سچاراستہ

15 فروری 2018

کسی بھی مذہب کو ماننے والے لوگوں میں ہرطرح کی حیثیت رکھنے والے لوگ شامل ہوتے ہیں، کیونکہ اس دنیا کے نظام کو چلانے کیلئے مختلف پیشوں اور ان کا باہمی تعاون ضروری ہوتاہے، جس طرح حکمران کے ساتھ عوام کا ہونا، امن وامان کے ساتھ عدالت کا ہونا، افسروں کے ساتھ عملے کا ہونا،کشتی کے ساتھ ملاح کا ہونا، عبادت کے ساتھ عابد کا ہونا، غرضیکہ رات دن کا سورج وچاند کا کائنات کے ساتھ قادر مطلق کا ہونا ایک ضروری امر ہے۔ قادر مطلق بھی ہمارا ایک پیغمبرﷺ بھی ایک اور کتاب بھی ایک ہے، اسلام اس آمنہ کے لعل پہ جو اس کائنات کے ہونے کا سبب بنا، اور سنت رسول اکابرین دین کیلئے ایسا زندگی کا لائحہ عمل دے گیا جو اطاعت گزار کیلئے ہمارے معاشرے اور انسانی زندگی کو مختلف اخلاقی پہلوئوں کی ضرورت پڑتی ہے، ان اخلاقیات میں صلہ رحمی، عجزوانکساری، معافی ودرگزر، ایثار وقربانی، مستقل مزاجی،غیرت وخود داری، صداقت وسچائی، قناعت وتقویٰ ،اتحاد ویگانگت ،کسب حلال اور بہت سے اور پہلو بھی آتے ہیں۔یہ تمام اخلاقی پہلو ہمیں آپﷺ کی سوانح میں ملتے ہیں کتنی خوش قسمت ہے امت مسلمہ کہ اسے زندگی کا کوئی بھی معیار بنانے اور اخلاقیات کوجاننے کیلئے پورا عملی نمونہ مل گیا۔آج کا تاجر، تاجر طحٰہ کی تقلید کرے تو بدعنوانی، چور بازاری، ناپ تول میں کمی جیسی لعنت سے بچ سکتاہے، فقروتقویٰ کو اپنانے والا شعب ابی طالب کے محصور کی صورت آپ کی پیروی کرکے صحیح متقی وپرہیز گار بن سکتاہے۔ استاد اگر صفہ کے معلم کو نظر میں رکھے تو درس وتدریس کی تاریک راہوں میں مشعل روشن کرسکتاہے، ہمارے سپاہ اور جیالے اگر فاتح بدروحنین کے سپہ سالار کو نگاہ میں رکھیں تو دشمن دین کو تہس نہس کرسکتے ہیں، والدین اگر فاطمۃ الزہرہ کے پدر محترم کو نگاہ میں رکھیں توشفقت کی کرنیں اولاد کی زندگیوں کی تاریکی کومنورکر سکتی ہیں،اگر اسلام کے قاضی ومنصف کو پیروکار بنایاجائے تو پوری دنیا میں مملکت اعلامیہ کے عدل کا نہ صرف ڈنکا بجنے لگے بلکہ ہمارے اپنے جمہوری ملک کے اندر کرپشن ،بدعنوانی اور انتشار، خلفشار کی نہ ختم ہونے والی اندرونی جنگ بھی ہمیشہ کیلئے ختم ہوجائے، انہی تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اللہ نے فرمایا۔ ’’کہہ دیجئے کہ اگر تمہیں خدا کی محبت کا دعویٰ ہے تو آئو میری پیروی کرو‘‘ کیا ہم نہیں جانتے کہ اسلام سے پہلے اور پیغبر آخرالزماں سے پہلے ہر مذہب نے اطاعت گزاروں کو صرف تدابیر بتائیں جن کا خلاصہ یہ ہوتا تھا کہ مذہب کے شارع اور طریقے کے بانی جو عمدہ نصیحتیں بتائیں ان پر من وعن عمل کیاجائے۔لیکن ہمارے اسلام نے اس سے بڑھ کر جو تدبیر اپنائی وہ مذہب کے پرچار کی بہترین صورت تھی، ’’کہ حضرت محمدﷺ کو معبوث کیا۔ آپ پر کتابی صحیفہ قرآن پاک کو اتارا اور نبی کریمﷺ کے پلک چھپکنے کے عمل سے لے کر زبان کی ادائیگی اور قدموں کی چاپ سے لے کر انگلیوں کی جنبش تک ایسا عملی نمونہ ہمارے سامنے پیش کردیا کہ جنہوں نے قرآن پاک کو نہیں پڑھا تو وہ بھی حضور پاکﷺ کی سیرت میں اس کو مکمل پڑھ لیتے اور جنہوں نے آپﷺ کو نہیں دیکھا یا سنا وہ قرآن پاک کے ایک ایک حرف نقطہ اور شدومد کے اندر ان کے سیرت وسراپے کو دیکھ لیتے ہیں’’سبحان اللہ‘‘ہماری زندگیوں میں بگاڑ کی صورت تب پیدا ہوئی جب ہم نے اسلام کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے کی بجائے چھوڑ دیا اور غیراخلاقی عادات واطوار اپنا کراپنی مرضی سے اسلام کے اصولوں کو توڑنا مروڑنا شروع کردیا، ہمارے حضور پاکﷺ کی ذات بابرکت کو تو حضرت سلیمان ندوی نے بارش برسانے والے بادل کی مانند قرار دیا جس سے کائنات کا ہروجود ہرمیدانی صحرائی، جنگلاتی اور بحری اپنی اپنی صلاحیت کے مطابق سیراب وشاداب ہوتے ہیں، کہیں کوئی زرخیز ہوجاتاہے کہیں کوئی بنجر ہی رہ جاتاہے، ہرچیز اپنی فطرت جبلت اور ضرورت کے مطابق اس سے فیض یاب ہوتی ہے، اسی طرح حضرت محمدﷺ کی یکساں تعلیمات کے باوجود اپنی فطری صلاحیت ولیاقت کے مطابق کچھ لوگ آپ کی برکات سے مستفید ہوکر غلام سے سیدنابلال کے رتبے تک پہنچ گئے اور کچھ ابوجہل جیسے سردار غلاموں سے بھی بدتر حیثیت میں اس دنیا سے چلے گئے۔
صدیوں پہ صدیاں گزرتی چلی گئیں مگر آج بھی حضور پاکﷺ کی زندگی اسوہ حسنہ کی صورت اپنا کر ہم ترقی کی وہ منازل طے کر سکتے ہیں جو کہ آج کے وقت کی ضرورت ہے۔اگر حضرت محمدﷺ کی زندگی مشعل راہ ہے تو ہم نے کیوں اپنی اپنی زندگیوں میں اندھیرے بسا رکھے ہیں اس فانی دنیا میں ہم نے جو عمل و کردار اپنانا ہے اس کے مد ِنظر یہ ہونا چاہئے کہ اپنی ہمیشہ قائم رہنے والی زندگی کے لئے ہم اگر فقط اپنے نبی پاک کے اسوہ حسنہ کی پیروی زندگی کے ہر شعبے میں کر لیں تو شاید مٹی کے نیچے مٹی ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ ہمارے مردہ جسموں کو چمکتے ہوئے ہیرے کی مانند اٹھائے ۔۔۔۔ہم اگر اپنے آخری نبی پاک ﷺ کی اطاعت نہیں کرتے ۔ایمان کا پر چار نہیں کرتے تو ۔۔۔۔۔۔پھر ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ اپنے دین ،اپنے قرآن اور اپنے محبوب حضور پاک ﷺ کی حفاظت خود اپنے ذمے لے لے گا اور پھر ابابیل اتریں گی جن کی کنکریاں قوم کفار پر نہیں بلکہ ہم پر پھینکی جائیں گی اور ہمیں گردش دوراں سے کوئی بھی نہیں بچا نے آ ئے گا۔