14ویں ترمیم کا ریکارڈ طلب‘ کیا خائن پارٹی سربراہ ہو سکتا ہے کوئی اخلاقیات ہیں یا نہیں: سپریم کورٹ

15 فروری 2018

اسلام آباد(نمائندہ نوائے وقت )سپریم کورٹ میں نواز شریف کی پارٹی صدارت سے متعلق الیکشن ریفارمز ایکٹ 2017ء کے حوالے سے کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 69 کے تحت پارلیمانی کارروائی کو تحفظ ہے بھی یا نہیں اس کو دیکھیں گے،گر بنیاد ختم ہوجائے تو پورا ڈھانچہ گر جاتا ہے،اگر پارٹی صدارت ختم کردی تو جن کو سینٹ کے ٹکٹ دیے گئے انکا کیا ہوگا؟ آپ (اٹارنی جنرل)نے اکثریت کیساتھ آئینی ترمیم کرنی تھی، مسلم لیگ(ن) کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے اپنے دلائل میں کہا کہ آرٹیکل 17 اور 19 نے سیاسی جماعت کے ارکان کو سربراہ کے چناؤ کا مکمل حق دے رکھا ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیامتفقہ طورپرتیار قانون آئین سے متصادم نہیں ہوسکتا ،قانون آئین سے متصادم ہونے پرکالعدم ہوسکتاہے ،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ قانون پر تمام سیاسی جماعتیں متفق تھیں کوئی اختلاف نہیں تھا۔چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کوئی چوری کرتے پکڑا جائے وہ سربراہ بن سکتا ہے کیا۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا پارٹی سربراہ بن سکتا ہے ، چیف جسٹس نے کہا کہ پارٹی سربراہ کے لیے کوئی اخلاقیات نہیں ہیں کیا، پارٹی سربراہ پر بہت ذمہ داری ہوتی ہے، پارلیمانی سیاست میں پارٹی سربراہ کا کردار نہایت اہم ہے۔سلمان اکرم نے کہاپارلیمانی پارٹی کسی سیاسی جماعت کے سربراہ کے پابند نہیں ہوتی، سیاسی جماعت کا سربراہ پارلیمانی پارٹی کے ممبر کو ہٹا نہیں سکتا۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ پارٹی سربراہ نااہلی کا کیس الیکشن کمشن کو بھیجنا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ سربراہ پارلیمانی کمیٹی کی سفارش کا پابند نہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سیاسی جماعت سربراہ کے گرد گھومتی ہے۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پارٹی سربراہ کسی رکن کو راست نااہل نہیں کرسکتا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کا موقف احمقانہ اور مضحکہ خیز ہے ،کیا پارٹی سربراہ کا حکومت سازی میں کردار ہے، الیکشن کمیشن سے ریکارڈ منگوایا ہے،دیکھنا ہے پارٹی ٹکٹ کون جاری کرتا ہے، دیکھنا ہے سینٹ الیکشن میں ٹکٹ کس نے جاری کیے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سیاسی جماعت کمپنی نہیں ہوتی، ایسا شخص جو پارلیمنٹ کا رکن نہ ہو کیا پارلیمنٹ کے اراکین کو کنٹرول کرسکتا ہے۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک میں سیاست دان نااہل ہوئے انہیں جلا وطن کیا گیا، حسین سہروردی سمیت مثالیں موجود ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ایسا شخص جسے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دیا گیا ہو وہ پارٹی سربراہ نہیں بن سکتا،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ کیا عدالت نااہل قرار دیئے گئے شخص کو بولنے کے حق و بنیادی حقوق سے متاثر کر سکتی ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ بنیادی حقوق سے محروم نہیں کرسکتی لیکن نااہل شخص پارٹی سربراہ نہیں بن سکتا، چیف جسٹس نے کہا کہ کیا خائن شخص پارٹی سربراہ بن سکتا ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کیا ڈرگ ٹائیکون پارٹی سربراہ بن سکتا ہے، سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ کوئی پابندی نہیں۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ اگر کوئی وار لارڈز ہو جس کی بنانا ریپبلک کی طرح اپنی فوج ہو کیا وہ پارٹی سربراہ بن سکتا ہے۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ اس معاملے کو پارلیمنٹ کی دانست ہر چھوڑ دیں،آرٹیکل 17 معاملے کو دیکھنے کیلئے کافی ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سلیمان اکرم راجہ صاحب بلڈ پریشر ہائی نہ کیا کریں، آگے بلڈ پریشر ہائی کرنے کی وجہ سے ایک دنیا سے چلی گئیں، بعدازاں کیس کی سماعت آج تک ملتوی کردی گئی ہے۔