لاہور : موٹر سائیکل سواروں نے جی سی یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر کو گولیاں مار کرقتل کردیا

15 فروری 2018

لاہور (نامہ نگار) قذافی میٹرو بس سٹیشن کے قریب موٹرسائیکل سوار دو نامعلوم حملہ آوروں نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر کو فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا اور فرار ہور گئے ہیں\ پولیس نے دیرینہ دشمنی اور ڈکیتی مزاحمت سمیت مختلف پہلوؤں پر تفتیش شروع کر دی ہے جبکہ ذرائع کے مطابق یہ معاملہ کسی لڑکی کا چکر لگتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹوبہ ٹیک سنگھ کی تحصیل گوجرہ کا رہائشی 50 سالہ تعظیم اکبر چیمہ جی سی یونیورسٹی میں باٹنی کا ایسوسی ایٹ پروفیسر تھا وہ اپنی بیوی، دو بیٹیوں اور ایک بیٹے کے ساتھ لاہور میں ملتان روڈ پر مرغزار کالونی میں رہائش پذیر تھا۔ شام کے اوقات میں وہ ایک سائنس اکیڈیمی میں بھی پڑھاتا تھا۔ منگل اور بدھ کی درمیانی شب وہ کار نمبر ایل ای 8137-13 پر فیروز پور روڈ پر قذافی میٹرو سٹیشن کے قریب کھڑا تھا کہ وہاں ایک موٹرسائیکل پر سوار دو نامعلوم افراد آئے۔ انہوں نے تنظیم اکبر چیمہ کو فائرنگ کرکے شدید زخمی کر دیا اور موٹرسائیکل پر فرار ہو گئے۔ اطلاع ملنے پر ریسکیو 1122 پولیس اور دیگر امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں انہوں نے زخمی تعظیم اکبر چیمہ کو طبی امداد کیلئے جناح ہسپتال منتقل کیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکے۔ اطلاع ملنے پر جی سی یونیورسٹی کے طلبہ سمیت ان کے شاگردوں کی بڑی تعداد ہسپتال پہنچ گئی۔ پولیس نے نعش قبضے میں لیکر پوسٹ مارٹم کیلئے مردہ خانے جمع کرا دی۔ پولیس نے مقتول کے بھائی تعظیم اکبر کی درخواست پر دو نامعلوم حملہ آوروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کر دی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق یہ واقعہ کسی لڑکی کا چکر بھی ہو سکتا ہے۔ علاوہ ازیں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کی سی سی ٹی وی کیمرہ فوٹیج بھی حاصل کر لی گئی یہ واقعہ ڈکیتی مزاحمت کا نہیں کیونکہ واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ مقتول فیروز پور روڈ پر کار کھڑی کرکے اس میں کسی کا انتظار کر رہا ہے جبکہ حملہ آور اس کی کار کے پاس آکر رکے اور انہوں نے مقتول سے کچھ دیر ڈیڑھ منٹ کے قریب بات چیت بھی کی جس کے بعد انہوں نے اسے گولیاں ماریں اور فرار ہو گئے، مقتول پروفیسر کو چار گولیاں لگیں۔ جن میں دو دائیں ران پر، ایک بائیں ران پر جبکہ ایک گولی سینے میں لگی ہے۔ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزموں کی تلاش شروع کر دی ہے۔ شناخت کیلئے فوٹیج ان کے رشتے داروں کو بھی دکھائی گئی ہے۔ علاوہ ازیں جی سی یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر کے قتل کی واردات پر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے نوٹس لے لیا ہے اور واقعہ کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے آئی جی پنجاب پولیس اور سی سی پی او لاہور کو احکامات جاری کئے ہیں کہ جلد از جلد ملزمان کا سراغ لگا کر انہیں قانون کی گرفت میں لایا جائے۔
پروفیسر قتل