شہریوں سے نہیں جرائم پیشہ افراد سے اسلحہ چھیننا ضروری ہے: ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ

15 فروری 2018

اسلام آباد (آن لائن) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں رانا شمیم احمد خان کی سربراہی میں ہوا۔ کمیٹی اجلاس میںوزارت داخلہ کے حکام نے بریفنگ دی۔ اس موقع پر وزارت داخلہ کی جانب سے کمیٹی کو غیر قانونی اسلحے کی روک تھام بارے بریفنگ دیتے ہوئے ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ نے بتایا کہ پر امن شہریوں سے قانونی اسلحہ نہیں چھین سکتے ،صرف جرائم پیشہ افراد سے غیر قانونی و قانونی اسلحہ چھیننا ضروری ہے۔ پنجاب اور سندھ میں نادرا کی مدد سے کمپیوٹرائزڈ اسلحہ لائسنس جاری کر رہے ہیں۔ اس موقع پر ممبر کمیٹی شیر اکبر نے کہا کہ کابینہ آٹو میٹک اسلحہ لائسنس ختم کرنے کا اپنا فیصلہ واپس لے ان کا مزید کہنا تھا کہ جب تک امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر بہتر نہیں ہوتی اسلحہ لائسنس ختم کرنے کا فیصلہ قابل عمل نہیں ہو گا اور اسلحہ لائسنس ختم کرنے کے اقدام سے کرپشن کا نیا دروازہ کھل جائے گا۔ کمیٹی اجلاس کے دوران اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل، پاکستان پینل کوڈ کے ترمیمی بل2017چائلڈ اور لیبر بل2016ء نیشنل ڈیٹا بیس اور رجسٹریشن اتھارٹی بل2017ء پر بھی بحث ہوئی۔ کمیٹی کو حکام نے اگلے مالی سال کے پی ایس ڈی پی بجٹ کے حوالے سے بھی بریفنگ دی۔ جس پر کمیٹی نے اگلے اجلاس میں متعلقہ حکام کو تفصیلات کے ساتھ پیش ہونے کی ہدایت کر دی۔