بھارت کی طرف سے سیز فائر کی خلاف ورزی

15 فروری 2018

گزشتہ دو ماہ سے بھارت کی طرف سے سرحدی حدود کی خلاف ورزیوں میں اضافہ دیکھا گیا جس سے سویلین آبادی متاثر ہورہی ہے اور سرحدوں پر گزشتہ دو ماہ کے دوران 107 سویلین زخمی اور 26 جان بحق ہوچکے ہیں۔ پاکستان بھارت کی طرف سے ہونے والی سیز فائر معاہدے اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی مذمت کرتا ہے۔
بھارت نے 2016 میں سرجیکل اسٹرائیک کا ڈرامہ رچایااور اب بھی ایل او سی پر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔ گزشتہ برس بھارت کی جانب سے ایک ہزار 970 مرتبہ جب کہ گزشتہ ہفتے متعدد بار لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بانڈری پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی۔
بھارت کی چالاکی یہ ہے کہ وہ اس موقع پر مغربی خبر رساں ایجنسیوں کے ذریعے اپنی بے گناہی کا موقف دنیا بھر میں پھیلا دیتا ہے جب کہ ہم دبی زبان میں تردیدیں ہی کرتے رہ جاتے ہیں حالانکہ ہمارے پاس لاشوں اور زخمیوں کی صورت میں ٹھوس ثبوت بھی موجود ہوتے ہیں۔اس سے قبل بھارت ایک سفارتی بہانہ بنا کر خارجہ سیکریٹریوں میں ہونے والی طے شدہ ملاقات کو منسوخ کر چکا ہے۔ پاکستان کو سرحدی خلاف ورزیوں پر عالمی سطح پر بھی آواز اٹھانی چاہیے اور بھارت کے ساتھ بھی پر زور احتجاج کرنا چاہیے۔
پاکستان میں تخریب کاری کے لئے بھارتی مداخلت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی۔ کلبھوشن یادو بھارتی مداخلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بھارت آج تک جواب نہیں دے سکا کہ کلبھوشن یادو کے پاس حسین مبارک کا پاسپورٹ کہاں سے آیا۔ ہم جنوری 2017 سے بھارتی جاسوس کی ریٹائرمنٹ کی دستاویزات مانگ رہے ہیں بھارت نے ابھی تک وہ دستاویزات بھی نہیں دیں۔
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پاکستان نے عالمی دباؤ پر کلبھوشن یادیو کی اہلخانہ سے ملاقات کرائی ہے ۔ اگر پاکستان کسی بھی طرح کا عالمی دباؤ لیتا تو پھر اسے قونصلر رسائی دیتا۔ لیکن پاکستان نے کلبھوشن یادیو کی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اس کے اہلخانہ سے ملاقات کرائی گئی تھی۔یادیو پاکستان میں دہشت گردی اور تخریب کارانہ سر گرمیوں کا اعتراف کرچکا ہے۔ صرف انسانی ہمدردی کے طور پر پاکستان نے اپنے وعدہ پور اکر دیا۔ بھارتی ہائی کمیشن کو دو ٹوک انداز میں آگاہ کیا تھا کہ صرف ملاقات دیکھ سکتے ہیں۔ ان کو کلبھوشن یادیو سے بات چیت کرنے یا سننے کی اجازت نہیں دی گئی۔ میڈیکل رپور ٹ کے مطابق کلبھوشن یادیو مکمل طور پر صحت مند ہے۔ کلبھوشن یادیو کی والدہ اور اہلیہ نے پاکستان کے جذبہ خیرسگالی پر شکریہ ادا کیا۔
پاکستان نے بھارتی میڈیا کو ملاقات کی کوریج کیلئے فوری ویزے جاری کرنے کی پیشکش کی تھی لیکن بھارت نے کہاکہ وہ ملاقات کی کوریج کا خواہاں نہیں ہے ۔ پاکستان کے پاس چھپانے کیلئے کچھ نہیں تھا لہذا سب کچھ کھول کر میڈیا کے سامنے رکھ دیا۔ کمانڈر یادیو نے درخواست کی کہ ملاقات کا کچھ وقت بڑھادیا جائے جس پر ملاقات کا وقت بڑھایا گیا۔
بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی اس کی والدہ اور اہلخانہ سے ملاقات کے بعد میڈیا کو بریفنگ دی۔ بریفنگ کے آ غاز میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کا ویڈیو پیغام دیکھایا گیا۔ کمانڈر کلبھوشن یادیو نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ میں کلبھوشن یادیو ہوں اور میرا انڈین نیوی نمبر 41558ہے۔ میں 2سال قبل ایران سے سرحد پار کر کے پاکستان میں داخل ہوا۔ جب بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘کے لئے کام کر رہا تھا اور پھر پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کے ہاتھوں بلوچستان میں گرفتار ہوا۔ پاکستانی حکام مجھ سے بہت عزت و وقار سے پیش آئے۔ ان کا رویہ بہت پیشہ وارانہ تھا۔ میں نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اپنی بیگم سے ملاقات کی درخواست کی اور مجھے بتایا گیا کہ میری بیگم اور میری ماں مجھ سے ملنے آرہی ہیں اور میں حکومت پاکستان کا اس بہترین اقدام پر شکرگزارہوں۔
کلبھوشن یادیو بھارتی دہشت گردی کا بدنما داغ ہے۔ بھارت نے ہمارے بہت سارے سوالات کے حوالے سے وضاحت نہیں کی۔ کلبھوشن یادیو نے پاکستان میں دہشت گردی کی سر گرمیوں کا اعتراف کیا وہ پاکستان میں بھارتی دہشت گردی کا چہرہ ہے۔ کلبھوشن تربت، کوئٹہ اور دیگر شہروں میں دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہا۔
بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت پاکستان مخالف بیانات دے رہے ہیں لیکن انہیں بتا دینا چاہتے ہیں کہ وہ جو بھی کہہ لیں شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن اور ہماری افواج ہر بھارتی جارحیت کا جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں اور پاکستان اپنے دفاع کے لئے تمام اقدامات کرے گا۔ بھارتی حکومت تو گیدڑ بھبھکیاں دیتی رہتی ہے مگر وہ بخوبی جانتی ہے کہ اگر اس نے ایسی کوئی غلطی کی تو اس کا اسے سخت خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔
پاکستان دہشت گردی کے خلاف بھرپور جنگ لڑ رہا ہے تاہم بھارت نہیں چاہتا کہ پاکستان میں دہشت گردی ختم ہو۔ آپریشن ردالفساد کے ذریعے گزشتہ سال ہزاروں آپریشن کیے گئے۔ جس میں کافی کامیابی حاصل ہوئی اور ساتھ ہی فاٹا میں حکومتی رٹ قائم کی۔ جس کے بعد 96 فیصد لوگ واپس اپنے گھروں کو واپس گئے۔
نریندر مودی خطے میں امن اور دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں تو انھیں مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پاکستان کی مذاکرات کی دعوت کو قبول کرکے خوش کن پیغام دینا چاہیے مگر وہ ایسا نہیں کر رہے بلکہ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے جنگ سے نفرت اور اس خطے کے مسائل کو حل کرنے کے صرف نعرے لگا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ بھی پاک بھارت تعلقات میں موجود کشیدگی اور بھارتی فوج کی سرحدی خلاف ورزیاں روکنے کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کر رہی جو اس خطے میں قیام امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔