گوجرانوالہ سمیت مختلف شہروں میں ماموں بھانجے سمیت 6 لڑکوں سے زیادتی

15 فروری 2018

گوجرانوالہ،سانگلہ ہل‘ پسرور‘ اوکاڑہ‘ منڈی احمد آباد ، حجرہ شاہ مقیم (نمائندہ خصوصی+نامہ نگاران) مختلف واقعات میں اوباشوں نے ماموں بھانجے سمیت 6 کمسن لڑکوں کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ گوجرانوالہ کی عارف کالونی میں محنت کش جاوید کے 13 سالہ بیٹے کو اوباش عمر نے ورغلا کر زیادتی کا نشانہ بنا دیا۔ اوکاڑہ 15سالہ ساجد اور اسکے 10سالہ بھانجے احمدعلی کو محمدعلی نے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔ منڈی احمد آباد میں تیسری کلاس کے طالب طالب اسرار احمد کیساتھ خاکروب ناصرمسیح نے زیادتی کی۔ سانگلہ ہل کے نواحی چک 123 سرانوالی بھلیر میں 3اوباشوں ندیم،علی حسنین اور احتشام الحق نے 12سالہ فیصل کو ورغلا کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ پسرور میں ملزم شیراز ساتھی سے ملکر 10 سالہ فرحان کو زبردستی اپنی حویلی میں لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا۔دوسری طرف حجرہ شاہ مقیم میں طلباء و طالبات کے سیکس ویڈیو سکینڈل میں گرفتار پرنسپل کا انسداد دہشت گردی عدالت نے 5 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا جبکہ اوکاڑہ پولیس نے ملزم کے ایک ساتھی نو ید کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ اوکاڑہ پولیس نے ویڈیو سکینڈل کے ملزم پرائیویٹ سکول کے پرنسپل حافظ یوسف کو ساہیوال کی انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ملک شبیر حسین اعوان کے روبرو پیش کیا۔ فاضل جج نے پولیس کی استدعا پر ملزم کا 5 روزہ جسمانی ریمانڈ دیدیا۔ پولیس کے مطابق چائلڈ پورنوگرافی کے مذموم دھندے میں ایسے انکشافات بھی سامنے آئے ہیں جس میں دیگر ملزم بھی شامل ہیں جبکہ پولیس نے اسی گائوں کے رہائشی اور گرفتار مرکزی ملزم کے قریبی ساتھی حجام نوید کو بھی گرفتار کر کے تفتیش شروع کردی ہے۔ ملزم کے بارے میں اسکے گائوں کے مکینوں نے بتایا ہے کہ وہ پانچ بہنوں کا اکلوتا بھائی اور حافظِ قرآن ہے جبکہ وہ لیسکو واپڈا میں بطور اسسٹنٹ لائن میں ملازم بھی ہے اسکا باپ محمد یحییٰ بھی امامت کے پیشہ سے وابستہ ہے۔ علاوہ ازیں مرکزی ملزم حافظ محمد یوسف کی بوڑھی والدہ، بہن اور دیگر رشتہ داروں نے واقعہ کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ذاتی مخالفت کی بنا پر ویڈیو جیسا الزام لگایا گیا، ہمارا بیٹا بے گناہ ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب ہمیں انصاف دلائیں۔