۔ گرد میں دبی فائلیں کھلنا شروع ہوئیں تو ماتھے پر شکن آنا اور جوابی گیند اُچھالنا فطری امر تھا۔ کرپشن گیند کے جواب میں کوئی پھول نچھاور نہیں کرتا۔ ایف آئی اے اور ایف بی آر سے مایوس ہو کر لوگوں نے نیب پر اُمید کی نظریں لگا دی ہیں۔ دوبئی میں پاکستانیوں کی 8 ارب ڈالر کی غیر قانونی سرمایہ کاری کا نوٹس بھی نیب ہی لے گی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیب کو بھگوڑے پرویز مشرف کی کرپشن کا حساب مانگنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ وہ ہاتھ لگے یا نہ لگے اسکے کرتوت تو سامنے آئینگے۔ نیب کی پلیٹ کیسوں سے بھرتی جائیگی، ہر ادارے کو کرپشن کی دیمک چاٹ چکی ہے۔ پنجاب گورنمنٹ سرونٹس ہائوسنگ فائونڈیشن کے اربوں روپے کے غیر استعمال شدہ فنڈز کا کوئی حساب نہیں مانگ رہا۔ یہ فنڈز مرحوم اور زندہ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کے ہیں جنہیں فائونڈیشن نے بنا بنایا گھر یا کم از کم پلاٹ دینے کی لالی پاپ دیکر ان کی تنخواہوں سے ہر ماہ پیسے کاٹ کر اپنی تجوری میں جمع کئے تھے۔ نیب کو اپنا دائرۂ عمل بڑھانے کیلئے ماہرین کی فوری ضرورت ہے۔ آڈیٹر جنرل اور پبلک اکائونٹس کمیٹیوں کی رپورٹیں ہی منہ میں انگلی دبانے کیلئے کافی ہیں۔ پانامہ کیس میں جے آئی ٹی کو سرکاری اداروں سے جس طرح تعاون نصیب ہوا کیا نیب کو اسی طرح کا تعاون دوبئی سرمایہ کاری اور مشرف کرپشن کیس میں بھی حاصل ہو سکتا ہے۔ سچ بولنا اور سچ اگلوانا آسان نہیں ہوتا۔ قطری خط نے کس طرح عزت دار لوگوں کی بے توقیری کی تھی۔نواز شریف نیب میں سوال و جواب کیلئے پیش ہونے کو تیار نہیں۔ نیب چیئرمین نے پنجاب حکومت کے عدم تعاون کا شکوہ کر دیا ہے جسے حکومت کے ترجمان نے غلط قرار دیا ہے۔ نیب کیلئے بھی عزت کا سوال ہے کہ وہ ملک بھر کے میگا کرپشن کیسوں کو بے نقاب کرے ۔ آئندہ الیکشن سے پہلے کرپشن کے سارے لاڈلوں کی تصویریں سامنے لائی جائیں ، الیکشن میں پانی کی طرح پیسہ بہانے والے متوقع اُمیدواروں کے ان نلکوں کا پتہ چلایا جائے جن سے پانی کی جگہ پیسہ بہہ رہا ہے وہ بھی عوام الناس کے استعمال کیلئے نہیں ۔ پارٹی تجوری بھرنے اور ٹکٹ لینے کیلئے سیاسی پارٹیوں کی بقا کیلئے ضروری ہے کہ سنیارٹی کے اصول کو اپنایا جائے۔ چودھری نثار نے بھی اسی طرف توجہ دلائی ہے ۔ فیملی کیبنٹ اور منتخب کیبنٹ میں فرق واضح دکھائی دینا ضروری ہے خود کو کوئی بھی کلین چٹ نہیں دے سکتا ۔ یہ چٹ صرف عدالت میں پیشی کے بعد ہی مل سکتی ہے۔ چودھری نثار کومریم اور نواز شریف بیانیے سے اختلاف ہے کہ احتساب عوام کی عدالت میں ہونا چاہئے۔ اگر ایسا ہونا درست ہے تو پھر ہر کوئی اپنے گھر کے باہر چند لوگ جمع کر کے اپنے حق میں نعرے لگوا سکتا ہے۔ بیروزگار مزدوروں کو دیہاڑی دے کر اپنی گلی بھر سکتا ہے۔ کرائے پر مکان، کراکری اور کرسیاں ہی نہیں بندے بھی مل جاتے ہیں۔ عدالتوں کے باہر کرائے کے گواہ دستیاب ہو جاتے ہیں۔ جمہوری نظام میں عدالتیں اور پارلیمنٹ اہم ہے یا جلسے اور ریلیاں۔ امریکہ جیسے ملک میں کوئی سیاست دان عدالتی فیصلوں پر اُنگلی اُٹھانے کی جرأت نہیں کرتا۔ پیپلز پارٹی میں بھی انوکھا پن یہ ہے کہ بھٹو کے جانثار ساتھی بھی زرداری اور بلاول کی پیروی کرنے پر مجبور ہیں۔ کیا خورشید شاہ ، رضاربانی اور اعتزاز احسن کا مذکورہ اصحاب سے کوئی تال میل ہو سکتا ہے۔ کیا قمر زمان کائرہ، شیری رحمان دوسرے نمبر کے پنجوں پر تالیاں بجانے کیلئے ہیں جمہوریت پارٹی کے اندر رہ کر اختیارات کی تقسیم کا نام ہے۔ اوپن کورٹ کی طرح سیاسی جماعتوں میں کھلی بحث کے بعد ٹکٹوں کی تقسیم کیوں نہیں ہوتی کیا سر یا میڈم نہ کہنے والے 2018ء کے الیکشن میں ٹکٹوں سے محروم رہیں گے۔احتساب کا موسم آیا ہے تو پھر موسم تو سب کیلئے یکساں ہوتا ہے ہوا چلے تو چوہے کے بل کے اندر تک پہنچ جاتی ہے۔ احتساب حاضر سروس اور ریٹائرڈ دونوں کا ہوتا ہے۔ نیب نے اب تک ریٹائرڈ فوجی افسروں کی ڈور بیل سے خود کو دور رکھا۔ ذرائع آمدن سے زیادہ اثاثے دکھائی دیں تو سب کے کان کھڑے ہوتے ہیں۔ مشرف نے ایک عشرہ حکمرانی کی انکے اثاثوں اور مال و دولت کا صحیح علم کسی کو بھی نہیں۔اگر ریٹائرڈ فوجی افسر بھی احتساب کی چھلنی سے گزرنا شروع ہو گئے تو فوجیوں کی توقیر میں کئی گنا اضافہ ہو گا۔