نواز شریف کو جی ٹی روڈ مشورہ میڈیا کے وفد نے دیا: ترجمان نثار

15 فروری 2018

اسلام آباد (آئی این پی)سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار کے ترجمان نے کہا ہے کہ نواز شریف کا بذریعہ موٹروے لاہور جانے کا فیصلہ مری میں مسلم لیگ (ن) کی سینئر قیادت کی میٹنگ میں طے ہوا جس میں نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی سمیت پارٹی کے 10/11سینئر ترین ارکان موجود تھے، جہاں تک کسی کا میاں نواز شریف کو جہاز پر جانے کامشورہ دینے والے کا تعلق ہے اس کے بارے میں تو میاں نواز شریف ہی بتا سکتے ہیں مگر میٹنگ کے دوران کسی نے بھی یہ مشورہ نہیں دیا تھا، بہتر ہے کہ اس شخص کی بھی نشاندہی کر دی جائے تا کہ اس سارے قصے میں غیر ضروری ڈرامائی عنصر زائل ہو جائیں۔ ترجمان نے اپنے ایک وضاحتی بیان میں کہا کہ آج کل کے ماحول میں چونکہ ہر سیاسی بیان بڑی خبر بن جاتا ہے، اس لئے نشر کردہ کل کی خبر کی وضاحت ضروری ہے۔ ایک دو ارکان کو چھوڑ کر میٹنگ میں باقی سب کا فیصلہ تھا کہ سکیورٹی وجوہات کو سامنے رکھتے ہوئے میاں نواز شریف موٹروے کے ذریعے جائیں اور ان کا استقبال ہر انٹرچینج پر کیا جائے اور اختتامی استقبال لاہور میں داخلے کے بعد کیا جائے۔ترجمان کے مطابق یہ فیصلہ ریکارڈ پر ہے اور مری کی میٹنگ کے بعد اخبارات میں شائع بھی ہو چکا ہے، اس فیصلے میں تبدیلی کسی سیاست دان کے مشورے سے نہیں بلکہ اسی وقت ہوئی جب میڈیا کے ایک وفد نے میاں نواز شریف سے پنجاب ہائوس میں ملاقات کی اور انہیں جی ٹی روڈ سے جانے کا مشورہ دیا، اس پر میاں نواز شریف نے چوہدری نثار کو کہا کہ وہ ٹیلیفون پر میاں شہباز شریف سے رابطہ کریں اور سکیورٹی خدشات کے باوجود انہیں اس بات پر قائل کریں کہ پروگرام جی ٹی روڈ پر ہونا چاہیے، بھری محفل میں چوہدری نثار اٹھ کر گئے اور میاں شہباز شریف کو اس فیصلے سے آگاہ کیا اور واپس آ کر سب کے سامنے میاں نواز شریف کو اس بات سے آگاہ کیا کہ میاں شہباز شریف اس فیصلے سے متفق ہیں، اس سیدھے سادے عمل کو میڈیا کلپ کے ذریعے غلط رنگ دینا بدقسمتی ہے۔
ترجمان نثار