لودھراں کے میدان میں معرکہ جمہوریت

15 فروری 2018

پاکستانی سیاست کی تاریخ بھی عجیب ہے۔ سازشوں، حماقتوں اور پھانسیوں کے ساتھ ساتھ جلاوطنی کے ابواب بھی اس میں شامل ہیں۔ کہتے ہیں جوتشیوں نے نہرو کو مشورہ دیا تھا کہ برصغیر کی آزادی 14 اگست کو طلوع ہو رہی ہے مگر بھارت اسے اپنا یوم آزادی قرار نہ دے کیونکہ 14 کا عدد پانچ بنتا ہے یہ عدد منگل یعنی مریخ سے وابستہ ہے جو خونریزی، قتل و غارت، اختلافات، فسادات، کشت و خون سے وابستہ ہے۔ مغربی علوم اعداد و سیارگان کے بڑے بڑے ماہرین بھی اسے (مارس کو) جنگ و جدال آگ و خون اور قتل و غارت گری کے ساتھ ساتھ بہادری اور شجاعت کی علامت قرار دیتے ہیں۔ یونانی ہو یا ہندی قدیم پراسرار علوم کے شائق جانتے ہیں کہ بہادری، خون آگ کی وجہ سے موت کا ستارہ بھی کہلاتا ہے۔ سو اسکی نسبت سے خوف کھا کر بھارت نے اپنا یوم آزادی 15 اگست رکھا جو 6 کے عدد کی نسبت سے زہرہ (ناہید) وینس یعنی خوبصورتی کی دیوی کی علامت ہے۔ جبکہ پاکستان نے اپنا یوم آزادی 14 اگست کو قرار دیا۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ پاکستان اپنے قیام سے لیکر آج تک سیاسی میدان میں مردانہ جدال و قتال کی کیفیت عام ہے۔ جبکہ ہندوستانی سیاست میں ایک عجیب سی نسوانیت پائی جاتی ہے۔ بہرحال یہ تو بات سے بات چل نکلی تھی مگر صاحبان علم جانتے ہیں کہ بطور مسلمان گرچہ ہم ان باتوں پر ایمان نہیں رکھتے مگر بطور علم یہ بات اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان کے پہلے وزیراعظم کے دور سے ہی مقتدر قوتوں کو حکومتی امور میں مداخلت کا ایسا چسکا پڑا کہ قائد ملت کی شہادت کے بعد انہوں نے کھل کر جوڑ توڑ کا کھیل کھیلنا شروع کر دیا۔ پاکستان کے جمہوری نظام کو سازشوں کے ایسے گھمن گھیرے میں پھنسا دیا کہ آئے روز وزیراعظم یوں بدلنے لگے گویا وہ شطرنج کے مہرے ہوں۔ یوں اسٹیبلشمنٹ اور عسکری قوتوں کا اتحاد جمہوری نظام کے خلاف مستحکم ہو کر کھڑا ہو گیا۔ بے شک سیاستدانوں میں اس کھیل کو سمجھنے میں غلطی رہی۔ وہ خود بھی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں بے جان مہروں کی طرح کھیلنے لگے۔ یوں تاریخ پاکستان میں جمہوریت اور آمریت کی کشمکش کا نیا باب لکھا جانے لگا جو ایوب دور سے شروع ہو کر مشرف دور تک جاری رہا۔ مشرف دور کے بعد جمہوری نظام کا پھر احیا ہوا تو ایک بار پھر وہی پرانی دونوں قوتوں نے اپنے اپنے مہرے چلانے شروع کر دئیے۔ جس کی وجہ سے سیاسی جمہوری حکومتیں قبل از وقت فارغ ہوتی رہیں صرف پیپلز پارٹی کی حکومت کو مسلم لیگ کی بھرپور حمایت کی وجہ سے اپنی مدت پوری کرنے کا موقع ملا۔ اب موجود مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو ابتدا سے ہی بحرانوں کی زد میں لانے کی کوششوں کا آغاز ہوا۔ اس بار پھر ایک سیاسی جماعت اور اس کا سربراہ اچانک جمہوری حکومت پر چڑھ دوڑا اور نامعلوم انگلی کے اشارے پر دھرنے اور جلسوں کی سیاست شروع ہو گئی جس میں ان کا ساتھ دینے کینیڈا کی شہریت رکھنے والے ایک مولوی بھی میدان میں آ گئے۔ یہ سارا ڈرامہ اس وقت رچایا گیا جب سی پیک منصوبے پر کام ہو رہا تھا ملک کی معاشی حالت بدلنے والی تھی۔ پھر سازشیں جاری رہیں ایک منتخب وزیراعظم عدالتی کارروائی کے ذریعے نااہل قرار پایا۔ تب حکومت مخالف عناصر اور سیاسی جماعتوں نے خوب ڈھول بجایا۔ مسلم لیگ (ن) اور شریف برادران کی سیاست کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔ مگر مسلم لیگ (ن) دور حکومت کے شروع کئے ترقیاتی منصوبوں اور فلاحی کاموں نے اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیا۔ بجلی کے بحران کا خاتمہ ہوا۔ معاشی ترقی کی رفتار تیز ہوئی چنانچہ اس سیاسی شور شرابے میں جتنے بھی ضمنی الیکشن ہوئے ان میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) نے بھرپور کامیابی حاصل کی۔ اب حال ہی میں لودھراں کے ضمنی الیکشن کا تو ذکر ہی علیحدہ ہے۔ یہ حلقہ تحریک انصاف کے قائد عمران خان کے نفس ناطق خزانوں کی کنجیوں کے مالک جہانگیر ترین کا ہے۔ وہ سچ کہیں تو تحریک انصاف کا دل ہیں جس کی بدولت عمران خان اور پارٹی کے جسم میں خون رواں دواں رہتا ہے۔ یہاں ان کی نااہلی کے بعد ضمنی الیکشن گزشتہ روز منعقد ہوئے اس معرکہ پر دنیا بھر کی نظریں لگی تھیں کیونکہ یہ مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کیلئے آنیوالے الیکشن کا آئینہ تھا جس میں دونوں کو اپنی شکل نظر آنا تھی۔ یوں سمجھ لیں یہ چاول کی دیگ کا وہ دانہ تھا جس کو اٹھا کر چیک کیا جاتا ہے کہ دیگ تیار ہے یا نہیں۔ تمام سیاسی قوتیں جانتی تھیں کہ یہ ضمنی الیکشن آنیوالے الیکشن کی صحیح تصویر دکھائے گا کہ آنیوالے الیکشن میں کس کا پلڑا بھاری ہو سکتا ہے۔ مختلف سیاسی جماعتیں، اسٹیبلشمنٹ اور خفیہ طاقتیں تحریک انصاف کے امیدوار کو وننگ ہارس کہہ رہی تھیں۔ یہاں دولت کا خمار اور وزن بھی اسی پلڑے میں تھا۔ مگر لگتا ہے عوام نے میاں نواز شریف کی نااہلی دل سے قبول نہیں کی اور انکی آواز پر لبیک کہتے ہوئے لودھراں میں سرمایہ دار مرکزی رہنما تحریک انصاف کے مقابلے میں مسلم لیگ ن کے ایک عام عہدیدار کو جس کا کوئی بڑا مالی یا سماجی بیک گرائونڈ نہیں تھا، ووٹ دیکر کچھ اس طرح کامیاب کرایا کہ خود مسلم لیگ (ن) والے بھی حیران ہیں۔ یہ کامیابی اصل میں مسلم لیگ ن کی موجودہ حکومت کی پالیسیوں، معاشی اقدامات اور ترقیاتی کاموں پر عوام کے اعتماد کا مظہر ہے۔ عوام صرف شور شرابے، الزامات اور دھمکیوں کی سیاست کے کرداروں اور رویوں کو مسترد کر رہے ہیں۔ عوام کے اس فیصلے کو تمام ادارے اور مقتدر قوتیں بھی اب دل سے تسلیم کر لیں یہی ملکی ترقی اور پاکستان کی خوشحالی کی راہ ہے۔ اختلافات اپنی جگہ ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی اپنی جگہ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام ادارے ملک میں جمہوریت کو جمہوری نظام کو چلنے دیں اس کا تحفظ کریں تاکہ ملک کا مستقبل روشن سے روشن تر ہو۔ لودھراں الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی سے پتہ چلتا ہے کہ عمران خان جن کے پاس ملک و قوم کو دینے کے لئے کچھ نہیں وہ صرف جلسوں میں شیخ رشید جیسے لوگوں کو ساتھ ملا کر دشنام طرازی کرکے عوام کا دل بہلاتے ہیں۔ دھرنے دے کر ملک کو بلاک کرنے کا شغل اختیار کرکے خود کو بڑا دھانسو قسم کا لیڈر ثابت کرنا چاہتے ہیں مگر اب لوگ اس طرز سیاست سے بیزار آ چکے ہیں۔ یہی لودھراں الیکشن کے نتائج کا پیغام ہے جو امید ہے خان صاحب کو اچھی طرح سمجھ آ گیا ہو گا۔