واسا ملازمین نے ڈسپوزل پمپ بند کردیئے‘ زبردست احتجاج

15 فروری 2018

حیدرآباد(نامہ نگار)واسا ملازمین کو4ماہ کی تنخواہیں نہ ملنے کے خلاف ملازمین یونین نے تلسی داس روڈ پمپنگ اسٹیشن کو بند کرکے حکومت سندھ اور انتظامیہ کے خلاف احتجاجی دھرنا دیا۔ احتجاج کی قیادت عبدالمجید ، اعجاز حسین، اشفاق علی، نیاز حسین چانڈیو او ردیگر رہنمائوں نے کی۔ انہوں نے کہا کہ واسا ملازمین کو گزشتہ 4 ماہ سے تنخواہیں نہیں دی جارہی ہیں نہ ہی پنشنرز کی پینشن ادا کی گئی ہے جس کے نتیجے میں ملازمین کے گھروں کے چولہے بندہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ملازمین کو تنخواہوں اور مراعات سے محروم رکھنے کے ساتھ عارضی ملازمین کو مستقبل بھی نہیں کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے احتجاجا صبح 10 بجے سے دوپہر 12بجے تک حیدرآباد سٹی، لطیف آباد اور قاسم آباد کے تین سیوریج کے ڈسپوزل پمپ بند کرتے ہیں اگر اب بھی مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو احتجاجا بندش کا وقت بڑھا دیا جائے گا۔ دوسری جانب مہران ورکرز یونین حیدرآباد کے اعلامئے میں کہا گیا ہے کہ واٹر کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم کے فلٹر پلانٹ جامشورو روڈ کے کے دورے کے دوران ایچ ڈی اے مہران ورکرز یونین کے ذمہ داروں او رکارکنان نے انہیں واسا ملازمین کو چار ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے کے حوالے سے یادداشت پیش کی۔ اس موقع پر کمیشن کے سربراہ نے حکومت سندھ کے ذمہ داروں کو پابند کیا کہ دو روز کے اندر واسا ملازمین کا مسئلہ حل کیا جائے۔ علاوہ ازیں حیدرآباد پریس کلب کے سامنے بدھ کے روز بھی مختلف اداروں کے ملازمین اور دیگر نے اپنے مسائل حل کرانے کے لئے احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے دھرنے دیئے۔ سندھ اسمال انڈسٹریز اور ایمپلائز یونین نے ملازمین کو 10ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے کے خلاف شاہنواز چنہ، محمد جمن اور توفیق احمد کی قیادت میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ انہون نے مطالبہ کیا کہ ملازمین کو فی الفور 10 ماہ کی تنخواہیں ادا کی جائیں اور اپ گریڈیشن سمیت ملازمین کے تمام مطالبات تسلیم کئے جائیں۔ آل پاکستان کلرکز ایسوسی ایشن ایپکا نے کنٹریکٹ اور عارضی ملازمین کی مستقلی کے لئے ایپکا چیتئرمین ، دوست ع لی شیخ، عاشق علی بھنگر، امتیاز حسین ہاشمانی، فرمان علی بگھیو، مجید سمیجو ، شاہدہ میر جت اور دیگر کی قیادت میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ قاضی احمد کے گوٹھ جان محمد بروہی کے مکینوں نے دولت پور پولیس کی جانب سے جعلی مقابلے میںنوجوان محرم بروہی کو ہلاک کئے جانے کے خلاف احتجاج کیا۔ نیو سعید آباد کے مکینوں نے بااثر افراد اور پولیس کی زیادتیوں کے خلاف احتجاج کیا۔ حیدرآباد کے قدیم گورنمنٹ نور محمد ہائی اسکول کے استاد زاہد کاندھڑو نے 6 ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے کے خلاف اپنے طلبہ کے ساتھ احتجاج کیا۔ مزیدبرآں لطیف آباد میں واقع مہر علی ہائوسنگ سوسائٹی کچی آبادی کے مکینوں نے گھر مسمار کئے جانے پر سخت احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ معاملے کا نوٹس لے کر انہیں بے گھر ہونے سے بچایا جائے۔ اس حوالے سے محمد شریف ، انیس احمد، محمد اکبرا ور دیگر نے حیدرآباد پریس کلب میں پریس کانفرنس میں کہا کہ اگرچہ ان کے گھر قبرستان کی حدود میں نہیں آتے۔
ڈسپوزل پمپس بند