معاملات طے پانے کے باوجود مدارس مساجد کا سروے قابل مذمت ہے: ڈاکٹر عبدالرزاق

15 فروری 2018

ملتان (نامہ نگار خصوصی) اتحاد تنظیمات مدارس پاکستان کے قائدین مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر مولانا مفتی منیب الرحمن ‘مولانا ریاض حسین نجفی ‘ مولانا عبدالمالک ‘ پروفیسر ساجد میر‘ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری‘ صاحبزادہ محمد عبدالمصطفیٰ ہزاروی‘ مولانا قاضی نیاز حسین نقوی‘ مولانا یاسین ظفر اور ڈاکٹر عطاءالرحمن نے ایک مشترکہ بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ صوبہ میں کسی طے شدہ پالیسی کے بغیر مدارس و مساجد کے سروے کو روکا جائے اس سے مدارس و مساجد میں بے چینی پیدا ہو گی جو صوبے اور ملک کے مفاد میں نہیں ہے ان قائدین نے کہا کہ ایک طرف حکومت وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی جنرل ناصرجنجوعہ کے توسط سے ہمارے ساتھ مکالمہ کر رہی ہے اور بہت سے معاملات طے پا چکے ہیں صرف قانون سازی کے حوالے سے پیشرفت کا انتظار ہے لیکن اچانک صوبہ سندھ کے لئے بھی پولیس سٹیشن کبھی رینجرز اور کبھی ایجنسیوں کے نمائندے ظاہر کر کے کچھ حضرات مدارس و مساجد میں آرہے ہیں اور پروفارمے بھرنے کے لئے کہہ رہے یں اس سلسلے کو روکا جائے۔
ڈاکٹر عبدالرزاق