زینب کے قاتل کا اعترافی بیان قلمبند‘ وکیل نے مقدمہ لڑنے سے انکار کردیا

15 فروری 2018

لاہور (وقائع نگار خصوصی) لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قائم دہشت گردی عدالت نے زینب قتل کیس میں ملزم عمران کا بیان قلمبند کر لیا۔ جس میں ملزم نے اعتراف جرم کر لیا۔ عدالت نے فریقین کے وکلاء کو حتمی بحث کے لئے طلب کرتے ہوئے سماعت آج تک ملتوی کر دی۔ جج سجاد احمد نے کوٹ لکھپت جیل میں قائم خصوصی عدالت میں مسلسل نو گھنٹوں تک کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے ملزم عمران کا بیان قلمبندکیا۔ ملزم کے وکیل مہر شکیل نے عمران کا کیس لڑنے سے انکار کرتے ہوئے لاتعلقی کا اظہار کر دیا۔ مہر شکیل نے کہا ہے کہ ملزم عمران کی جانب سے اقرار جرم کے بعد ان کا ضمیر سفاک قاتل کا کیس لڑنے کی اجازت نہیں دیتا۔ محکمہ پراسیکیوشن کی جانب سے ملزم کو سرکاری وکیل مہیا کردیا گیا۔ پراسکیوٹر جنرل پنجاب نے محمد سلطان کو زینب کے قاتل کا وکیل مقرر کیا ہے۔عدالت نے تیتیس گواہوں کے بیانات قلمبند کرلئے ہیں۔ کیس کا فیصلہ آج محفوظ کئے جانے یا سنانے کا امکان ہے۔ عدالت عالیہ کے چیف جسٹس نے انتظامی نوٹس لیتے ہوئے کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرنے اور سات یوم میں ٹرائل مکمل کرنے کا حکم صادر کر رکھا ہے۔
زینب قتل
لاہور(وقائع نگار خصوصی) قصور ویڈیو سکینڈل کے دس ملزموں کی بریت کے خلاف حکومت پنجاب نے لاہور ہائیکورٹ میں اپیلیں دائر کر دی گئیں۔ یہ اپیل ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل پنجاب خرم خان نے ہائیکورٹ میں دائر کی۔ جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ انسداد دہشت گردی اور سیشن عدالتوں نے ملزموں کو ثبوت اور ویڈیوز موجود ہونے کے باوجود بری کر دیا۔ ملزموں کے خلاف تھانہ گنڈا سنگھ والا میں جنسی زیادتی اور ویڈیوز بنا کر بچوں کو بلیک میل کرنے کے متعدد مقدمات درج کئے گئے۔ جنسی زیادتی کے سکینڈل سے دنیا بھر میں ملک کی بدنامی ہوئی لہٰذا ملزموں کو بری کرنے کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیا جائے۔
پنجاب حکومت اپیلیں