جائیداد ضبطی : احتساب عدالت نے اسحاق ڈار کی درخواست مسترد کردی ، نیب نے ضمنی ریفرنس کیلئے مہلت مانگ لی

15 فروری 2018

اسلام آباد (این این آئی+ نوائے وقت نیوز) احتساب عدالت نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی جائیداد ضبطی کیخلاف درخواست مسترد کرتے ہوئے چیئرمین نیب کے فیصلے کی توثیق کردی ہے۔ احتساب عدالت میں سابق وزیر خزانہ کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے سلسلے میں قائم کیے گئے نیب ریفرنس کے حوالے سے تفتیشی افسر کا بیان ریکارڈ نہیں ہوسکا۔ سماعت کے دوران نیب کے تفتیشی افسر نادر عباس پیش ہوئے اور ضمنی ریفرنس دائر کرنے کے لیے مہلت مانگ لی۔ نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ تفتیشی افسر کے علاوہ صرف ایک گواہ انعام الحق باقی ہے جس کا بیان ریکارڈ نہیں ہوا۔ نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ گواہ کی طبیعت خراب تھی، تاہم اب وہ بہتر ہے مگر اس کے باوجود پیش نہیں ہوا۔ پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ گواہ کو طلب کیا جائے، بیشک عدالت وارنٹ گرفتاری جاری کر دے جس پر احتساب عدالت کے جج نے گواہ انعام الحق کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ استغاثہ کے گواہ کو پیش ہونے کے لیے آخری موقع دے رہے ہیں۔ عدالت نے گواہ کو بیان ریکارڈ کرانے کیلئے آئندہ سماعت پر طلب کرلیا اور ریمارکس دیئے کہ بہتر ہوگا کہ ضمنی ریفرنس کے بعد ایک ہی بار تفتیشی افسر کا بیان ریکارڈ کر لیا جائے۔ بعدازاں اسحاق ڈار کے خلاف اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت 23 فروری تک ملتوی کردی گئی۔ احتساب عدالت نے اسحاق ڈار کی جائیداد ضبطگی سے متعلق درخواست مسترد کردی۔ عدالت کے جج محمد بشیر نے 7 فروری کو محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا اور اسحاق ڈار کے تمام الزامات مسترد کردیئے۔ عدالت نے کہا کہ جائیداد ضبطگی کا فیصلہ یہ تھا کہ جائیداد فروخت نہ کی جائے، عدالت کا وہ فیصلہ برقرار رہے گا، جائیداد فروخت نہیں کی جاسکتی۔
احتساب عدالت