مقبوضہ کشمیر اسمبلی میں ’’پاکستان زندہ باد‘‘ نعرے کی گونج!

15 فروری 2018
مقبوضہ کشمیر اسمبلی میں ’’پاکستان زندہ باد‘‘ نعرے کی گونج!

بلاشبہ یہ انہونی ہوئی ہے بھارتی حکمرانوں بلکہ حکمران پارٹی کے تمام کارکنوں حتیٰ کہ دیگر سیاسی جماعتوں کے وابستگان کے حاشیہ خیال میں بھی نہیں ہوگا کہ سرینگر سمیت کشمیر کے طول و عرض میں گونجنے والا نعرہ، ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کی گونج مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے ایوان میں بھی سنائی دے گی۔ بھارتی حکمرانوں اور انتہا پسند ہندوئوں کو تحیر آمیز صدمے نے اپنی گرفت میں لے لیا ہو گا کہ یہ نعرہ کسی حریت رہنما، کسی مجاہد یا کسی عام کشمیری نے نہیں بلکہ بھارت نواز نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی اکبر لون نے لگایا اور حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ارکان کے پاکستان مخالف نعروں کے جواب میں لگایا گیا بی جے پی کے ارکان نے مقبوضہ وادی کے سنجوان کیمپ پر حملے کے حوالے سے ایوان میں ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف نعرہ بازی شروع کر دی سپیکر کیوندر گپتا نے علاقے میں موجود روہنگیا مسلمانوں کو اس حملے کی وجہ قرار دے کر نیا تنازع کھڑا کر دیا جس پر اپوزیشن ارکان نے سخت احتجاج کرتے ہوئے سپیکر سے الفاظ واپس لینے اور معافی کا مطالبہ کیا۔ بی جے پی ارکان نے پاکستان کے خلاف نعرے لگانے شروع کر دئیے جس پر فاروق عبداللہ کی پارٹی جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی اکبر لون نے جواب میں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا دئیے جس پر اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔ اس واقعہ سے بھارت میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک انتہا پسند ہندوئوں میں آگ لگ گئی۔ اور بھارت میں انتہا پسند رہنما اور نام نہا انسداد دہشت گردی محاذ کے صدر ویریش شنیڈلیا نے اکبر لون کا کٹا ہوا سر لانے والے کیلئے 25 لاکھ روپے انعام کا اعلان کر دیا۔ یہ جرأت مندی کا واقع ایسے موقع پر ہوا جب مقبوضہ کشمیر میں شہید کشمیر مقبول بٹ کی 34 ویں برسی منائی جا رہی تھی۔ حریت رہنمائوں سید علی گیلانی میر واعظ عمر فاروق، یاسین ملک، اشرف صحرائی، مختار واز، یوسف نقاش، بلال صدیقی اور دیگر کو گھروں، تھانوں اور جیلوں میں بند کر کے یہ سمجھ لیا تھا کہ آج کا دن منانے کی کوشش ناکام بنا دی گئی ہے۔ لیکن یقیناً یہ خبر حکمرانوں، انتہا پسندوں اور بالخصوص مقبوضہ کشمیر میں ظلم کے پہاڑ ڈھانے والی بھارتی فوج کے سروں پر ایٹم بم کی طرح گری ہو گی کہ سرینگر کے کوچہ و بازار میں بلند ہونے والے ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کے نعرے کی جلالی گونج سے اسمبلی ہال کے درو دیوار دہل گئے۔ مقبول بٹ کو 12 فروری 1984ء اور افضل گورو کو 9 فروری 2013ء کو جیل میں پھانسی دے کر شہید کیا گیا اور ان کی میتوں کو لواحقین کے حوالے کرنے کی بجائے جیل کے احاطے میں ہی دفن کر دیا گیا ہے۔ شہید کشمیر محمد مقبول بٹ کی 34 ویںبرسی پر وادی میں مکمل ہڑتال کی گئی۔ کشمیری عوام نے کاروبار زندگی معطل رکھ کر بھارت کے خلاف احتجاج کرکے ایک بار پھر باور کرادیا کہ وہ اسکی جارحیت کے سامنے جھکنے پر تیار نہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں جلسوں جلوسوں میں‘ مظاہروں اور احتجاجوں کے ساتھ ساتھ سکولوں اور کھیل کے میدانوں میں بھی پاکستان زندہ باد کے نعرے گونج رہے ہیں۔ نوجوان بھارتی سفاک فوج اور پولیس کے ساتھ مقابلوں میں شہید ہو کر پاکستان کے پرچم میں دفن ہونے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔ بچے گلیوں بازاروں اور سڑکوں پر اپنی جانوں پر کھیل کر پاکستان کا پرچم لہراتے اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں۔ اب تو مقبوضہ کشمیر اسمبلی میں بھی پاکستان زندہ باد کے نعرے گونج اٹھے ہیں جو بھارت کیلئے نوشتہ دیوار ہونا چاہیے۔ بھارت جتنا جلد ممکن ہو‘ حقائق کا ادراک کرلے‘ اس کیلئے بہتر ہے۔ اکھنڈ بھارت کے ایجنڈے کی تکمیل کیلئے سرگرداں بھارتی قیادت چور مچائے شور کے مصداق مقبوضہ کشمیر میں جدوجہد آزادی میں تیزی کا الزام پاکستان پر لگاتے ہوئے دھمکی آمیز زبان استعمال کرتی ہے۔ اسے ایل او سی پر پاکستان کی جارحیت نظر آتی ہے جس سے بڑا جھوٹ اور فریب کاری کوئی نہیں ہو سکتی۔ بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے بڑ ماری ہے ایل او سی پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی بند نہ کی گئی تو سخت جواب دیا جائیگا۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے الزام لگایا کہ پاکستان کی طرف سے بار بار معاہدے کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ بھارت پاکستان سے پرامن تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے تاہم یہ اسلام آباد ہی ہے جو بگاڑ چاہتا ہے۔ دنیا میں کسی بھی ملک کی سب سے زیادہ سخت سکیورٹی فوجی چھائونی اور فوجی کیمپوں کی ہوتی ہے۔ ان میں بھی کبھی کبھی دہشتگردی کے واقعات ہوجاتے ہیں مگر یہ واقعات بھی سکیورٹی لیپس کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی بربریت کو وہاں آزادی کا حق مانگنے والے چیلنج کررہے ہیں۔ گو جدید اسلحہ سے لیس اور لاتعداد بھارتی حکومت اور سفاک فوج نے اڑی کی طرح سنجوان کیمپ پر حملے کا الزام بھی بالواسطہ پاکستان پر لگایا ہے۔ بھارت کی ساڑھے سات لاکھ فوج انسانیت سوز قوانین کے ساتھ کشمیریوں کو بھارت کا ہمنوا بنانے کیلئے ظلم‘ جبر اور بربریت کا ہر حربہ آزما رہی ہے۔ اسے کشمیریوں کی طرف سے مزاحمت کا بھی سامنا ہے۔
فوجی کیمپ پر حملے کے دوران 2 بھارتی فوجی افسر ہلاک اور 6 اہلکاروں سمیت 9 زخمی ہو گئے۔ حملہ جموں کے مضافاتی علاقے سنجوان میں جموں‘ پٹھان کوٹ شاہراہ پر واقع فوجی کیمپ پرہفتے کی صبح تقریباً 5بجے ہوا۔ نامعلوم حملہ آوروں نے کیمپ کے باہر سنتری بنکر پر فائرنگ کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی تعداد تین تھی۔ پولیس سربراہ ایس پی وید نے کہا حملہ آوروں نے کیمپ کے عقب سے حملہ کیا۔ حملے میں فوج کا ایک جونیئر کمیشنڈ آفیسر، ایک نان کمیشنڈ آفیسر ہلاک اور 6 فوجی جوان زخمی ہوئے۔ بھارتی میڈیا نے بغیر ثبوت الزام لگایا کہ حملہ آوروں کا تعلق جیش محمد سے ہے۔ حملہ آوروں نے فوجی یونیفارم پہن رکھی تھی اور انکے پاس ہینڈ گرنیڈ اور دوسرا اسلحہ تھا۔ مقبوضہ کشمیر میں آٹھ لاکھ بھارتی فوج کے نہتے کشمیریوں پر جوں جوں ظلم و تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے انکے حوصلے پست ہونے کی بجائے ہمالہ کو چھو رہے ہیں۔ حتٰی کہ اب طالبات بھی ہر خوف سے بے نیاز ہو کر سڑکوں پر نکل کر آزادی کے نعرے بلند کر رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں واضح طور پر یہ تسلیم کیا گیا ہے جو بھارتی حکمرانوں کے وعدہ کے مطابق ہے کشمیر کو استصواب کے ذریعہ اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے گا کہ وہ پاکستان کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں یا بھارت کے ساتھ۔ مگر اس حوالے سے اقوام متحدہ کا رویہ بھی غیر منصفانہ رہا ہے محض زبانی جمع خرچ سے ہی وقت گزاری کا وطیرہ اختیار کر رکھا ہے عملی قدم اٹھانے یعنی مسئلہ کو حقیقی طور پر حل کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مندوب ملیحہ لودھی نے نیویارک میں کشمیریوں اور پاکستانیوں کے اجتماع سے خطاب میں بھارت پر واضح کر دیا کہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے حصول تک پاکستان ان کی حمایت جاری رکھے گا اور ان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ اقوام متحدہ میں کشمیر کا مسئلہ اب بھی زندہ ہے۔ پاکستان اور کشمیریوں کی جدوجہد انشاء اللہ جلد بارآور ثابت ہو گی۔ بھارت کے حکمرانوں نے کشمیریوں کی آواز دبانے اور انکے جذبہ حریت کو کچلنے کیلئے تمام حربے آزمائے مگر وہ سب ناکامی سے دوچار ہوئے نہ ہی آئندہ ان کی کامیابی کے امکانات ہیں، اس لئے بھارتی قیادت کو تسلیم کر لینا چاہئے کہ کشمیری اپنی آزادی کی منزل حاصل کر کے رہیں گے بہتر ہے وہ مذاکرات بلکہ اپنے وعدہ کے مطابق رائے شماری کا اہتمام کرے اور ان کے فیصلے کو خوش دلی سے قبول کر لے بصورت دیگر ہزیمت بلکہ عبرتناک شکست تو بہرحال بھارت کا مقدر ہے۔ دھوکہ اور فراڈ بھارتی حکمرانوں کی فطرت ثانیہ ہے جس کا اظہار مودی نے ان الفاظ میں کیا۔ اگر نہرو کی جگہ پٹیل وزیراعظم ہوتا تو مسئلہ کشمیر پیدا ہی نہ ہوتا یعنی وہ نہرو کی طرح اقوام متحدہ میں جھوٹا وعدہ بھی نہ کرتا۔