بھارت خطے میں عدم استحکام اور امن کی تباہی کا ذمہ دار ہے پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ملک ہے وزیر دفاع

15 فروری 2018

اسلام آباد (نامہ نگار) وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ بھارت خطے میں عدم استحکام اور امن کی تباہی کا ذمہ دار ہے، امریکہ نے چین کے خلاف اسے اسٹریٹجک پارٹنر بنایا ہے۔ پا ک امریکہ تعلقات میں پیشرفت دھمکیوں اور امداد کی بندش سے نہیں جامع اور خوشگوار ماحول میں بات چیت سے ہوگی۔پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے، پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ملک ہے، اپنی کم سے کم دفاعی صلاحیت برقرار رکھے گا۔ ہم نے دہشت گردی اور توانائی کے چیلنجوں پر قابو پا کر اس کا عملی ثبوت دیا ہے۔ پاکستان ایک پرامن خودمختار اور ترقی کرتے افغانستان کا خواہاں ہے۔ ہم افغانستان کی داخلی خودمختاری اور سالمیت کا احترام کرتے ہیں لیکن یہ عمل دوطرفہ ہونا چاہئے۔ پا ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو ایوان بالا میں پالیسی بیان دیتے ہوئے کیا۔ خرم دستگیر نے کہا کہ ہمارے خطے میں امریکہ 15 سال سے ایک جنگ لڑ رہا ہے‘ گزشتہ ساڑھے چار سالوں سے مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ہمسایہ ملک ایران کے ساتھ تعلقات کو وسعت دی ہے۔ ہم نے رشین فیڈریشن سے دفاعی معاہدے کے ساتھ ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کیں۔ ہماری حکومت سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ دوستی کے لازوال رشتوں کو مزید مستحکم بنانے پر یقین رکھتی ہے۔ چین کے ساتھ تعلقات وقت کے ساتھ ساتھ مزید مستحکم ہو رہے ہیں اور دوستی کا یہ لازوال رشتہ گوادر پورٹ اور چین کو سی پیک کے ذریعے ملانے سے مزید مستحکم ہوگا۔ پاکستان اور چین افغانستان کی صورتحال پر یکساں موقف رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی طرف سے پاکستان مخالف سرگرمیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ہم کسی امداد یا مالی فائدے کے لئے اس جنگ میں شامل نہیں ہوئے تھے۔ ہماری سرزمین سے روزانہ 200 پروازیں کی گئیں‘ پاکستان نے 30 لاکھ سے زائد افغانوں کی میزبانی کی اور اب بھی کر رہا ہے‘ کیا کوئی اس کی قیمت لگا سکتا ہے۔ حالیہ امریکی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے 43.2 فیصد اضلاع افغان حکومت کے کنٹرول سے باہر ہیں‘ اس شرح میں مزید اضافہ ہوا ہے تاہم بدقسمتی سے اس کا اعتراف کرنے کی بجائے پاکستان پر الزام تراشی کا آسان راستہ اختیار کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان پناہ گزینوں کی اپنے وطن واپسی اور پاک افغان سرحد پر باڑ کی تنصیب سے الزام تراشی کا راستہ بند ہو جائے گا۔ پاکستان نے اپنی طرف سے سرحدی انتظام کو موثر بنانے کے لئے جامع اقدامات کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے سٹریٹجک بات چیت کا موثر سلسلہ ختم کیا جس سے باہمی رابطے کا آسان راستہ بند ہوگیا ہے۔
خرم دستگیر