وزارت داخلہ نیب کے خط پر عمل کرے ورنہ شرجیل کو بھی چھوڑنا ہوگا: خورشیدشاہ

15 فروری 2018

اسلام آباد (این این آئی ) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ نے وزارت داخلہ سے مطالبہ کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف ٗمریم نواز اور کیپٹن صفدر کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کیلئے نیب کے خط پر عملدرآمد کیا جائے ٗوزارت داخلہ نے نیب کے خط پر عملدرآمد نہ کیا تو شرجیل میمن کو آزاد کرنا پڑیگا ٗ قانون کے تحت سب کے ساتھ برابر سلوک کیا جانا چاہیے ٗمیثاق جمہوریت پر عملدرآمد میں نواز شریف بڑی رکاوٹ تھے ٗعوام کا راج اور جمہوریت چلنی چاہیے ٗادارے اپنا کام کریں ٗکوئی ادارہ دوسرے ادارے کے کام میں مداخلت نہ کرے ۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ شریف خاندان کے خلاف ریفرنس ہے شرجیل میمن کے خلاف ریفرنس بھی نہیں۔ خورشید شاہ نے کہا کہ شرجیل میمن خود پیش ہوئے تھے شریف خاندان کے لوگوں کو پکڑا گیا اور چھوڑا گیا جو غیر قانونی تھا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے میمو سکینڈل میں میثاق جمہوریت کا مذاق اڑایا۔ خورشید شاہ نے کہا کہ 2014 میں ن لیگ ہاٹ واٹر میں آئی تو پی پی ساتھ کھڑی ہوئی۔ میثاق جمہوریت کے تحت زرداری نواز شریف کے گھر گئے۔ خورشید شاہ نے کہا کہ میثاق جمہوریت کے تحت قانونی تبدیلیاں لانے میں نواز شریف اور انکے اپوزیشن لیڈر نے مخالفت کی۔ خورشید شاہ نے کہا کہ میثاق جمہوریت پر عمل ہوتا تو نواز شریف کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ انہوں نے کہا کہ میثاق جمہوریت کے تحت عدلیہ دو حصوں میں تقسیم ہونا تھی ٗ ایک آئینی اور ایک موجودہ، اس پر عمل ہوتا تو بڑا مسئلہ حل ہو جاتا۔ خورشید شاہ نے کہا کہ ججز تقرری کے طریقہ سے متعلق 18 ویں ترمیم میں نواز شریف نے رکاوٹ ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو آج انہی کی بدولت یہ دیکھنا پڑ رہا ہے۔ خورشید شاہ نے کہا کہ نیب پر متفقہ قانون لانے کا کہا تومسلم لیگ(ن) کے اپوزیشن لیڈر نے مخالفت کی۔ کس کے کہنے پر کیا ٗ انہیں آگے کیا نظر آ رہا تھا؟ سید خورشید شاہ نے کہا کہ جس قانون کے تحت نواز شریف پھنسے۔ ہم نے کوشش کی کہ پانامہ مسئلہ پارلیمنٹ میں حل ہو۔ خورشید شاہ نے کہا کہ ہم نے بہت کوشش کی پارلیمانی کمیٹی بنائی لیکن وہ باز نہ آئے۔ میاں صاحب نے سمجھا کہ معاملہ عدالت میں جانے سے لمبا چلے گا تو فائدہ ہو گا۔