قومی اسمبلی : ڈیزل پونے 41 ، پیٹرول پر 34 روپے ٹیکس لیا جارہاہے : حکومت

15 فروری 2018

اسلام آباد (صباح نیوز+ اے پی پی+ آئی این پی) قومی اسمبلی میں بدھ کو بچوں کے تحفظ اور فوجداری نظام انصاف ، قومی یونیورسٹی برائے ٹیکنالوجی کے قیام کے بارے میں تینوں بلز کی اتفاق رائے سے منظوری دے دی گئی۔ گزشتہ روز قومی اسمبلی کے سیکر سردار ایاز صادق کی سربراہی میں اجلاس ہوا جس میں وزیر برائے انسانی حقوق ممتاز تارڑ نے علاقہ دارالحکومت اسلام آباد میں اطفال کے تحفظ و نگہداشت کا انتظام کرنے کا بل پیش کیا ۔ ’’ دارالحکومت اسلام آباد تحفظ اطفال بل 2017ئ‘‘ سے موسوم کیا گیا۔ وزیر انسانی حقوق نے نظام برائے کم سن افراد بل 2017ء بھی منظوری کے لیے پیش کیا اسے بھی اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا جبکہ وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی دفاعی پیداوار رانا تنویر حسین نے اسلام آباد میں قومی یونیورسٹی برائے ٹیکنالوجی کے قیام کا بل پیش کیا جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ تحفظ اطفال بل 2017ء کے اغراض و مقاصد کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ممتاز تارڑ کہا کہ قصور جیسے واقعات سے ہر انسان کا سر جھک گیا، ایسے ظالمانہ اور وحشیانہ واقعات کی روک تھام کے لئے یہ بل منظور کیا جا رہا ہے، اس بل کے تحت بچوں کے تحفظ کے لئے منصوبہ بندی کی جائے گی جبکہ قومی اسمبلی نے بل کی اتفاق رائے سے منظوری دیدی۔ نظام انصاف برائے کم سن افراد بل 2017ء بارے تحریک پیش کی کہ نظام انصاف برائے کم سن افراد بل 2017ء زیر غور لایا جائے۔ تحریک کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی نے بل کی منظوری دے دی جبکہ وقفہ سوالات میں وفاقی وزیر انسانی حقوق ممتاز احمد تارڑ نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ 2013ء سے اب تک ملک بھر میں زیادتی کے17862کیس ہوئے جن میں پولیس کے پاس 13 ہزار 267 کیس رجسٹرڈ ہوئے، جن میں 25 مقدمات میں سزائے موت دی گئی، 11 کو عمر قید، دو کو 50 سال قید، ایک کو 39 سال قید، ایک کو 35 سال قید، ایک کو 33 سال سزا ہوئی، کل 112 مجرموں کو سزا ہوئی۔ شاہدہ رحمانی کے سوال کے جواب میں وزیر انسانی حقوق ممتاز تارڑ نے بتایا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد نابالغان اور بچوں کا موضوع صوبوں کو منتقل کر دیا گیا۔ گزشتہ پانچ سالوں کے دودران ملک بھر میں لڑکیوں سے زیادتی کے 10 ہزار 620 اور لڑکوں کے ساتھ زیادتی کے 7 ہزار 242 واقعات ہوئے۔ دوسری طرف قومی اسمبلی میں وزارت پیٹرولیم کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز کی تفصیلات پیش کردی گئیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ڈیزل کی ایکس ریفائنری قیمت 55 روپے 9 پیسے ہے جبکہ اِس وقت صارفین کے لیے ڈیزل کی قیمت 95 روپے 83 پیسے مقرر ہے۔ اس طرح فی لیٹر ڈیزل پر حکومت صارفین سے 40 روپے 74 پیسے ٹیکسز وصول کررہی ہے یعنی ڈیزل کے ہر لیٹر پر عوام سے 74 فیصد ٹیکس وصول کیا جارہا ہے۔ پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت 50 روپے 27 پیسے فی لیٹر ہے جبکہ صارفین کے لیے پیٹرول کی موجودہ قیمت 84 روپے 51 پیسے ہے۔ اس طرح ایک لیٹر پیٹرول پر حکومتی ٹیکسزکی شرح 34 روپے 24 پیسے ہے اور پیٹرول کی مد میں بھی حکومت اصل قیمت پر 68 فیصد ٹیکس وصول کررہی ہے جبکہ وقفہ سوالات میں وفاقی وزیر دفاعی پیداوار رانا تنویر حسین نے بتایا ہے کہ کامرہ میں کام کرنے والے گریڈ 17 کے اور اس سے بالا آفسران کے لئے 115 فلیٹ زیر تعمیر ہیں، مالی سال 2016-17ء اور 2017-18ء میں گریڈ 16 اور زیریں کے لئے 372 کوارٹرز زیر تعمیر ہیں۔ پارلیمانی سیکرٹری دفاع منصب علی خان ڈوگر نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ بھارت کی جانب سے یکم جنوری 2017ء سے اب تک سیز فائر کی ایک ہزار 394 خلاف ورزیاں ہوئی ہیں، 2013ء سے اب تک بھارتی فائرنگ سے 66 عام شہری شہید اور 228 زخمی ہوئے۔ بھارت کی فوج کی جانب سے مسلسل عام شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، پاکستان فوج مناسب انداز میں جواب دے رہی ہیں، اپنے شہریوں کی جان و املاک کے تحفظ کے لئے تمام ضروری حفاظتی تدابیر کر رہی ہے علاوہ ازیں اجلاس میں نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر صاحبزادہ طارق اﷲ نے کہا کہ سینٹ میں سیٹوں کی خرید و فروخت کا بازار گرم ہو چکا ہے اور اس طرح کی خبر یں آ رہی ہیں کہ سیٹیں خریدی جا رہی ہیں یہ معاملہ سینٹ کا ہے مگر میں پارلیمنٹ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اس حوالے سے قانون سازی کرے تاکہ ایوان کا استحقاق مجروح نہ ہو جس پر ڈپٹی سپیکر مرتضی جاوید نے کہا کہ یہ حساس معاملہ ہے اور میرے خیال میں اس حوالے سے بل پر کام ہو رہا ہے اس معاملے پر قانون سازی جلد ہو جانی چاہیے۔ اس مطالبہ کی کافی ممبران اسمبلی نے بھی تائید کی۔ وقفہ سوالات کے دوران ارکان کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے وزیر مواصلات جنید انوار نے ایوان کو آگاہ کیا کہ حویلیاں‘ تھاکوٹ موٹر وے کی مارچ 2020 تک تکمیل متوقع ہے لاہور‘ سیالکوٹ موٹر وے دسمبر 2018‘ سکھر ملتان موٹر وے اگست 2019 جبکہ کراچی حیدر آباد (ایم 9) بی او ٹی کی تکمیل مارچ 2018 تک متوقع ہے۔ ملک میں موٹر ویز کی فنڈنگ حکومت پاکستان نے ایشین ڈویلپمنٹ بنک اور ایگزم بنک سے ہورہی ہے۔ ممتاز احمد تارڑ نے ایوان کو بتایا کہ بچوں سے زیادتی کے واقعات کی روک تھام کے لئے وزارت قانون کررہی ہے لیکن عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ پولیس کی ناقص تحقیقات اور کچھ کمزوریاں ہیں۔ وزیر قانون محمود بشیر ورک نے ایوان کو بتایا کہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران قومی احتساب بیورو میں متروکہ وقت املاک بورڈ کے افسران‘ اہلکاران کے خلاف چھ کیسز رجسٹر ہوئے۔ وزیرمملکت برائے توانائی چوہدری عابد شیر علی نے کہا ہے کہ بجلی چوری سے نقصانات 40 فیصد سے زائد ہیں، صوبائی حکومتیں بجلی چوری کی روک تھام میں وزارت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات پر تعاون نہیں کر رہیں، لوڈ مینجمنٹ کے لئے اقدامات 31 مارچ تک مکمل کر لیں گے۔ چوہدری عابد شیر علی نے مزید بتایا کہ ملک میں اس وقت کوئی لوڈ شیڈنگ نہیں، مختلف علاقوں میں بجلی چوری کی شرح بہت زیادہ ہے، ہم اس میں 1.8 فیصد کمی لائے ہیں، ہم نے قانون منظور کرایا ہے، تاہم صوبائی حکومتوں کی جانب سے اس ضمن میں تعاون نہیں کیا جا رہا، ہم بجلی چوروں کے خلاف ایف آئی آر کٹواتے ہیں تو اس پر عمل نہیں ہوتا، مجبوراً ہمیں مین فیڈر بند کرنے پڑتے ہیں۔ انہوں نے سپیکر سے کہا کہ یہ قومی خزانہ اور پاکستان کی بات ہے اس سلسلے میں صوبوں سے کہیں کہ وہ تعاون کریں۔ شیر اکبر خان کے سوال کے جواب میں بتایا کہ چکدرہ گرڈ سٹیشن مارچ میں فعال ہو جائے گا۔ ہم اوور لوڈنگ کے معاملا مارچ 2018ء تک مکمل کر لیں گے، اپ گریڈیشن کا کام 31 مارچ تک مکمل ہو جائے گا۔
قومی اسمبلی