زرعی قرضوں پر بنکوں کو انکم ٹیکس سے مکمل استثنیٰ دیا جائے: قائمہ کمیٹی خزانہ

15 فروری 2018

اسلام آ باد ( نمائندہ خصوصی) قو می اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے حکومت کو زرعی ترقیاتی بنک سمیت دیگر بینکوںکو کسانوں کے لئے زرعی قرضوں کی فراہمی پر انکم ٹیکس سے مکمل طور پر استثنیٰ دینے کے متفقہ طور پر سفار ش کردی،ارکان کمیٹی نے ایف بی آ ر کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار کیا۔اجلاس میں شیر اکبر کی جانب سے سود کے خاتمہ کے حوالے سے بل کو مو خر کردیا گیا۔اجلاس میں نیشنل بینک میں ملازمین اور افسران کی ترقیوں میں میرٹ کی پامالیوں اور بے ضابطگیوں کے معاملہ پرسٹیٹ بنک کی رپورٹ پیش کی گئی۔چیئرمین کمیٹی قیصر احمد شیخ نے کہاکہ ملازمین کی ترقیوں کے حوالے سے معیار کو آخری وقت پر تبدیل کیا گیا۔ ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے نیشنل بینک میں ملازمین کی ترقیوں کے معاملہ پر نیشنل بینک کوکلین چٹ دی ہے۔ چیئرمین کمیٹی قیصر احمد شیخ نے کہاکہ زرعی ترقیاتی بینک کے انکم ٹیکس میں کمی کرکے کسانوں کو ریلیف دیا جا سکتا ہے۔وزارت خزانہ کے حکام نے آگاہ کیا کہ زرعی ترقیاتی بنک تقریبا 4ارب کا ٹیکس دیتا ہے۔ وزیر مملکت رانا افضل نے کہا کہ زرعی ترقیاتی بینک کو زندہ رکھنے کے لیے فنڈنگ کی گئی تھی۔بینک کے قیام کا بنیادی مقصد ملک میں زراعت کا فروغ تھا۔شروع میں زرعی قرضوں پر انکم ٹیکس نہیں تھا۔صوبوں کو زراعت کے فروغ کے لئے اپنے زرعی بینک بنانے کی ضرورت ہے۔کمیٹی اس حوالے سے صو بوں کوسفارش کرے۔مصطفی محمود نے کہا کہ زرعی ترقیاتی بینک کے لئے انکم ٹیکس کم کرنے کی تجویز درست نہیں ہے۔اس کی کارکردگی انتہائی خراب ہے۔ایسے اداروں کو اس طرح کی چھوٹ نہیں دینی چاہئے ۔ حکومت نجی شعبہ کی حوصلہ افزائی کرنا چاہیے۔اسد عمر نے کہا کہ اگر کوئی بھی بینک کسانوں کو قرضہ فراہم کرتے ہیں تو ان قرضوں پر انکم ٹیکس سے استثنیٰ دیا جائے۔
قائمہ کمیٹی خزانہ