طالبان کی واشنگٹن کو مذاکرات کی پیشکش: عسکریت پسند کامیاب نہیں ہو سکتے: امریکی کمانڈر

15 فروری 2018

کابل ( نوائے وقت رپورٹ+صباح نیوز)افغان طالبان نے امریکہ کو مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔ ترجمان افغان طالبان نے اپنے کھلے خط میں کہا ہے کہ طاقت کی پالیسی مزید سو سال تک کامیاب نہیں ہو سکتی۔ امریکہ کے امن پسند عوام اور نمائندے مذاکرات کیلئے دباؤ ڈالیں۔ ٹرمپ کی جانب سے طالبان دہشت گردوں کے ساتھ بات چیت کرنے سے انکار اور ایک ماہ میں 200 سے زائد افراد کی خود کش دھماکوں میں ہلاکت کے باوجود افغان حکومت اور طالبان کے درمیان دوطرفہ مذاکرات کا عمل جاری ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق گزشتہ ماہ ترکی میں افغان حکام اور طالبان نمائندگان کے درمیان مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوگئے تھے تاہم اب مذاکراتی عمل دوبارہ سے شروع ہو گیا ہے، افغان انٹیلی جنس کے سربراہ محمد معصوم استانکزئی اور افغان صدر کے مشیر برائے قومی سلامتی امور محمد حنیف اتمار طالبان کے ساتھ مذاکرات کے عمل میں مصروف ہیں۔ افغان حکومت کے قائم کردہ افغان امن جرگے کے رکن حکیم مجاہد نے مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ہماری پہلی ترجیح امن کا قیام ہے، ہم طالبان سمیت دیگر قوتوں سے بھی مذاکراتی عمل جاری رکھیں گے۔ افغانستان میں نیٹو کمانڈر جنرل جان نکلسن نے ملٹری کانفرنس سے خطاب میں کہا ہے کہ طالبان اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ طالبان پچھلے سال کسی محاذ پر کامیاب نہیں ہوسکے۔ عالمی برادری کے ساتھ افغان عوام کی سپورٹ کیلئے موجود ہیں۔ نیٹو کے مطابق ملٹری کانفرنس میں دہشتگردی کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔