خادم اعلیٰ کے منصوبے اے ٹی ایم کو ڈکار گئے

15 فروری 2018
خادم اعلیٰ کے منصوبے اے ٹی ایم کو ڈکار گئے

اپ سیٹ اور ایسا اپ سیٹ کہ ہر کسی کا سرچکرا کے رہ گیا۔ ہزاروں ایکڑ کا مالک اور لاکھوں مزارعین کا جا گیر دار جب ایک بار نااہل ہو گیا تھا تو عزت اسی میں تھی کہ وہ اپنی سیٹ کو اگلی نسل کی میراث نہ سمجھتا۔ اسے سیٹ چاہئے تھی تو سیدھے سبھاﺅ بیٹے کے لئے سینٹ کی سیٹ کی بھیک مانگ لیتا ۔ کپتان کو چودھری سرور اور جہانگیر تریں کے مقابلے میں تریں کے حق میں فیصلہ دینا پڑتا۔ ایک تو وہ ناہل ہونے کی وجہ سے مظلوم ہے، دوسرے جہاز کا مالک ہے،، کپتان کا پرانا خادم ہے اورا س معاشرے میں اس کی جڑیں پیوستہ ہیں۔چودھری سرور کے لئے صرف میری دعائیں کام نہ آتیں ۔ حالانکہ دولت و حشمت میں وہ ترین سے کسی طور کم نہیں ۔
میاںنوازشریف پھولے نہیں سماتے۔ کہتے ہیں کہ عوام ان کے حق میں مینڈیٹ پہ مینڈیٹ دے رہے ہیں اور عدالت کے فیصلے کو مسترد کر رہے ہیں۔
میاں نواز شریف کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ترین کو شکست ہو سکتی ہے، وہ خود لودھراں گئے، نہ مریم بی بی نے ادھر کا رخ کیا ۔ ،مگر جہا نگیر ترین کو شکست ہو گئی ، کیوں ہوئی، اس کے اسباب کا جائزہ لیا جاتا رہے گا۔ ایک بات ظاہر ہے کہ غیر حاضر لینڈ لارڈ کوعوام نے مسترد کر دیا ہے اور اس کے تنخواہ دار کارندوں کو گھاس ڈالنے کے لئے تیار نہیں ہوئے، حلقے کے لوگوں کو تھانے کچہری کام پڑ جائے تو وہ کہتے ہیں کہ کام ہو یا نہ ہو، ان کا نمایندہ ان کے ساتھ تھانے کچہری ضرور چلے تاکہ علاقے میں دھوم تو مچے کہ فلاں شخص کے ساتھ ایم این اے یا ایم پی اے باہر نکلا ہے۔
کہتے ہیں کہ ترین کی شکست میں لبیک تحریک نے جادو اثر دکھایا ہے۔ وہی دس ہزار ووٹ جو کم نکلے، وہ لبیک والے لے گئے۔ کہا جاتا ہے کہ لبیک والوں پر فرشتوں کا سایہ ہے تو یہی بات تحریک انصاف کے بارے میں بھی کی جاتی ہے۔عمران خان تو خود امپائر امپائر کی گردان کرتے رہے ہیں۔ اس لئے ترین کی شکست کو فرشتوں کے کھاتے میںنہیں ڈالا جاسکتا۔
مگر ترین کی شکست کی کوئی وجہ تو ہو گی۔ یہ تو ہوسکتاہے کہ دولت کے تکبر کو شکست ہوئی ہے، یہ بھی کہا جائے گا کہ اے ٹی ایم کو ہار ماننی پڑی ہے، یہ اندازہ بھی ہے کہ ملکی سیاست سے ہر اے ٹی ایم اور دولت کے انبار رکھنے والوں کو ہر الیکشن میں پاﺅں کی ٹھوکر میں رکھا جائے گا۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہماری سیاست سے دولت کی ہوس کو خارج کر دیا جائے ا وروو ٹوں کی خریدو فروخت اور ہارس ٹریڈنگ کا سلسلہ بند ہو جائے۔ اس کی طرف عوام نے پہلا قدم تو اٹھا لیا ہے مگرا س سلسلے میں ابھی بہت زیادہ جدو جہد درکار ہے۔
اے ٹی ایم کی شکست کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ تحریک انصاف کو صوبہ خیبر پی کے میں حکومت ملی رہی ہے، جبکہ ن لیگ کو پنجاب میں حکومت ملی رہی، پوری۔ دنیا جانتی ہے کہ پنجاب حکومت نے کارہائے نمایاں انجام دیئے اور نواز شریف نے بھی وفاقی سطح پر انقلابی اقدامات کئے ، عوام نے اس کارگزاری کا موازنہ کیا ہے اور یہی موازنہ ا گلے عام ا لیکشن میں کیا جانے کا امکان ہے۔اسی بنا پر نوازشریف اور ان کی پارٹی بھر پور توقع رکھتی ہے کہ وہ بھاری اکثریت سے اگلا الیکشن بھی جیتیں گے۔
اس جیت نے میاںنواز شریف کا حوصلہ بھی بڑھایا ہے کہ عدلیہ کے فیصلوں کے باوجود عوام نے ان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ وہ کہتے ہیں کہ لودھراں والوں کا شکریہ ادا کرنے کے لئے ان کی خدمت میں خود حاضر ہوں گے۔
اس الیکشن کے نتیجے نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ کانسٹی چیونسی کی سیاست کے خاتمے کا دروازہ کھل گیا ہے،۔پاکستان میں سینکڑوں سیٹیں صرف اس لئے جیتی جا تی ہیں کہ وہاں یا تو لینڈ لارڈز رہتے ہیں، یا وڈیرے اور صنعتکار رہتے ہیں، اور ان کے حلقوں کے لوگ ان کے چنگل میں بری طرح پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کی زندگیاں وڈیروں کے رحم و کرم پر ہوتی ہیں۔
معلوم نہیں کہ ملک میں وہ وقت کب آئے گا جب ووٹر آزادانہ اور غیر جانبدارانہ طور پر اپنی رائے کاا ظہار کر سکیں گے۔
ترین کی شکست نے عمران خان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے، وہ اگلے الیکشن کے بعد اپنے سر پہ تاج رکھنے کے خواہاں ہیں اور اس ضمن میں خاتون ا ول کی تلاش میں بھی رہتے ہیں۔وہ اگلے وزیر اعظم بننے کے نشے سے سرشار ہیں مگر لودھراں میں شکست فاش سے ان کا نشہ ہرن ہو گیاہے۔
عمران خان کی امیدیں بھی بڑی ہیں اورد عوے بھی بڑے ہیں، ایک ارب درخت لگانے کادعویٰ آج تک کسی شیخ چلی نے بھی نہیںکیا ہو گا۔ لاہور کی میٹرو بس کو جنگلہ بس کا طعنہ دینا اور اب پشاور میں اسی میٹرو کے منصوبے کو شروع کرنے کے اعلان نے ان کی شکست خوردہ ذہنیت کو نمایاں کر دیا ہے۔
دہشت گردی کی جنگ پر عمران کی سوچ قلا بازیاں کھاتی رہی ہے۔شروع میں بھی وہ طالبان کے حامی تھے، وہ ڈروں حملوں کے خلاف تھے۔ فوجی آپریشن کے خلاف تھے۔ پشاور اسکول کے سانحے کی وجہ سے وہ اپنی سوچ میں تبدیلی پر مجبور ہوئے مگر اب ٹرمپ کے بیانات کے بعد کم از کم وہ اے پی ایس کے سانحے کو تو بھول ہی گئے ہیں ۔ اور ایک بار پھر طالبان کے حامی بن گئے ہیں اور دہشت گردی کی جنگ کو امریکہ کی جنگ کہنے لگ گئے ہیں۔قوموں کی تقدیر کے فیصلے اس انداز میں ڈگمگاتی سوچ کے ساتھ نہیں کئے جاتے، عمران کی ان قلابازیوں سے وہ لوگ تو ضرور بدک رہے ہیں جن کے پیارے خود کش دھماکوںمیں شہید ہوئے۔ سہاگنیں بیوہ ہوئیں اور معصوم بچے یتیم ہوئے۔
عمران نے کہا تو ہے کہ وہ ا س شکست سے سبق سیکھنے کی کوشش کریں گے، اگر وہ کوئی سبق سیکھ سکیں تو اگلے الیکشن میں ایک صحت مند مقابلے کی توقع کی جا سکتی ہے ورنہ ن لیگ اس الیکشن میں سویپ کر جائے گی۔ تو عمران اس پر رونے دھونے کی کوشش نہ کریں اور حسب سابق دھرنوں کا راستہ اختیار نہ کریں۔ لوگ دھرنا سیاست پر بھی نکو نک آ گئے ہیں۔ لاہور کے جلسے میں خالی کرسیوں کا پیغام عمران کو ضرور سمجھنا ہو گا۔
عمران نے اس شکست سے کوئی سبق سیکھنا ہے تو اس کے لئے مواد میں ان کی خدمت میں پیش کرتا ہوں ۔ وہ اس بیلنس شیٹ پر ایک سرسری نظر ڈالیں جو صرف لودھراں میں خادم اعلیٰ کے منصوبوں کی عکاسی کرتی ہے اور اپنے پورے صوبے کی کار گزاری دیکھ لیں، انہیں صوبے میں یتیمی پر رونا آئے گا۔
لودھراں میں خادم اعلیٰ نے اپنے نو سالہ دور حکومت میں ایک دور رس انقلاب کی بنیاد رکھ دی ہے، اس انقلاب نے اے ٹی ایم سیاست کو ہڑپ کر لیا ہے۔خادم اعلیٰ نے اس دوران بائیس ارب صرف لودھراں پر خرچ کر ڈالے۔ ایک ارب تو صرف شعبہ تعلیم کی نذر کئے۔اس شہر میں بہاﺅالدین زکریا یونیورسٹی کا کیمپس بھی تعمیر کرایا۔پونے پانچ کروڑ روپے طالبات کو ماہانہ وظائف پر لگا دیئے۔ ساڑھے سات کروڑ سے کہروڑ پکا میں سپیشل ایجوکیشن سنٹر قائم کیا گیا۔چوہتر کروڑ شعبہ صحت پرصرف کئے۔ اور چالیس کروڑ روپے سے لودھراں کے ڈی ایچ کیو کو جدید سہولتوں سے آراستہ کیا جا ر ہاہے۔ ان ترقیاتی منصوبوں سے علاقے کا ہر شخص فیض یاب ہو رہا ہے جبکہ دوسری طرف کی اے ٹی ایم مشین صرف بنی گالہ کے اخراجات برداشت کر رہی ہے ۔
فرق صاف ظاہر ہے۔ ن لیگ کی کامیابی یقینی بات تھی۔ نوشتہ دیوار تھی، اس لئے نہ نواز شریف وہاں گئے، نہ مریم گئی اور نہ شہباز شریف گئے۔ ن لیگ کو پنجاب کے حالیہ تینوں ضمنی الیکشنوں میں بے مثال کامیابی ملی ہے اور یہ ایک روشن دلیل ہے خادم اعلیٰ کی کارگزاری کی جس نے ہتھیلی پر سرسوں جمائی ہے۔پہلے یہ محاورہ کتابوں میں پڑھتے تھے، اب یہ حقیقت پنجاب کے چپے چپے پر کندہ ہے۔ خادم اعلیٰ اس پر جتنا بھی فخر کریں ، کم ہے۔ یقینی امر ہے کہ نواز شریف اس پر بے ساختہ کہیں گے : ویل ڈن شہباز شریف!
٭٭٭٭٭